بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1441ھ- 13 اگست 2020 ء

جامعہ کا نظم ونسق

جامعہ کا نظم ونسق

جامعہ کے بانی حضرت علامہ بنوری رحمہ اللہ کی دو مجلس شوریٰ تھیں، ایک خاص اور دوسری عام، "مجلس خاص" جامعہ کے منتخب اساتذہ پر مشتمل تھی، جن سے جامعہ کے خاص انتظامی امور میں آپ مشورہ فرماتے تھے، اور "مجلس عام" میں جامعہ کے تمام اساتذہ شامل تھے، اس مجلس میں علمی اور درسی امور کے متعلق مشورہ ہوتا تھا۔

حضرت اقدس مولانا بنوری نور اللہ مرقدہ کی وفات (3 ذو القعدہ 1397ھ مطابق 17 اکتوبر 1977ء) کے تین دن بعد جامعہ کی شوریٰ کا اجلاس ہوا اور تمام ارکان نے مولانا مفتی احمد الرحمٰن رحمہ اللہ (جن کو حضرت مولانا نور اللہ مرقدہ نے اپنی حیات مبارکہ کے اواخر میں حیاً و میتاً اپنا نائب مقرر فرمایا تھا) کو جامعہ کا مہتمم اور حضرت مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار رحمہ اللہ کو نائب مہتمم مقرر کیا۔

مولانا مفتی احمد الرحمٰن رحمہ اللہ نے جامعہ کا اہتمام اور نظم و نسق خیر و خوبی سے چلایا اور اپنے اکابر کے منشا اور ان کی امیدوں کے مطابق جامعہ کو ترقی دی، الحمد للہ! اس کی کئی شاخیں قائم ہوئیں۔

مولانا مفتی احمد الرحمٰن رحمہ اللہ کی وفات (14 رجب 1411ھ مطابق 21 جنوری 1991ء) کے بعد جامعہ کی مجلس شوریٰ اور اساتذہ کا اجتماع منعقد ہوا اور ارکان مجلس نے بالاتفاق مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار صاحب رحمہ اللہ کو جامعہ کا مہتمم اورمولانا سید محمد بنوری رحمہ اللہ  کونائب مہتمم مقرر کیا ۔

2 رجب المرجب 1418ھ مطابق 2 نومبر 1997ء کو حضرت مولانا ڈاکٹر محمدحبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کی مظلومانہ شہادت کا سانحہٴ فا جعہ پیش آیا تو حسب معمول جامعہ کی عمومی شوریٰ (جس میں جامعہ اور شاخہائے جامعہ کے تمام اساتذہ شامل تھے) میں اتفاق رائے سے حضرت بنوری رحمہ اللہ کے رفیق سفر وحضر اور قابل فخر شاگرد حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم کو جامعہ کا مہتمم مقرر کیا گیا اور حضرت مولانا سید محمد بنوری رحمہ اللہ کو نائب مہتمم کے عہدہ پربدستور برقرار رکھا ،پھر 1419ھ مطابق 1998ء کو جب مولانا سید محمد بنوری رحمہ اللہ کی وفات کا سانحہ پیش آیا تو جامعہ کی مجلس شوریٰ نے حضرت بنوری رحمہ اللہ کے صاحبزادے مولانا سید سلیمان یوسف بنوری حفظہ اللہ کو جامعہ کا نائب مہتمم مقرر کیا ۔

جامعہ کا ٹرسٹ

جامعہ علوم اسلامیہ کا باقاعدہ ایک ٹرسٹ ہے جو جامعہ اور اس کے مختلف شعبوں کی نگرانی اور انتظام کرتا ہے اور حکومت سے رجسٹرڈ شدہ ہے، اس کا رجسٹریشن نمبر ADDL/17/23 ہے۔

ٹرسٹ کے ممبران

  1. مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب (صدر)
  2. مولانا سید سلیمان یوسف بنوری صاحب (نائب صدر)
  3. مولانا امداد اللہ یوسف زئی صاحب (جنرل سیکریٹری)
  4. مولانا سعید خان صاحب (جوائنٹ سیکریٹری)
  5. مولانا محمد عاصم زکی صاحب (خزانچی)
  6. مولانا محمد انور بدخشانی صاحب (ٹرسٹی)
  7. مولانا احمد یوسف بنوری صاحب (ٹرسٹی)
  8. جناب حافظ فیروز الدین صاحب (ٹرسٹی)
  9. جناب حاجی بشیر احمد صاحب (ٹرسٹی)
  10. جناب حاجی رحمت اللہ صاحب (ٹرسٹی)
  11. جناب حاجی مسعود پاریکھ صاحب (ٹرسٹی)

مجلس شوریٰ

جامعہ کے بانی حضرت بنوری رحمہ اللہ نے جامعہ کے انتظامی امور کی بنیاد شوریٰ پر رکھی تھی، الحمد للہ! اب بھی جامعہ کا انتظامی ڈھانچہ انہی خطوط پر استوار ہے، بلکہ جامعہ چونکہ اب کئی شاخوں پر محیط ہے اس لیے جامعہ کی عمومی مجلس شوریٰ میں تمام شاخوں کے اساتذہ شامل ہیں، سال میں متعدد بار تعلیمی سال کی ابتداء، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ امتحانات کی مناسبت سے اجتماعات ہوتے ہیں اور جامعہ کے انتظامی و تعلیمی امور پر قیمتی آراء و تجاویز زیر غور لائی جاتی ہیں، جب کہ خصوصی مجلس شوریٰ میں حضرت بنوری رحمہ اللہ کے طریق کار کے مطابق منتخب اساتذہ کرام شامل ہیں، جو جامعہ کے خاص انتظامی امور کی نگرانی و راہ نمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں، اس مجلس میں مہتمم، نائب مہتمم، ناظم تعلیمات اور شیخ الحدیث کے علاوہ منتخب اساتذہ کرام کے نام شامل ہیں جن کے اسماء گرامی کی فہرست مندرجہ ذیل ہے:

  1. مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب (مہتمم و شیخ الحدیث)
  2. مولانا سید سلیمان یوسف بنوری صاحب (نائب مہتمم)
  3. مولانا امداد اللہ یوسف زئی صاحب (ناظم تعلیمات)
  4. مولانا محمد انور بدخشانی صاحب (استاذ حدیث)
  5. مولانا ڈاکٹر عبد الحلیم چشتی صاحب (مشرِف تخصص فی الحدیث)
  6. مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب (استاذ حدیث)
  7. مولانا محمد زیب صاحب (استاذ حدیث)
  8. مولانا عبد الرؤوف غزنوی صاحب (استاذ حدیث)
  9. مولانا محمد عاصم زکی صاحب (استاذ حدیث)
  10. مولانا محمد سالک ربانی صاحب (استاذ حدیث)
  11. مولانا محب اللہ صاحب (استاذ حدیث)
  12. مولانا مفتی رفیق احمد صاحب (استاذ)
  13. مولانا سعید خان صاحب (استاذ)

مجلس تعلیمی

جامعہ کی ایک مجلس تعلیمی ہے جو جامعہ کے تجربہ کار اساتذہ پر مشتمل ہے، جن کا کام جامعہ کے نصاب تعلیم میں مفید اصلاحات، امتحانات کا انتظام اور دیگر تعلیمی امور کی نگرانی کرنا ہے، موجودہ مجلس تعلیمی کے اراکین کے اسماء گرامی یہ ہیں:

  1. مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب (مہتمم و شیخ الحدیث)
  2. مولانا سید سلیمان یوسف بنوری صاحب (نائب مہتمم)
  3. مولانا امداد اللہ یوسف زئی صاحب (ناظم تعلیمات)
  4. مولانا محمد انور بدخشانی صاحب (استاذ حدیث)
  5. مولانا ڈاکٹر عبد الحلیم چشتی صاحب (مشرِف تخصص فی الحدیث)
  6. مولانا قاری مفتاح اللہ صاحب (استاذ حدیث)
  7. مولانا عبد الرؤوف غزنوی صاحب (استاذ حدیث)
  8. مولانا محمد سالک ربانی صاحب (استاذ حدیث)
  9. مولانا محب اللہ صاحب (استاذ حدیث)
  10. مولانا مفتی رفیق احمد صاحب (استاذ)
  11. مولانا سعید خان صاحب (استاذ)

اساتذہ کرام

حضرت مولانا بنوری رحمہ اللہ کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی تھی کہ جامعہ کے لیے باکمال، تجربہ کار اور مخلص اساتذہ کرام کا انتخاب ہو، نیز اساتذہ کرام کو ہمیشہ یہ نصیحت فرمایا کرتے تھے کہ ہر استاذ اپنے آپ کو جامعہ کا ملازم نہیں بلکہ ذمہ دار سمجھے، فرماتے کہ ہم سب اس ذمہ داری میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ مجلس شوریٰ یا مجلس تعلیمی کی تشکیل محض انتظامی مجبوری کے تحت ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسرے اساتذہ کرام پر کسی قسم کی انتظامی، تربیتی یا اخلاقی ذمہ داری ہے ہی نہیں بلکہ عہدیدار اور غیر عہدیدار سب ہی ہر معاملہ میں اپنے آپ کو ذمہ دار اور مسئول سمجھیں، چنانچہ آپ کے ساتھ ایسے اساتذہ کرام اور رفقاء جمع ہوگئے جنہوں نے اپنے آپ کو علم اور اس جامعہ کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔

جامعہ کے مختلف شعبوں میں اس سال (۱۴۴۱ھ-۲۰۲۰ء) اساتذہ اور مدرسین کی تعداد تقریباً۴۱۲ تک پہنچ گئی ہے، جس میں حسب ضرورت اضافہ ہوتا رہتا ہے، دیگر عملہ اس کے علاوہ ہے جس کی تعداد تقریباً ۲۴۵ ہے، ان اساتذہ میں اکثریت ان حضرات کی ہے جو جامعہ کے فضلاء ہیں، جب کہ ان کے علاوہ بعض وہ علماء کرام ہیں جو ہند و پاک کے بڑے دینی اداروں کے سندیافتہ ہیں، بعض کے پاس سعودی عرب، مصر اور پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں سے ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں بھی ہیں اور ان میں بعض مختلف علمی تصانیف کے مصنف بھی ہیں۔

طلبہ کی تعداد

جامعہ میں اس وقت (۱۴۴۱ھ) میں بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) سے زائد طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں۔

بیرونی طلبہ

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت مولانا بنوری رحمہ اللہ کی علمی اور بین الاقوامی شخصیت کی بناء پر جامعہ ایک عالمی ادارہ کی حیثیت اختیار کرچکا تھا، اسی لیے اس کے ابتدائی دور میں ہی بیرونی ممالک کے طلبہ تعلیم کے لیے جامعہ میں داخلہ لینے لگے، چنانچہ اس وقت تک جن ملکوں کے طلبہ تعلیم حاصل کرکے جاچکے ہیں ان کی تعداد ساٹھ سے زیادہ ہے، ذیل میں ان ملکوں کے نام درج کیے جاتے ہیں:

سعودی عرب، اردن، شام، تیونس، الجزائر، مراکش، یمن، مسقط، متحدہ عرب امارات، مالی، مصر، سوڈان، نائجیریا، فیجی، زمبیا، زمبابوے، یوگنڈا، موزمبیق، کینیا، تنزانیہ، جنوبی افریقہ، موریشس، جزر القمر، صومال، ایتھوپیا، بینین، کیمرون، بورکینافاسو، مدغاسکر، افغانستان، ملاوی، نیجر، آسٹریلیا، مغربی جرمنی، ہالینڈ، نیوزی لینڈ، فرانس، انگلینڈ، امریکا، ترکی، ری یونین، کرغزستان، ازبکستان، تاجکستان، قازقستان، چین، ایران، ہندوستان، بنگلہ دیش، برما، سری لنکا، نیپال، پرتگال، فلپائن، جاپان، ہانگ کانگ، سنگاپور، تھائی لینڈ، ملائیشیا، انڈونیشیا، سوازی لینڈ، وغیرہ۔