طلبہ اور ان کے سرپرستوں کے لیے ضروری ہدایات اور قواعد وضوابط
1- ہر طالب علم کی اہلِ سنت والجماعت کے مسلکِ حق سے مکمل وابستگی ضروری ہے۔
2- نماز باجماعت کی پابندی ہر طالب علم کے لیے انتہائی ضروری ہے، ترکِ جماعت کے لیے کوئی غیر شرعی عذر مسموع نہ ہوگا۔
3- ہر طالب علم کا فرض ہے کہ وہ تمام اساتذہ کا انتہائی احترام کرے اور ان سے قلبی وابستگی پیدا کرے، اگرچہ وہ براہِ راست اس کے استاذ نہ ہوں۔
4- ہر طالب کے لیے اخلاق واعمال، صورت وسیرت، وضع قطع اور لباس میں صلحاء امت کی اتباع ضروری ہے، سگریٹ پینا، انگریزی بال رکھنا، داڑھی منڈانا یا خلاف شرع کٹانا قطعاً ممنوع ہے، اپنے ساتھیوں یا ملازمینِ جامعہ سے لڑنا جھگڑنا، بدکلامی یا بداخلاقی سے پیش آنا، ایک دوسرے کی چغلی، عیب جوئی، غیبت، مذاق اُڑانا، بیہودہ مذاق سے اجتناب کرنا ہرطالب علم کا فرض ہے۔
5- ہرطالب علم کو اپنی شکایات اور ضروریات منتظمین اور اساتذہ کے سامنے پیش کرنی چاہئیں۔
6- سبق سے غیر حاضری جرم ہے اور ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث ہے، شدید ضرورت میں خود چھٹی کی درخواست دفتر کو دینا ضروری ہے، دارالاقامہ میں رہنے والے طلبہ کی درخواست اس وقت تک منظور نہ ہوگی جب تک ناظم دارالاقامہ کے دستخط نہ ہوں، باہر رہنے والے طلبہ کو اپنے سرپرست اور پھرکلاس کے نگران استاذ سے دستخط کراکر درخواست پیش کرنا ہوگی۔
7- جو طالب علم مطالعہ اور تکرار میں کوتاہی کرے گا، تنبیہ کے بعد بھی اگرباز نہ آیا تو اس کو سزا دی جائے گی۔
8- طلبہ کے لیے سیاست، جلسہ، جلوس وغیرہ میں شرکت ممنوع ہے، جو طالب علم کسی سیاسی جماعت یا غیر تعلیمی سرگرمی میں ملوث پایاگیا، اسے خارج کردیا جائے گا۔
9- چونکہ جامعہ طلبہ کی تمامتر ضروریات کی کفالت کرتاہے، اس لیے طلبہ کا فرض ہے کہ وہ اپنا تمامتر وقت یکسوئی کے ساتھ تحصیل علم میں صرف کریں اور اپنی حوائج وضروریات کو پورا کرنے کے لیے اور ذرائع کی جستجو نہ کریں۔
10- جو طلبہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے طور پر کوئی دوسرا مشغلہ مثلاً: امامت، مؤذنی وغیرہ اختیار کریں گے، وہ جامعہ کی امداد اور دارالاقامہ کی سکونت کے مستحق نہیں ہوں گے۔
11- جن کم سن طلبہ کی سکونت جامعہ کے دارالاقامہ میں نہ ہو، ان کے سرپرست داخلہ کے وقت ان کے ہمراہ ضرور آئیں اور جامعہ کے قواعد وضوابط اور اساتذہ ومنتظمین کی ہدایات کو سمجھیں اور بچوں سے ان پر عمل کرائیں، خلاف ورزی پر سخت باز پرس کریں، وقتاً فوقتاً جامعہ میں آکر اساتذہ وانتظامیہ سے حالات ضرور معلوم کرتے رہیں، تعطیلات کے ایام میں خاص طور پر بچوں کے اعمال واخلاق کی پوری نگرانی رکھیں اور انہیں بری صحبت سے بچائیں۔
12- دار الاقامہ میں مقیم طلبہ کے لیے عصر ومغرب کے درمیانی وقت کے علاوہ کسی بھی وقت دارالاقامہ سے باہر جانے کے لیے ناظم دارالاقامہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔
13- عصر ومغرب کے درمیانی وقت کے علاوہ بقیہ تمام اوقات میں خصوصاً رات کے اوقات میں دارالاقامہ یا درس گاہوں میں موجودہونا ضروری ہے، اگر کسی وقت بھی دارالاقامہ کی حاضری لی گئی اور کوئی طالب علم موجود نہ ہوا تو وہ سخت سزا کا مستحق ہوگا۔
14- جو طلبہ سیر وتفریح، احباب کی ملاقاتوں، غیرضروری مہمان نوازی میں اپنا وقت ضائع کریں گے، تنبیہ کے بعد بھی اگر وہ باز نہ آئیں تو خارج کردیے جائیں گے۔
15- دارالاقامہ میں بغیر اجازت کے مہمان ٹھہرانے کی اجازت ہرگز نہ ہوگی۔
16- اپنے احباب اور ملنے والوں کو بتادینا چاہیے کہ وہ صرف عصر ومغرب کے درمیان یا جمعہ کے دن ملاقات کے لیے آیا کریں۔
17- ہرطالب علم صفائی وستھرائی کا بھر پور اہتمام کرے، شائستگی، تہذیب واخلاق اور دینداری کا مثالی نمونہ پیش کرے۔
18- جامعہ کے مہتمم، اساتذہ اور منتظمین کو ہر طالب علم سے مکمل باز پرس کا حق ہے، ان کے حکم کی تعمیل کرنا طالب علم کا فرض ہوگا، انہیں کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر مواخذہ کا پورا حق حاصل ہوگا۔
19- ہرطالب علم پر لازمی ہے کہ وہ جامعہ کے قواعد وضوابط اور اساتذہ کی طرف سے دی جانی والی تمام ہدایات کی مکمل پابندی کرے۔