بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک جانور میں سات سے کم افراد کا شریک ہونا

سوال

 اگر قربانی کے جانور کے سات  حصے نہ ہو رہے ہوں تو کیا چھ  لوگ مل کر قربانی کر سکتے ہیں جب کہ آخر میں یہ لوگ مساوی گوشت تقسیم کر لیں؟

جواب

بڑے جانور میں سات سے زیادہ حصے منع ہیں، پورے سات حصوں کا ہونا ضروری نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں چھ افراد ایک جانور میں شریک ہوسکتے ہیں۔ پھر اگر چاہیں تو گوشت برابر برابر تقسیم کرلیں یا پھر سب مل کر کسی ایک شریک کو ساتویں حصے کا مالک بنادیں اور پھر وہ جس طرح چاہے اسے صرف کرے، یا وہ شریک ان سب کی طرف سے وہ حصہ کسی کے لیے ایصالِ ثواب کردے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143909201895
تاریخ15-08-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں