بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1448ھ 22 جون 2026 ء

جامعہ کا نظامِ تعلیم

جامعہ کا نظامِ تعلیم

جامعہ کا تعلیمی نظام پانچ بنیادی شعبوں میں تقسیم ہے:

1.     شعبہ قرآن مجید (قاعدہ، ناظرہ وحفظ )

2.     شعبہ بنوری ایجوکیشن سسٹم (سیکنڈری اسکول)

3.     شعبہ درس نظامی (طلبہ وطالبات )

4.     شعبہ تخصصات

5.     شعبہ دراسات دینیہ

1-               شعبہ قرآن مجید (قاعدہ، ناظرہ وحفظ ):

اس شعبے کے تحت قرآن مجید ناظرہ اور حفظ قواعدِ تجوید اور صحیح قراءت کے ساتھ پڑھانے کا اہتمام ہے ،اس کے ساتھ طلبہ کو اسلام کے بنیادی عقائد اور ضروری احکام خصوصاً وضو، طہارت اور نماز سے متعلق مسائل سکھائے جاتے ہیں ،اسی طرح پرائمری سطح تک عصری تعلیم کی بھی ترتیب بنائی گئی ہے۔

جامعہ کے قیام کے بعد سے اب تک جامعہ اور اس کی شاخوں سے ہزاروں طلبہ وطالبات قرآن کریم حفظ وناظرہ مکمل پڑھنے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں اور اس وقت بھی تقریبا پانچ ہزار طلبہ وطالبات اس شعبے میں زیرِ تعلیم ہیں ،شعبہ قرآن مجید کی تعلیم کو چار مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلا مرحلہ: شعبۂ قاعدہ

قرآن مجید کی تعلیم سے پہلے طلبہ کو عربی حروف کی پہچان، درست ادائیگی اور تجوید کے قواعد و ضوابط کے مطابق روانی سے پڑھنے کے لیے "قاعدہ "کے نام سے ایک نصاب پڑھایا جاتا ہے، اس نصاب کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ حروف کی درست ادائیگی اور قواعدِ تجوید کے ساتھ قرآن مجید روانی سے پڑھنے کی ابتدائی صلاحیت حاصل کرلیں۔

·       مدتِ تعلیم:                        چھ ماہ سے ایک سال۔

·       نصاب:                              نورانی قاعدہ، اسلامیات ، عربی، انگریزی، خوشخطی، نماز کی عملی مشق۔

·       مطلوبہ استعداد:                   حروف کی مکمل پہچان، درست تلفظ، مفردات و مرکبات کو جوڑنا اور روانی سے پڑھنا۔

دوسرا مرحلہ: ناظرہ قرآن مجید

قاعدہ کے  نصاب کی تکمیل کے بعد طلبہ کو قواعدِ تجوید کے مطابق دیکھ کر قرآن مجید روانی سے پڑھنے کے لیے "ناظرہ قرآن مجید "کے عنوان سے تعلیم دی جاتی ہے، اس مرحلے میں قرآن مجید کے آخری پانچ پارے بطور نصاب شامل ہیں، اس  نصاب کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ پورے قرآن مجید کو قواعدِ تجوید کے مطابق ناظرہ پڑھنے کے قابل ہوجائیں۔

حفظ قرآن مجید کے خواہش مند طلبہ کا نصاب مکمل ہونے کے بعد ایک انفرادی تفصیلی جائزہ  لیا جاتا ہے ،کامیابی کی صورت میں حفظ قرآن مجید کی درس گاہ میں منتقل کردیا جاتا ہے، اور جو طلبہ صرف ناظرہ قرآن مجید مکمل پڑھنے کے خواہش مند ہوں انہیں مزید دو سال میں قواعدِ تجوید کے ساتھ ناظرہ قرآن مجید مکمل پڑھایا جاتا ہے ۔

·       مدتِ تعلیم:                        تقریباً چھ ماہ سے تین سال۔

·       نصاب :                             اسلامیات، اردو اور انگریزی مرکبات اور ریاضی کی ابتدائی جمع و تفریق۔

·       مطلوبہ استعداد :                  تجوید کے قواعد کی رعایت رکھتے ہوئے دیکھ کر مکمل قرآن مجید پڑھنے کی اہلیت۔

تیسرا مرحلہ: حفظِ قرآن کریم

ناظرہ قرآن مجید کا نصاب مکمل کرنے کے بعد طلبہ کو زبانی قرآن مجید یاد کرانے کے لیے "حفظِ قرآن مجید "کے عنوان سے تعلیم دی جاتی ہے، اس مرحلے میں مکمل قرآن کریم  تجوید کے قواعد کے ساتھ زبانی  یاد کرانے کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔

·       مدتِ تعلیم:                        عمومی طور پر ڈھائی سال۔

·       نصاب :                             اسلامیات پہلی تا جماعت چہارم کے بنیادی مضامین (اردو، انگریزی، ریاضی اور سائنس)۔

·       مطلوبہ استعداد:                  تجوید کے قواعد کی رعایت رکھتے ہوئے مکمل قرآن مجید زبانی پڑھنے کی اہلیت۔

چوتھا مرحلہ: تکمیل و گردان قرآن مجید

قرآن شریف حفظ کرنے کے بعد اس کی پختگی کے لیے ایک مخصوص انداز سے قرآن مجید کی بار بار دھرائی اور دور کرایا جاتا ہے اس عمل کو "گردان "کہا جاتا ہے،حافظِ قرآن کے لیے یہ عمل نہایت لازمی اور ضروری ہے ،اس سے قرآن مجید کے یاد رکھنے میں پختگی اور استحکام پیدا ہوتا ہے ۔

·       مدتِ تعلیم:                        عمومی طور پر ایک سال۔

·       نصاب :                              اسلامیات جماعت پنجم کے بنیادی مضامین (اردو، انگریزی، ریاضی اور سائنس)۔

·       مطلوبہ استعداد:                  تجوید کے قواعد اور عربی لہجوں کی رعایت رکھتے ہوئے مکمل قرآن مجید زبانی پڑھنے کی اہلیت۔

اس مرحلے کا سالانہ اور آخری امتحان وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے تحت منعقد ہوتا ہے اور طالب علم کو باقاعدہ وفاق المدارس پاکستان اور جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن سے سند تکمیل حفظ قرآن مجید جاری کی جاتی ہے ۔

2-               شعبہ بنوری ایجوکیشن سسٹم (سیکنڈری اسکول):

اس شعبے کے تحت پانچ سال میں پرائمری پاس طلبہ کے لیے میٹرک تک ریگولر عصری تعلیم کا اہتمام ہے ،اس دوران ابتدائی دینی تعلیم ،عربی زبان او ردرس نظامی کے درجہ اولیٰ کے مضامین مختلف مراحل میں مکمل کرائے جاتے ہیں ،اس طرح طلبہ میٹرک کے ساتھ درجہ اولیٰ کی تعلیم بھی مکمل کرلیتے ہیں ۔

اس تعلیم کے لیے جامعہ کا بنوری ایجوکیشن سسٹم(B.E.S)کے نام سے حکومت سندھ سے باقاعدہ رجسٹرڈ اور ریکگنائزڈ اسکول موجود ہے ،جس کے امتحانات کا انعقاد اور سندات کا اجراء کراچی بورڈ کے تحت ہوتا ہے۔

اس شعبے کے تعلیمی مراحل درج ذیل ہیں:

1:                درجہ تمہیدی

اس درجے میں مخصوص ومنتخب نصاب کے ذریعے ایک سال کے عرصے میں پانچویں جماعت کے بنیادی عصری مضامین کی اہلیت پیدا کی جاتی ہے ،اس درجہ میں ایسے  طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ہے جنہوں قرآن مجید مکمل حفظ یا ناظرہ پڑھ لیا ہواور ان میں پرائمری سطح کی تعلیمی استعداد مطلوبہ معیار کے مطابق نہ ہو۔

طلبہ کی استعداد جانچنے کے لیے داخلہ کے وقت پانچویں جماعت کے بنیادی مضامین (اردو، انگریزی، ریاضی اور سائنس )کا تحریری امتحان لیا جاتا ہے ،کامیابی کی صورت چھٹی جماعت(اعدادیہ اول ) میں داخلہ دیا جاتا ہے اور کمزوری کی صورت میں درجہ تمہیدی میں ایک سال تعلیم دی جاتی ہے۔

2:                درجہ اعدادیہ اول (جماعت ششم)

اس درجے میں طلبہ کو جماعت ششم کے لیے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی مطبوعہ کتب کی تعلیم دی جاتی ہے ،اس کے ساتھ ابتدائی دینی مسائل کی کتب بھی شامل نصاب ہیں ، اس درجے میں انگریزی اور اردو کے مضامین میں مہارت اور اضافی صلاحیت کے لیے دو گھنٹے مقرر کیے گئے ہیں ،جن میں دونوں زبانوں کے قواعد لٹریچر اور طرز تحریر پر خصوصی توجہ کی جاتی ہے۔

3:                درجہ اعدادیہ دوم (جماعت ہفتم)

اس درجے میں طلبہ کو ساتویں جماعت کے لیے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی مطبوعہ کتب کی تعلیم دی جاتی ہے ،اس کے ساتھ ابتدائی دینی مسائل اور ابتدائی عربی زبان کی تعلیم بھی شامل نصاب ہے ،اس درجے میں انگریزی کے مضامین میں مہارت اور اضافی صلاحیت کے لیے دو گھنٹےمقرر کیے گئے ہیں ،اس  کے ساتھ عربی زبان کے بنیادی قواعد علم الصرف کے لیے ایک مستقل گھنٹہ مقرر ہے اور عربی بول چال اور ترجمہ نگاری کے لیے مستقل ایک گھنٹہ ہے ۔

4:                درجہ اعدادیہ سوم (جماعت ہشتم)

اس درجے میں طلبہ کو آٹھویں جماعت کے لیے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی مرتب کردہ کتب کی تعلیم دی جاتی ہے ،اس کے ساتھ دینی مسائل اور عربی زبان سکھانے لیے مختلف کتب نصاب میں شامل ہیں ،اس درجے میں عربی زبان کے بنیادی قواعد علم الصرف کے لیے اور عربی بول چال اور ترجمہ نگاری کے لیے الگ الگ نصاب اور گھنٹے مقرر ہیں ۔

5:                درجہ اعدادیہ چہارم (جماعت نہم سائنس وجنرل گروپ)

اس درجے میں طلبہ کو نو یں جماعت کے لیے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی مرتب کردہ کتب کی تعلیم دی جاتی ہے ،اس جماعت میں دو فریق بنائے جاتے ہیں؛عصری مضامین میں  نسبتاً کم استعداد کے طلبہ کو "جنرل گروپ "میں اور اعلیٰ استعداد کے طلبہ کو ’’سائنس گروپ‘‘ میں داخلہ دیا جاتا ہے ۔

اس کے ساتھ دینی مسائل اور عربی زبان سکھانے لیے مختلف کتب نصاب میں شامل ہیں ،اس درجے میں علم الصرف وعلم النحو، عربی بول چال اور ترجمہ نگاری اور انشاء کے لیے الگ الگ نصاب اور گھنٹے مقرر ہیں ۔

6:                درجہ اعدادیہ پنجم (جماعت دہم سائنس وجنرل گروپ)

اس درجے میں طلبہ کو دسویں جماعت کے لیے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی مرتب کردہ کتب کی تعلیم دی جاتی ہے ،اس جماعت میں بھی طلبہ کو سائنس اور جنرل گروپ میں تقسیم کردیا جاتا ہے ،اس کے ساتھ شعبہ درس نظامی کے درجہ اولیٰ کی تمام کتابیں بھی شامل نصاب ہیں ۔

3-               شعبہ درس نظامی (طلبہ و طالبات):

درسِ نظامی وہ عظیم دینی نصاب ہے جسے بارہویں صدی کے جلیل القدر عالم، ملا نظام الدین سہالویؒ نے مرتب کیا۔ ابتدا میں اس نصاب میں بیس سے زائد علوم و فنون کی کتابیں شامل تھیں، جن میں حسب ضرورت اہلِ علم وقتاً فوقتاً ترامیم کرتے رہے، اب موجودہ دور میں درسِ نظامی کو ایک جامع آٹھ سالہ عالم کورس کی شکل دے دی گئی ہے، جس میں معانی، بلاغت، ادب عربی، منطق، فلسفہ، کلام، فقہ، اصولِ فقہ، تفسیر، اصول تفسیر، حدیث اور اصولِ حدیث کی تقریباً ساٹھ اہم کتب شاملِ نصاب ہیں۔

اس نصاب کا بنیادی مقصد طلبہ میں قرآن، حدیث اور فقہ اسلامی میں مہارت پیدا کرنا ہے اس کے لیے طلبہ کو عربی زبان پر مہارت، فقہی بصیرت اور اجتہادی سوچ پیدا کرنے کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ فارغ التحصیل طلبہ معاشرے میں دینی خدمت اور علمی رہنمائی احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔

4-               شعبہ تخصصات:

محدث العصر حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری ؒ نے مدرسہ کی ابتدا ہی کچھ اس طرح کی کہ دینی مدارس کے فضلاء کے لیے ’’تکمیل‘‘ کا درجہ کھولنے کا اعلان فرمایا، جس میں قرآن وسنت ، فقہ اسلامی اور عربی ادب جیسے علوم کی خصوصی تعلیم دینا مقصود تھا، بعد میں ان کی حیات ہی میں یہ درجہ ’’تخصص‘‘ کے نام سے معروف ہوا، اس درجہ میں ان مستعد فضلاء کو لیا جاتاہے جو وفاق المدارس العربیہ کے درجہ عالمیہ (دورۂ حدیث) کے سالانہ امتحان میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوئے ہوں۔

اس وقت تک جامعہ میں تخصص فی الفقہ الاسلامی، تخصص فی علوم الحدیث اور تخصص فی الدعوۃ والارشاد کے شعبوں سے کثیر تعداد میں فضلاء مستفید ہوکر پوری دنیا میں علم دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔

5:                شعبہ دراسات دینیہ:

دین کا بنیادی علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے ذمہ فرض ہے، جس کے لیے وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اَحباب کے لیے مختصر کورس(دورانیہ دو 2 سال) ترتیب دیا ہے، جس میں وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات اور اَحکامات کے حوالہ سے رہنمائی حاصل کرسکیں گے۔

جامعہ میں اس کورس کا دو 2 مختلف اوقات میں اہتمام کیا گیا ہے۔

اوقات تعلیم:                     صبح 7:00 بجے تا 9:30 بجے / شام مغرب تا 10:00 بجے

ایام تعلیم:                          ہفتے میں پانچ دن (علاوہ جمعہ، اتوار)

مضامین:                            اسلامی عقائد، ترجمہ قرآن کریم، حدیث، فقہ، عربی زبان

اوقاتِ تعلیم

·       شعبہ قاعدہ وناظرہ میں غیر رہائشی طلبہ کے لیے تعلیمی اوقات صبح آٹھ بجے سے دوپہر ایک بجے تک ہیں ، جب کہ رہائشی طلبہ کے لیے صبح چار گھنٹے اور ظہر کے بعد دو گھنٹے اور مغرب کے بعد ایک گھنٹہ ہے ۔

·       شعبہ حفظ قرآن مجید میں تعلیمی اوقات صبح چار گھنٹے ، ظہر کے بعد دو گھنٹے اور مغرب کے بعد ایک گھنٹہ ہے ۔

·       شعبہ بنوری ایجوکیشن تعلیمی اوقات صبح 8:00بجے سے دوپہر 1:30بجے تک ہیں۔

·       شعبہ طالبات (حفظ وناظرہ ودرس نظامی ) کے تعلیمی اوقات صبح 8:00بجے سے دوپہر 1:30بجے تک ہیں۔

·       شعبہ درس نظامی تعلیمی اوقات صبح سوا چار گھنٹے اورظہر کے بعد د و گھنٹےہیں ۔

·       شعبہ تخصصات کے تعلیمی اوقات صبح چار گھنٹے ، ظہر کے بعد د و گھنٹے اور مغرب کے بعد سے رات دس بجے تک ہیں ۔

·       شعبہ دراسات دینیہ کے تعلیمی اوقات صبح سات بجے سے ساڑھے نو بجے تک ہیں ۔

طلبہ کی کفالت اور وظائف

جامعہ کے تمام شعبوں میں مکمل تعلیم مفت دی جاتی ہے، طلبہ سے داخلہ ، تعلیم، امتحانات ، رہائش ، کسی بھی سلسلے میں کوئی فیس وصول نہیں کی جاتی ، جب کہ نصاب کی کتابیں طلبہ کو بوقت ضرورت عاریۃً دی جاتی ہیں، مستحق طلبہ کو وظیفہ، کھانا، علاج اور دیگر ضروریات بھی بلا معاوضہ مہیا کی جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم اور نیک بندوں کے تعاون سے یہ مصارف پورا فرماتے ہیں۔

دارالاقامہ

جامعہ میں طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی اور اخلاقی تربیت پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ طالب علم چوبیس گھنٹے جامعہ کے ماحول میں گزارے، اس مقصد کے لیے جامعہ نے دار الاقامہ کا انتظام کیا ہے، چنانچہ جامعہ اور اس کی شاخوں میں طلبہ کی رہائش کے لیے کئی عمارتیں موجود ہیں جن میں سے ایک عمارت غیر ملکی طلبہ کے لیے بھی مختص ہے، ان عمارتوں میں بجلی ، پانی، پنکھے، گیس کے چولہے، گیزر اور ٹھنڈے پانی کے کولر جیسی ضروریات موجود ہیں اور ملکی اور غیر ملکی طلبہ کے لیے الگ الگ مطبخ (باورچی خانہ) اور مطعم (کھانے کا ہال) ہیں جہاں وہ مل بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔

دارالاقامہ میں مقیم طلبہ کی نگرانی اور دیکھ بھال کے لیے اساتذہ مقرر ہیں جو تعلیمی اوقات کے علاوہ بھی ان کی تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔

دارالاقامہ کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقررہیں، اسی طرح اس کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے ایک نظام بنایاگیاہے جس کی نگرانی ناظم دارالاقامہ کرتے ہیں۔

جامعہ میں کثیر تعداد میں وہ طلبہ بھی پڑھتے ہیں جن کی رہائش کراچی میں ہے، ایسے طلبہ صرف تعلیم اور مطالعہ کے اوقات تک جامعہ میں رہتے ہیں، اس کے بعد وہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔