بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ربیع الاول 1442ھ- 24 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے گوشت کی تقسیم کا طریقہ


سوال

 قربانی کے گوشت کی تقسیم کا طریقہ کیاہے؟  کیاسات حصے کرنے چاہییں اور ہر شریک اپنے متعین حصے کو تین حصوں میں تقسیم کرے؟

جواب

اگر بڑے جانور میں کئی حضرات شریک ہوں تو ایسی  اجتماعی قربانی کے جانور کا گوشت شرکاء کے درمیان  تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں ہے، البتہ اگر تقسیم کرنا ہو تو وزن کر کے برابری کے ساتھ تقسیم کرنا لازم ہے، اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں ہے،  چاہے شرکاء  کمی زیادتی پر راضی ہی کیوں نہ ہوں، البتہ  اگر گوشت کی تقسیم کے وقت قربانی کے جانور کے دیگر اعضاء مثلاً کلہ، پائے،  وغیرہ کو بھی گوشت کے ساتھ رکھ کر تقسیم کرلیا جائے تو پھر تول کر تقسیم کرنا لازم نہیں ہوگا، بلکہ اندازے  سے کمی بیشی کے ساتھ تقسیم کرنا بھی جائز ہوگا۔

گوشت کی تقسیم کا  سب سے بہتر  طریقہ یہ ہے کہ اس میں سے ایک حصہ غرباء میں دےدے اور ایک حصہ رشتہ داروں میں دےدے  اور ایک حصہ خود رکھے۔

 لہذا  گھر کے افراد  مل کر اجتماعی قربانی کرتے ہیں اور گوشت تقسیم کیے بغیر گھر میں  اکٹھا رکھ دیتے ہیں  تو وہ اجتماعی طور پر باہمی رضامندی سے اس مستحب عمل کو ادا کرسکتے ہیں، اس طور پر وہ اجتماعی طور پر جانور کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کردیں ایک فقراء کے لیے ، ایک رشتہ داروں کے لیے، اور ایک اپنے لیے،  ورنہ بصورتِ دیگر ہر شریک اپنے حصے میں سے یہ تین حصے کرلے تو اس کے لیے یہ بہتر صورت ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 317):

"ويقسم اللحم وزناً لا جزافاً إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد) صرفاً للجنس لخلاف جنسه.

 (قوله: ويقسم اللحم) انظر هل هذه القسمة متعينة أو لا، حتى لو اشترى لنفسه ولزوجته وأولاده الكبار بدنة ولم يقسموها تجزيهم أو لا، والظاهر أنها لاتشترط؛ لأن المقصود منها الإراقة وقد حصلت".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200124

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں