بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

مولانا مودودی کی تفسیر سے درس


سوال

ایک تبلیغی جماعت لاہور سے آئی  اور وہ تفسیر مودودی کی پڑھ کر بیان کر رہے تھے،  بتایا گیا کہ  یہ بندہ مودودی ہے، اس کو  ساتھ  جوڑنے کے لیے اجازت دے رکھی ہے  بیان القرآن کی،  میں نے کہا:  ایک بندے کو خوش کرنے کے لیے  امت کو تباہ کر رہے ہو؟  مگر  وہ  نہیں مانے،  میں کچھ دن اس مسجد میں نہ گیا اور دوسری مسجد میں جاتا رہا،  کیا مودودی کی تفسیر پر درس دیا جا  سکتا ہے ؟ 

جواب

مولانا مودودی کی تحریروں میں کج روی ہے،  وہ  اپنے ترجمہ وتفسیر میں بھی  بہیترے مقامات پر جادۂ حق سے ہٹے ہوئے اور جمہور علمائے امت کی راہ سے پھرے ہوئے ہیں؛ چناں چہ علمائے حق نے ان کی گم راہ کن تحریرات کی بنا پر  انہیں گم راہ قرار دیا ہے، لہذا عوام ان کی تحریروں اور تقریروں کے پڑھنے  سننے سے اجتناب کریں، اسی طرح عوام میں مودودی صاحب کی تفسیر کے ذریعہ درسِ قرآن دینا بھی  درست نہیں، محض کسی شخص کو دین کی طرف راغب کرنے کے لیے اس کو عوام میں مودودی صاحب کی تفسیر سے درس دینے کی اجازت دینا سخت غلطی ہے؛  کیوں کہ کسی ایک شخص کو سیدھے راستے پر لانے کے لیے عام عوام کے عقائد کو خطرے میں ڈالنا کوئی عقل مندی کی بات نہیں، نیز جو شخص خود حق و ناحق میں تمییز نہیں کرسکتا، بلکہ غلط کو درست سمجھتا ہے اسے وعظ و بیان اور عوام الناس کی اِصلاح کے منصب کی ذمہ داری دینا شرعًا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کے فتاویٰ ملاحظہ فرمائیں:

مودودی صاحب کے بارے میں اکابرین کی آراء

مودودی صاحب کے عقائد اور ان کا حکم

مودودی صاحب کی کتابیں پڑھنا

مودودی صاحب کے بارے میں محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف البنوری رحمہ اللہ کا مضمون درج ذیل لنک پر ملاحظہ فرمائیں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200908

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں