بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

مبیع میں اضافہ کر کے لینے کا حکم


سوال

1۔میرا سوال یہ ہیکہ میرے بڑے بھائی اور والد صاحب غلہ کی تجارت کرتے ہیں اس میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جن پہ دلی طور پر تشفی نہیں ہورہی ہے، مثلا جب غلہ کسی سے خریدا جاتا ہے، تو ایک من پہ آدھا کلو یا 100 کلو پہ ایک کلو کٹ کیا جاتا ہے ،یعنی بائع کو قیمت 99 کلو کی دیتے ہیں ،لیکن لیتے 100 کلو ہیں، جب ان سے پوچھا جائے کہ یہ کٹ کیوں کیا جاتا ہے ،تو کہتے ہیں رواج ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

2۔اسی طرح ایک بندے سے سودا کیا جاتا ہے، سودا مکمل ہوجاتا ہے، پیسوں کی بات بھی ہوجاتی ہے کہ فلاں دن مل جائیں گے، لیکن مال ابھی تک بائع کے پاس ہے ،اور وہ بہت دور ہے، اگر مشتری ادھر سے ہی اس مال کو وہاں کے قریب کسی بیوپاری کو بیچ دے تو یہ کیا جائز ہوگا ؟

3۔اور تیسرا سوال یہ ہیکہ ایک عالم نے کہا کہ آج کل کے دور میں امت گمراہی کی طرف جارہی ہے علماء کی سخت ضرورت ہے، لہذا آج کل علماء کو تین سفر کرنے کیلئے والدین کی اجازت کی قطعاً ضرورت نہیں علم دین کا سفر چاہے درس ہو یا تدریس، تبلیغ کا سفر، اور جہاد کا سفر، کیا یہ بات صحیح ہے ؟ اور اگر اس سے والدین کو تکلیف ہوتی ہو یا وہ سخت ناراض ہوتے ہوں تو پھر کیا حکم ہے؟

جواب

1۔واضح رہے کہ عرف ورواج اگر غلط معروف ومشروع ہوجائے تو شرعاً اس کا کوئی اعتبار نہیں ،لہذا صورتِ مسئولہ میں مشتری کا 99کلوغلہ کے پیسے دے کر پورے 100 کلو غلہ لینا جائز نہیں ہے،البتہ اگر  کبھی بائع اپنی رضاورغبت سے مبیع میں اضافہ کرے تو یہ درست ہو گا،اور اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہو گا۔

واضح رہے کہ  منقولی اشیاء (زمین، دکان، فلیٹ وغیرہ کے علاوہ) کو خریدنے کے بعد قبضہ سے پہلے فروخت کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ فروخت سے قبل قبضہ ضروری ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں  مذکورہ مشتری کا    منقولہ اشیاء کو قبضہ سے پہلے آگے بیچنا  جائز نہیں ۔

3۔صورتِ مسئولہ میں اگرجہادفرض کفایہ ہوتووالدین کی اطاعت مقدم ہے،  اور اس صورت میں ان کی خدمت واطاعت کرنے ہی میں حدیث شریف کے مطابق جہادکاثواب ہے،اوراسی طرح بیٹے کے علمی یا تبلیغی سفر پر جانے کی صورت میں اگر والدین کے خرچہ کا انتظام نہ ہو، یا والدین ضعیف اور بیمار ہوں اور ان کی خدمت اور خبر گیری کے لیے اور کوئی موجود نہ ہو، تو والدین کی اجازت اور مرضی کے بغیر تبلیغ میں جانا جائز نہیں ہے،البتہ اگر جہاد فرض عین ہو جائے،یا مذکورہ اعذار نہ ہوں تو  پھر والدین کی اجازت کے بغیر بھی  مذکورہ اسفار کرنا جائز ہوگا ،البتہ بہتر یہ ہے کہ والدین کو راضی کر کے جائے ۔

 تینوں صورتوں کے تفصیلی احکامات جاننے کے لیے ،جامعہ کی ویب سائٹ پر موجود درج ذیل لنک ملاحظہ ہوں :

"والدین کی اجازت کے بغیر تبلیغ میں جانے کا حکم"

"جہادکے فرض عین وفرض کفایہ ہونے کی صورت اوروالدین کی اجازت"

"والدین کی اجازت کے بغیر مدرسہ جانا"

موسوعہ قواعد فقہیہ ہے:

"المعروف بالعرف كالمشروط بالنّصّ ....وفي لفظ: المعروف عرفاً كالمشروط شرطاً."

(‌‌القاعدة الثّالثة والسّتّون بعد الأربعمئة، ج:10، ص:749، ط:مؤسسة الرسالة، بيروت

فتاوی شامی میں ہے:

"(بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه  لا بیع منقول  ) قبل قبضه ولو من بائعه."

(كتاب البيوع،فصل فی التصرف فی المبیع،ج:5،ص:147، ط:سعید)

بدائع الصنائع ميں هے :

"(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «‌نهى ‌عن ‌بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني."

(کتاب البیوع،ج:5،ص :180ط: رشیدیة)

فتح القدیر میں ہے:

"ومن اشترى شيئًا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض."

(کتاب البیوع، باب المرابحة والتولية، فصل اشترى شيئا مما ينقل ويحول، ج: 6، صفحہ: 510 و511، ط: دار الفكر)

تبين الحقائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

 "لايجوز بيع المنقول قبل القبض؛ لما روينا ولقوله عليه الصلاة والسلام: «إذا ابتعت طعامًا فلاتبعه حتى تستوفيه» رواه مسلم وأحمد ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك قبل القبض؛ لأنه إذا هلك المبيع قبل القبض ينفسخ العقد فيتبين أنه باع ما لا يملك والغرر حرام لما روينا."

( کتاب البیوع، باب التولیة، فصل بيع العقار قبل قبضه، ج: 4، صفحہ: 80، ط: المطبعة الكبرى الأميرية  بولاق، القاهرة) 

شرح المجلہ لخالد الاتاسی میں ہے:

"للمشتري أن يبيع المبيع لآخر قبل قبضه إن كان عقاراً.......وإن كان منقولاّ فلا."

(کتاب البیوع، الباب الرابع فی بیان المسایل المعلقۃ بالتصرف۔۔۔الخ، الفصل الاول، ج: 2، صفحہ: 173 و174، المادۃ: 153، ط:  مطبعۃ حمص) 

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وقال محمد - رحمه الله تعالى - في السير الكبير إذا أراد الرجل أن يسافر إلى غير الجهاد لتجارة أو حج أو عمرة وكره ذلك أبواه فإن كان يخاف الضيعة عليهما بأن كانا معسرين ونفقتهما عليه وماله لا يفي بالزاد والراحلة ونفقتهما فإنه لا يخرج بغير إذنهما سواء كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه كركوب السفينة في البحر أو دخول البادية ماشيا في البرد أو الحر الشديدين أو لا يخاف على الولد الهلاك فيه وإن كان لا يخاف الضيعة عليهما بأن كانا موسرين ولم تكن نفقتهما عليه إن كان سفرا لا يخاف على الولد الهلاك فيه كان له أن يخرج بغير إذنهما وإن كان سفرا يخاف على الولد الهلاك فيه لا يخرج إلا بإذنهما كذا في الذخيرة."

(كتاب الكراهية، الباب السادس والعشرون في الرجل يخرج إلى السفر ويمنعه أبواه أو أحدهما،5/ 365، ط: رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144409101374

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں