بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جہادکے فرض عین وفرض کفایہ ہونے کی صورت اوروالدین کی اجازت


سوال

سوال یہ ہے کہ جہاد/قتال کی فرضیت کی نوعیت کیا ہے؟ فرض عین  اور فرض کفایہ کب ہوتاہے؟ والدین کی اجازت کے بغیر جہاد کے لئے جا سکتے  ہیں کہ نہیں؟ اگر کسی کے والدین حیات ہوں تو ان کی خدمت ضروری ہے یا جہاد کا فریضہ ادا کرنا۔

جواب

جہادکے فرض عین اورفرض کفایہ ہوناحالات وواقعات پرمنحصرہے،کتب فقہ میں مذکورہے کہ کسی بستی پرکفارحملہ کردیں توا س بستی کے رہنے والوں پرجہادفرض ہوجاتاہے،اوراگراس بستی کے افرادکافی نہ ہوں توقریب ترین بستی کے لوگوں پرجہادفرض ہوجاتاہے،اوراسی طرح اگرمسلمانوں کاحاکم یہ اعلان کردے کہ تمام لوگ جہادکے لیے نکل کھڑے ہوں تواس صورت میں جن جن لوگوں پروہ اعلان عائدہوتاہے ان پرجہادکے لیے نکلنالازم ہوگا،جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پراعلان فرمایاتھا۔ان دوصورتوں کے علاوہ دیگرمواقع پرجہادفرض عین نہیں ہوتافرض کفایہ ہوتاہے۔

فقہاء کرام نے لکھاہے کہ اگرجہادفرض عین ہوجائے تووالدین کی اجازت کے بغیرجانابھی درست ہے ۔اوراگرفرض کفایہ ہوتووالدین کی اطاعت مقدم ہے  اور اس صورت میں ان کی خدمت واطاعت کرنے ہی میں حدیث شریف کے مطابق جہادکاثواب ہے۔اس کی تفصیل کتب فقہ میں مذکورہے۔


فتوی نمبر : 143701200004

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے