بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شعبان 1441ھ- 30 مارچ 2020 ء

نظم ونسق

نظم ونسق

جامعہ کے بانی حضرت علامہ بنوری رحمہ اللہ کی دو مجلس شوریٰ تھیں، ایک خاص اور دوسری عام، "مجلس خاص" جامعہ کے منتخب اساتذہ پر مشتمل تھی، جن سے جامعہ کے خاص انتظامی امور میں آپ مشورہ فرماتے تھے، اور "مجلس عام" میں جامعہ کے تمام اساتذہ شامل تھے، اس مجلس میں علمی اور درسی امور کے متعلق مشورہ ہوتا تھا۔

حضرت اقدس مولانا بنوری نور اللہ مرقدہ کی وفات (3 ذو القعدہ 1397ھ مطابق 17 اکتوبر 1977ء) کے تین دن بعد جامعہ کی شوریٰ کا اجلاس ہوا اور تمام ارکان نے مولانا مفتی احمد الرحمٰن رحمہ اللہ (جن کو حضرت مولانا نور اللہ مرقدہ نے اپنی حیات مبارکہ کے اواخر میں حیاً و میتاً اپنا نائب مقرر فرمایا تھا) کو جامعہ کا مہتمم اور حضرت مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار رحمہ اللہ کو نائب مہتمم مقرر کیا۔

مولانا مفتی احمد الرحمٰن رحمہ اللہ نے جامعہ کا اہتمام اور نظم و نسق خیر و خوبی سے چلایا اور اپنے اکابر کے منشا اور ان کی امیدوں کے مطابق جامعہ کو ترقی دی، الحمد للہ! اس کی کئی شاخیں قائم ہوئیں۔

مولانا مفتی احمد الرحمٰن رحمہ اللہ کی وفات (14 رجب 1411ھ مطابق 21 جنوری 1991ء) کے بعد جامعہ کی مجلس شوریٰ اور اساتذہ کا اجتماع منعقد ہوا اور ارکان مجلس نے بالاتفاق مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار صاحب رحمہ اللہ کو جامعہ کا مہتمم اورمولانا سید محمد بنوری رحمہ اللہ  کونائب مہتمم مقرر کیا ۔

2 رجب المرجب 1418ھ مطابق 2 نومبر 1997ء کو حضرت مولانا ڈاکٹر محمدحبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کی مظلومانہ شہادت کا سانحہٴ فا جعہ پیش آیا تو حسب معمول جامعہ کی عمومی شوریٰ (جس میں جامعہ اور شاخہائے جامعہ کے تمام اساتذہ شامل تھے) میں اتفاق رائے سے حضرت بنوری رحمہ اللہ کے رفیق سفر وحضر اور قابل فخر شاگرد حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب دامت برکاتہم کو جامعہ کا مہتمم مقرر کیا گیا اور حضرت مولانا سید محمد بنوری رحمہ اللہ کو نائب مہتمم کے عہدہ پربدستور برقرار رکھا ،پھر 1419ھ مطابق 1998ء کو جب مولانا سید محمد بنوری رحمہ اللہ کی وفات کا سانحہ پیش آیا تو جامعہ کی مجلس شوریٰ نے حضرت بنوری رحمہ اللہ کے صاحبزادے مولانا سید سلیمان یوسف بنوری حفظہ اللہ کو جامعہ کا نائب مہتمم مقرر کیا ۔

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے