بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1442ھ- 30 نومبر 2020 ء

طلبہ اور ان کے سرپرستوں کے لیے ضروری ہدایات اور قواعد وضوابط

طلبہ اور ان کے سرپرستوں کے لیے ضروری ہدایات اور قواعد وضوابط

  1. ہر طالب علم کی اہل سنت والجماعت کے مسلک حق سے مکمل وابستگی ضروری ہے،جمہور علماء اور خصوصاجامعہ کے اسلاف کے فکروعمل سے مکمل مطابقت اور ہم آہنگی رکھے اوراس سے کسی بھی قسم کا انحراف نہ کرے ۔
  2. نماز باجماعت کی پابندی ہر طالب علم کے لئے انتہائی ضروری ہے، ترک جماعت کے لئے کوئی غیر شرعی عذر مسموع نہ ہوگا۔
  3. اساتذہ جامعہ سے عقیدت ومحبت اوردل سے ان کی عزت واحترام تحصیل علم اور استفادہ کی اولین شرط ہے، لہٰذا ہر طالب علم کا فرض ہے کہ وہ تمام اساتذہ کا انتہائی احترام کریں اور ان سے قلبی وابستگی پیدا کرے، اگرچہ وہ براہ راست اس کے استاد نہ ہوں۔
  4. ہرطالب علم کے لئے اخلاق واعمال، صورت وسیرت ،وضع قطع اور لباس میں صلحاء امت کی اتباع ضروری ہے، سگریٹ پینا، انگریزی بال رکھنا، داڑھی منڈانا یا خلاف شرع کٹانا قطعاًممنوع ہے، اپنے ساتھیوں یا ملازمین جامعہ سے لڑنا جھگڑنا، بدکلامی یا بداخلاقی سے پیش آنا، ایک دوسرے کی چغلی، عیب جوئی، غیبت، مذاق اڑانا، بیہودہ مذاق کرنا بدترین عیوب ہیں، ان سے اجتناب کرنا ہرطالب علم کا فرض ہے۔
  5. ہرطالب علم کو اپنی شکایات اور ضروریات منتظمین اور اساتذہ کے سامنے پیش کرنی چاہئیں، اگر کوئی ساتھی زیادتی کرے تو خود جواب دینے اور بدلہ لینے کی کوشش ہرگز نہ کرے، بلکہ ناظمین اور اساتذہ کرام کے سامنے پیش کرکے چارہ جوئی کرے۔
  6. سبق سے غیر حاضری جرم ہے اور ناقابل تلافی نقصان کا باعث ہے، ایسی شدید ضرورت میں جو سبق قضا کئے بغیر نہ پوری کی جاسکے، خود چھٹی کی درخواست دفتر کو دینا ضروری ہے، کسی کے ہاتھ درخواست بھیجنا یا فون پر اطلاع کردیناہرگز کافی نہ ہوگا اسی طرح بیماری کی درخواست اس وقت منظور ہوگی جب سبق میں شرکت ناممکن یا زیادتی ٴمرض کی موجب ہو، دار الاقامہ میں رہنے والے طلبہ کی درخواست اس وقت تک منظور نہ ہوگی جب تک ناظم دار الاقامہ کے دستخط نہ ہوں،باہر رہنے والے طلبہ کو اپنے سرپرست اور پھر کلاس کے نگران استاذسے دستخط کراکر درخواست پیش کرنا ہوگی۔
  7. جو طالب علم مطالعہ اور تکرار میں کوتاہی کرے گا، تنبیہ کے بعد بھی اگر باز نہ آیا تو اس کو سزا دی جائے گی۔
  8. طلبہ کے لئے سیاست، جلسہ،جلوس وغیرہ میں شرکت ممنوع ہے، جو طالب علم کسی سیاسی جماعت یا غیر تعلیمی سرگرمی میں ملوث پایا گیا،اسے خارج کردیا جائے گا۔
  9. چونکہ جامعہ طلبہ کی تمام تر ضروریات کی کفالت کرتاہے اس لئے طلبہ کا فرض ہے کہ وہ اپنا تمام تر وقت یکسوئی کے ساتھ تحصیل علم میں صرف کریں اور اپنی حوائج وضروریات کو پورا کرنے کے لئے اور ذرائع کی جستجو نہ کریں۔
  10. جو طلبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے طور پر کوئی دوسرا مشغلہ مثلاً: امامت، مؤذنی وغیرہ اختیار کریں گے، وہ جامعہ کی امداد اور دار الاقامة کی سکونت کے مستحق نہیں ہوں گے۔
  11. جن کم سن طلبہ کی سکونت جامعہ کے دار الاقامہ میں نہ ہو، ان کے سرپرست داخلہ کے وقت انکے ہمراہ ضرور آئیں اور جامعہ کے قواعد وضوابط اور اساتذہ ومنتظمین کی ہدایات کو سمجھیں اور بچوں سے ان پر عمل کرائیں، خلاف ورزی پر سخت باز پرس کریں، وقتاً فوقتاً جامعہ میں آکر اساتذہ وانتظامیہ سے حالات ضرور معلوم کرتے رہیں، تعطیلات کے ایام میں خاص طور پر بچوں کے اعمال واخلاق کی پوری نگرانی رکھیں اور انہیں بری صحبت سے بچائیں۔
  12. دار الاقامہ میں مقیم طلبہ کے لئے عصر ومغرب کے درمیانی وقت کے علاوہ کسی بھی وقت دار الاقامہ سے باہر جانے کے لئے ناظم دار الاقامہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔
  13. عصر ومغرب کے درمیانی وقت کے علاوہ بقیہ تمام اوقات میں خصوصاً رات کے اوقات میں دار الاقامہ یا درسگاہوں میں موجود ہونا ضروری ہے، اگر کسی وقت بھی دار الاقامہ کی حاضری لی گئی اور کوئی طالب علم موجود نہ ہوا تو وہ سخت سزا کا مستحق ہوگا۔
  14. جو طلبہ سیر وتفریح، احباب کی ملاقاتوں، غیر ضروری مہمان نوازی میں اپنا وقت ضائع کریں گے، تنبیہ کے بعد بھی اگر وہ باز نہ آئیں تو خارج کردیے جائیں گے، دار الاقامہ میں بغیر اجازت کے مہمان ٹھہرانے کی اجازت ہرگز نہ ہوگی۔
  15. اپنے احباب اور ملنے والوں کو بتا دینا چاہئے کہ وہ صرف عصر ومغرب کے درمیان یا جمعہ کے دن ملاقات کے لئے آیا کریں۔
  16. ہرطالب علم کو چاہیے کہ صفائی وستھرائی کا بھر پور اہتمام کرے، بالخصوص جمعہ کے دن غسل کرنے اور کپڑے بدلنے سے پہلے اپنے کمرے اور برآمدہ کو صاف کرے، کوڑا مقررہ جگہ کے علاوہ اور کہیں نہ پھینکے، درسگاہ، کمرہ اور برآمدہ کو خراب اور گندہ نہ کرے، دیواروں پر نہ لکھے، پتھر اور ڈھیلے لے کر بیت الخلا میں نہ جائے، پانی سے استنجاء کرے، برتن یا کپڑے دھونے کے بعداس جگہ کو صاف کردے، اپنے کمرے کی تمام چیزوں کو سلیقہ اور قرینہ کے ساتھ رکھے، غرض صفائی، شائستگی، تہذیب واخلاق اور دینداری کا مثالی نمونہ پیش کرے۔
  17. جامعہ کے مہتمم ،اساتذہ اور منتظمین کو ہر طالب علم سے مکمل بازپرس کا حق ہے ،ان کے حکم کی تعمیل کرناطالب علم کا فرض ہوگا،انہیں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر مواخذہ کا پورا حق حاصل ہوگا ۔
  18. ہر طالب علم پر لازمی ہے کہ وہ جامعہ کے قواعد وضوابط اور اساتذہ کی طرف سے دی جانی والی تمام ہدایات کی مکمل پابندی کرے ۔