
الف۔برصغیر میں رائج مصاحف میں بعض مواقع پر" وقف النبی" لکھا ہوتا ہے ۔ عربی مصاحف میں غالبا یہ نہیں پایا جاتا۔ اس کا مطلب یہ بتایا جاتا ہے کہ یہاں وقف کرنا حضرت محمد خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اس کی کوئی سند ہے ؟ مطلب روایات اور احادیث سے کیا یہ ثابت ہے کہ ان ذکر کردہ مقامات پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وقف کیا ہے؟
ب۔ اگر "وقف النبی" کی سند فی الحال موجود نہیں تو اس وقف کا لگانا مصاحف میں درست ہے ؟ کیونکہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کرکے ایک چیز بتائی جا رہی ہے۔ "وقف النبی صلی اللہ علیہ وسلم: یہ ان مقامات پر لکھا جاتا ہے، جہاں کسی روایت کی رُو سے یہ ثابت ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کرتے ہوئے اس جگہ وقف فرمایا تھا" (مقدمہ آسان ترجمہ قرآن،ص: 31، ط: مکتبۃ معارف القرآن)
حکیم الامتؒ نے ملفوظات میں فرمایا (ہے کہ) : "وقف غفران اور وقف النبی کے متعلق قراء کہتے ہیں کہ وقف کرنے سے مغفرت ہوتی ہے اور وقف النبی حضور کی سنت ہے، مگر میری نظر سے اس کی کوئی سند نہیں گزری۔‘‘ ( ملفوظت حکیم الامتؒ ج 14 ، ص 208 ،ط: ادارہ تالیفات اشرفیہ)
اعلم أن القراءات ليست بمنحصرة في السبع بل أزيد تبلغ عشر قراءات متواترة بل تزيد عليها أيضاً، ويدل حديث الباب على الوقف على كل آية، ويقال لهذه الأوقاف أوقاف النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، والوقف على هذه الأوقاف: مستحب، وذكر الجزري أن الوقف مستحب، وما من وقف واجب في القرآن العظيم، وذكر السيوطي في الإتقان عن أبي يوسف رحمه الله أن الوقف الذي في زماننا لا أصل له، وقيل: ليس الوقف في الحديث قطع النفس بل الوقف السكتة، وأجمع العلماء على أن ابتداء الآيات وختمها توقيفي من الشارع، واعلم أن ما تجد على حواشي القرآن العزيز من وقف لازم أو واجب فلا أصل له، وظني أن وصل الآيات أيضاً ثابت عن النبي - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (العرف الشذي شرح سنن الترمذي،ج 4،ص 213 ، ط۔ دار احیاء التراث العربی)
ج۔ برصغیر میں رائج مصاحف اور اوقاف کے متعلق لکھے گئے کتب میں اوقاف کے تعداد کے اختلاف کے ساتھ محل وقف کا بھی کچھ فرق پایا جاتا ہے۔کیا ہمارے ہاں کے مصاحف میں اس اصلاح کی ضرورت نہیں ہے؟ کیونکہ "وقف النبی" میں رسول اللہ ﷺ سے نسبت کرکے ایک چیز بتائی جا رہی ہے۔
کشف الظنون میں علامہ مغربیؒ کی کتاب "وقوف النبی علیہ السلام فی القرآن" کے حوالے سے 17 مقامات پر "وقف النبی" کا ذکر کیا گیا ہے:
"[وقوف النبي علیہ السلام في القرآن] - جمعها الشيخ أبو عبد الله محمد بن عيسى المغربي المتوفى سنة وهي سبعة عشر وقفاً لا يجاوزها: الأول في البقرة (في قوله تعالى) فاستبقوا الخيرات [148] الثاني فيها (في قوله تعالى) وما تفعلوا من خير يعلمه الله [197] الثالث في آل عمران (في قوله تعالى) وما يعلم تأويله إلا الله [7] الرابع في المائدة (في قوله تعالى) فأصبح من النادمين [31] الخامس فيها (في قوله تعالى) فاستبقوا الخيرات [48] السادس فيها (في قوله تعالى) ما ليس لي بحق [116] السابع في يونس (في قوله تعالى) أن أنذر الناس الثامن [2] فيها (في قوله تعالى) قل أي وربي أنه لحق [53] التاسع في يوسف (في قوله تعالى) سبيلي أدعو إلى الله [108] العاشر في الرعد (في قوله تعالى) يضرب الله الأمثال [17] الحادي عشر في النحل (في قوله تعالى) والأنعام خلقها [5] الثاني عشر في لقمان (في قوله تعالى) لا تشرك بالله [13] الثالث عشر في المؤمن (في قوله تعالى) أنهم أصحاب النار [6] الرابع في النازعات (في قوله تعالى) فحشر [23] الخامس عشر في القدر (في قوله) تعالى خير من ألف شهر [3] السادس عشر فيها (في قوله تعالى) من كل أمر[4] السابع عشر في الفتح (في قوله تعالى) واستغفره [3] "
علامہ اشمونیؒ نے اپنی کتاب" منار الھدی فی بیان الوقف والابتداء "(ص 24،23) میں صرف 9 مقامات پر "وقف النبی" کا ذکر کیا ہے ، ان میں سے 8 مقامات تو علامہ مغربی کے ذکر کردہ مقامات کے مطابق ہیں پر ایک مقام "سورۃ السجدۃ آیت 18" الگ ہے: الأول في البقرة (في قوله تعالى) فاستبقوا الخيرات [148] الثاني في الم۔
صورت مسئولہ میں ہمارے ہاں رائج مصاحف میں بعض مواقع پر وقف النبی لکھا ہوتا ہے ،اس کا مطلب یہ بتایا جاتا ہے کہ یہاں وقف کرنا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے،لیکن اس کی کوئی سند موجود نہیں ہےاور عربی مصاحف میں یہ وقف النبی نہیں لکھا ہوتا،چونکہ اس کی کوئی سند موجود نہیں ہے لہذا ،مصاحف میں اس کا لکھنا درست نہیں ،یہ قابل اصلاح ہے ۔
مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ ہو:
وقفِ لازم اور وقف النبی کا مطلب کیا ہے ؟
ملفوظات حکیم الامت میں ہے:
" فرمایا : وقف غفران اور وقف النبی کے متعلق قراء کہتے ہیں کہ وقف کرنے سے مغفرت ہوتی ہے اور وقف النبی حضور کی سنت ہے، مگر میری نظر سے اس کی کوئی سند نہیں گزری۔"
( وقف غفران اور وقف النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،ج: 14، ص: 208، ط: ادارہ تالیفات اشرفیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144607102563
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن