بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

ارطغرل ڈرامہ دیکھنا


سوال

’’ارطغرل‘‘  ڈرامے  کا دیکھنا جائز ہے یا ناجائز؟ اس حوالے سے ایک سوال و جواب نقل کر رہاہوں، اسے دیکھ کر شرعی حکم سے آگاہ فرمائیں!

’’ترکی ڈرامے ارطغرل کا شرعی حکم

قابلِ توجہ سوال:

ترکی حکومت کے زیرِ اہتمام ایک سیریل بنام *دیریلیش اِرْطَغْرَل* جس کی 2014 کے دسمبر سے 2019 کی مئی تک 150 قسطیں آچکی ہیں، اکثر قسط کا دورانیہ دو گھنٹے  کم و بیش ہے جو کہ پوری دنیا میں بہت دیکھا جارہا ہے خصوصاً مسلمانوں میں زیادہ رائج ہے۔ عوام کے ساتھ ساتھ بعض خواص بھی اس سیریل کے دیکھنے کے بہت عادی ہوگئے ہیں۔ تُرک حکومت یہ سیریل اس واسطے بنوا رہی ہے کہ لوگوں کو خلافتِ عثمانیہ کی پوری کہانی معلوم ہوجائے۔  اس سیریل کا حال یہ ہے کہ اس میں عشق و معشوقی کو بھی رکھا گیا ہے۔ خوب صورت لڑکیوں اور عورتوں نے اس سیریل میں اپنے کردار انجام دیے ہیں، شاید ہر قسط کے آخر میں دعا بھی کی جاتی ہے۔ طیب اردگان اور ترک کے وزیر اعظم وغیرہ اس سریل کے حمایتی ہیں۔

الحمد للہ بندہ عاجز نے اب تک ایک قسط کا کچھ حصہ بھی نہیں دیکھا جو کچھ بیان کیا وہ دوسرے سے سن کر اور کچھ یوٹیوب وغیرہ سے معلومات حاصل کرکے بیان کیا۔ البتہ دیکھنے والوں کا دیوانہ پن دیکھا، ایسا لگتا ہے کہ دیکھنے والوں کو دیکھنے کا نشہ چڑھ گیا ہے۔

مسئلہ یہ دریافت کرنا ہے کہ کیا شریعت ایسے سیریل بنانے اور ان کو دیکھنے کی اجازت دیتی ہے؟  ایسا سیریل بنانا اور اس کا دیکھنا دونوں کا کیا حکم ہے؟  اس طرح کے سیریل پر پیسے خرچ کرنے والوں کا کیا حکم ہے؟ معذرت کے ساتھ یہ سیریل عام ہورہا ہے؛ اس لیے اس کے متعلق مسئلہ گروپ ہی میں پوچھنا مناسب لگا؛ تاکہ اس کے متعلق حکم سب کو معلوم ہوجائے۔ (المستفتی : شجاع الدین، مالی گاؤں)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب وبالله التوفيق:

ارطغرل غازی یا Ertugrul Dirillis ایک ترکی تاریخی ڈراما ہے، جس میں خلافتِ عثمانیہ کے بانی عثمان کے والد ارطغرل اور ان کے قبیلہ کے حالات کو فلم بند کیا گیا ہے، لیکن اس کے تمام واقعات مستند اور تصدیق شدہ نہیں ہیں، بلکہ اس داستان میں سچ اور جھوٹ دونوں کی آمیزش ہے۔ معتبر ذرائع سے ملی اطلاع اور آپ کے سوال سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس ڈرامے کے کردار و مناظر بڑے سحر انگیز ہیں، جس کی وجہ سے عوام و خواص، بلکہ دِین دار افراد تک اس پر فریفتہ ہیں اور اس کے دیوانے بنے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ بعض نام نہاد علماء اور خود ساختہ مفکرین بڑے بڑے مضامین لکھ کر اس کو دیکھنے کی دعوت دے رہیں؛  لہٰذا ایسے حالات میں ضروری ہوجاتا ہے کہ اس قسم کے ڈراموں کی شرعی حیثیت کو واضح کیا جائے، اور لوگوں کی صحیح راہ نمائی کی جائے!‘‘

جواب

کسی بھی جائز مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ناجائز طریقہ اپنانا درست نہیں،  خلافتِ عثمانیہ کے تاریخی دور کی روئیداد  تاریخ کی کتابوں کے مطالعہ اور اس سے متعلق لٹریچر عام کرکے ہوسکتی ہے؛ اس کے لیے فلم، ڈراما بنانا اور دیکھنا جائز نہیں ہے۔ نیز  اگر سوال میں مذکورہ مفاسد بھی اس میں پائے جاتے ہیں تو یہ قباحت اس پر مستزاد ہے۔  فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے ہماری ویب سائٹ پر اس سے متعلق فتویٰ موجود ہے ملاحظہ ہو،  فتویٰ نمبر: 144105200785

ارطغرل ڈرامہ دیکھنے کا حکم


فتوی نمبر : 144105200813

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں