بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گائے میں چھ لوگوں کے شریک ہونے کی صورت میں حصوں کی تقسیم

سوال

ہم چھ لوگ گائے میں حصہ لینا چاہتے ہیں،  آخری حصہ بغیر کسی حصے دار کے کس طریقے سے تقسیم کیا جائے گا؟

جواب

اگر کسی گائے میں سات سے کم افراد شریک ہوں اور سب نے برابر برابر رقم ادا کی ہو  تو افراد کی تعداد کے حساب سے گائے میں حصے تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔  لہٰذا صورت مسئولہ میں گائے کی قیمت مثلاً 60000 روپے ہو اور ہر فرد نے 10000 روپے دیے ہوں تو گائے کے چھ برابر حصہ کرکے ہر شریک کو ایک ایک حصہ دے دیا جائے۔ سات حصے کرنا لازم نہیں ہے۔

قربانی میں شرکت اور گوشت کی تقسیم میں صرف اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کسی بھی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو، زیادہ ہونے میں کوئی حرج نہیں۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتاویٰ ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں:

ایک جانور میں سات سے کم افراد کا شریک ہونا

قربانی کے گوشت کی تقسیم کا طریقہ

قربانی میں شراکت

قربانی کے گوشت کو تقسیم کے بغیر اکٹھے رکھنے کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144111201836
تاریخ21-07-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں