بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے گوشت کو تقسیم کے بغیر اکٹھے رکھنے کا حکم


سوال

بڑے جانور کی قربانی میں اگر گھر کے ہی  حضرات حصہ لے رہے ہوں جیسے بھائی بہن ماں باپ تو کیا سبھوں کے لیے سات حصہ گوشت کرکے تقسیم کرنا ضروری ہے؟ اگر سب راضی ہو جائیں کہ ایک ساتھ ہی گوشت رہے تو کیا اس میں حرج ہے؟

جواب

اگر ایک جانور میں کئی حضرات شریک ہوں تو ایسی  اجتماعی قربانی کے جانور کا گوشت شرکاء کے درمیان  تقسیم کرنا شرعاً لازم نہیں ہے، البتہ اگر تقسیم کرنا ہو تو وزن کر کے برابری کے ساتھ تقسیم کرنا لازم ہے، اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں ہے، لہٰذا اگر گھر کے افراد  مل کر اجتماعی قربانی کرتے ہیں اور گوشت تقسیم کیے بغیر گھر میں  اکٹھا رکھ دیتے ہیں اور پھر اسی گوشت کو  پکاکر ایک ساتھ کھاتے ہیں تو ایسا کرنا جائز ہے اور اس صورت میں گوشت کو باقاعدہ تول کر حصوں کے موافق تقسیم کرنا ضروری نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 317):

"ويقسم اللحم وزناً لا جزافاً إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد) صرفاً للجنس لخلاف جنسه.

 (قوله: ويقسم اللحم) انظر هل هذه القسمة متعينة أو لا، حتى لو اشترى لنفسه ولزوجته وأولاده الكبار بدنة ولم يقسموها تجزيهم أو لا، والظاهر أنها لاتشترط؛ لأن المقصود منها الإراقة وقد حصلت".فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201246

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں