بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ارطغرل ڈراما


سوال

ارطغرل ڈراما دیکھنا کیسا ہے؟

جواب

مذکورہ ڈراما  ہو  یا کوئی اور ڈراما  یا فلم، دیکھنا شرعاً جائز نہیں۔

الدر المختار میں ہے:

"قلت: وفي البزازية: استماع صوت الملاهي - كضرب قصب، ونحوه - حرام؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: "استماع الملاهي معصية، والجلوس عليها فسق، والتلذذ بها كفر" أي: بالنعمة، فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة، لا شكر، فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لايسمع؛ لما روي أنه عليه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه، وأشعار العرب لو فيها ذكر الفسق تكره، اهـ أو لتغليظ الذنب، -كما في الاختيار -، أو للاستحلال، - كما في النهاية -". ( الشامية، كتاب الحظر و الإباحة، قبيل فصل في اللبس، ٩/ ٥٠٤، ط: دار عالم الكتب) فقط والله أعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

ارطغرل نام کا ترکی ڈراما دیکھنا کیسا ہے؟

خلافت عثمانیہ پر بنائی جانے والی فلم کے دیکھنے کی دعوت دینا

ارطغرل ڈرامہ کا دیکھنا اور عورتوں کا ڈراموں میں دکھانا

ارطغرل ڈرامہ دیکھنا

ارطغرل ڈراما دیکھنے کا حکم


فتوی نمبر : 144108201904

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں