بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

اسمارٹ فون کا غلط استعمال


سوال

آج کل ہر عام و خاص کے پاس سمارٹ فون ہے،  عام سے مراد ہم اور خاص سے مراد علماءِ کرام۔  ہم جب کسی ایک بیان یا کلپ کو دیکھتے اور سنتے ہیں تو اگلی کلپ خود بخود سٹارٹ ہوجاتی ہے جو انتہائی بری گندی اور غلیظ ہوتی ہے،  اتنے میں ہماری  نظر اس پر پڑتے ہی شیطان کان میں کہتا ہے کہ دیکھ لیں آگے کیا ہوتا ہے اور یوں کرتے کرتے ہم گناہ میں غرق ہوجاتے ہیں تو ایسے میں اس چیز پر کس طرح توبہ و استغفار کی جائے گی؟

جواب

موبائل  کا جائز اور ناجائز استعمال دونوں طرح ہوسکتا ہے؛ لہٰذا اس کا جائز استعمال،  جائز ہے اور ناجائز استعمال ناجائز اور  گناہ کا ذریعہ ہے،  کیمرہ والے موبائل سے جاندار کی تصاویر والی ویڈیو  یا تصویر سازی حرام  ہے، اسی طرح جان دار کی تصویر والی ویڈیو  یا تصویر دیکھنا بھی جائز نہیں ہے خواہ وہ دینی اصلاحی ویڈیو کیوں نہ ہو، چہ جائے کہ فحش یا گندی ویڈیو دیکھنا، اس لیے اس معاملہ میں نہایت احتیاط کی ضرورت ہے، ایسی صورت میں بلاضرورت موبائل  کے استعمال سے گریز کریں اور کثرت سے توبہ واستغفار کریں۔

موبائل اور انٹرنیٹ کے منفی استعمال سے متعلق تفصیل، اور  ان سے بچنے کے طریقہ سے متعلق راہ نمائی کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کے ترجمان رسالہ ماہنامہ بینات کے مضامین کا مطالعہ مفید رہے گا:

  چناں چہ درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

انٹرنیٹ کے منفی استعمال کے نقصانات اور اُن سے بچنے کا طریقہ!

’’بینات‘‘ کے ایک بزرگ قاری کا فکر انگیز مکتوب

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201044

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں