بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الاول 1442ھ- 29 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

شیشہ پینے کا حکم


سوال

کیا شیشہ پینا جائز ہے؟

جواب

شیشہ پینا فی نفسہ مباح ہے، تاہم کھانے پینے کی طرح مباح نہیں ہے، بلکہ غیر صلحاء کا معمول ہے؛ اس لیے بعض فقہاء نے اسے مکروہ (تنزیہی) کہاہے، اگر اس کی وجہ سے منہ میں بدبو ہو تو اس حالت میں مسجد میں داخل ہونا مکروہِ تحریمی ہے، مسجد میں داخل ہونے سے پہلے اسے زائل کرلینا چاہیے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

سگریٹ نوشی، شیشہ اور حقہ پینا

چرس، بھنگ، نسوار اور سگریٹ کا حکم
پان اور سگریٹ کا حکم

حقہ پینا

فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200055

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں