نظام امتحانات
جامعہ کے تمام تعلیمی شعبوں میں سال میں تین امتحانات لیے جاتے ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے:
1- سہ ماہی امتحان صفر المظفر کے پہلے ہفتے میں
2- ششماہی امتحان جمادی الاولیٰ کے پہلے ہفتے میں
3- سالانہ امتحان شعبان کے پہلے ہفتے میں
سہ ماہی اور ششماہی امتحانات تمام تعلیمی شعبوں میں جامعہ کے مقررہ نظم کے مطابق ہوتے ہیں ، جب کہ سالانہ امتحانات میں شعبہ قرآن کے حفاظ طلبہ کا امتحان اور شعبہ درس نظامی برائے طلبہ (درجہ ثانیہ تا دورہ حدیث )اور شعبہ دراسات دینیہ کا امتحان وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نظم کے مطابق ہوتا ہے ۔
شعبہ قاعدہ وناظرہ ، شعبہ حفظ قرآن مجید ، شعبہ حفاظ ایجوکیشن سسٹم ، درجہ اولی شعبہ درس نظامی برائے طلبہ او رشعبہ درس نظامی برائے طالبات کا سالانہ امتحان جامعہ کے مقررہ نظم کے مطابق ہوتے ہیں ۔
امتحانات سے ایک ماہ قبل مجلس تعلیمی کے اجلاس میں امتحان کا نظم ،تاریخ ،جدول ،سوالیہ پرچہ جات اور جوابی كاپیوں کی پڑتال سے متعلق تمام امور اور ذمہ داریوں کو حتمی کرکے طلبہ اوراساتذہ کے لیے امتحانی تاریخوں کا اعلان کردیا جاتا ہے ۔
امتحان سے 20یوم قبل مقررہ اساتذہ کرام متعلقہ سوالیہ پرچہ جات تیار کرکے امتحانی کمیٹی کو مہیا کرتے ہیں ،امتحانی کمیٹی پرچوں کے معیار پر غور کرکے حسب ضرورت ترمیم کرکے، کمپوزنگ اور تصحیح کا اہتمام کرتی ہے ۔
امتحان سے دو یوم قبل امتحانی پرچہ جات کی چھپائی کا عمل مکمل کیا جاتا ہے ۔
دفتر تعلیمات امتحان سے دویوم قبل تمام طلبہ کے لیے باقاعدہ رقم الجلوس کا اجراء کرتا ہے ۔
امتحان سے دو یوم قبل طلبہ کی رہنمائی کے لیے اجتماع منعقد کیا جاتا ہے جس میں امتحان کے قواعد وضوابط کی یاددہانی کرائی جاتی ہے۔
امتحانات کا دورانیہ 8دن ہوتاہے، شعبہ قرآن مجید کے امتحانات بھی اسی دوران ہوتے ہیں ، شعبہ قرآن کے علاوہ تمام تعلیمی شعبوں میں عام طور پر امتحانات تحریری ہوتے ہیں، البتہ درجہ اولیٰ کی صرف ونحو اور تجوید کے مضامین کا امتحان تقریری لیا جاتا ہے، تحریری امتحانات میں عموماً ہر پرچے کے لیے تین گھنٹے کا وقت ہوتا ہے،جامعہ اوراس کی شاخوں میں امتحانات کے اوقات، پرچہ جات اور تمام امتحانی ایک جیسا ہی ہوتاہے۔
سہ ماہی اور ششماہی امتحانات میں سوالات کے پرچے مجلس تعلیمی کی طرف سے متعین کردہ مدرسین بناتے ہیں، سوالیہ پرچوں کو ’’مجلسِ تعلیمی‘‘ کی ’’امتحانی کمیٹی‘‘ کی نظرثانی کے بعد حتمی شکل دی جاتی ہے۔
عام طور پر ہر کتاب اور مضمون کے تین سوالات ہوتے ہیں اور تینوں سوال حل کرنا لازمی ہوتے ہیں، ہر سوال مختلف اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر جز کے الگ نمبر ہوتے ہیں۔
صفوفِ عربیہ اور درجہ خامسہ سے تخصصات تک کے سوالیہ پرچے عربی زبان میں ہوتے ہیں، جب کہ بقیہ درجات کے پرچے اردو زبان میں ہوتے ہیں۔
صفوفِ عربیہ کے طلبہ کے لیے تمام سوالات کے جوابات عربی میں لکھنا لازمی ہے، جب کہ درجہ رابعہ سے دورہ حدیث تک مخصوص پرچوں میں ایک سوال عربی میں حل کرنا تمام طلبہ کے لیے لازمی ہے ، تینوں سوالات کے جوابات درست عربی میں تحریر کرنے پر 6نمبر اضافی دیے جاتے ہیں۔
تمام اساتذہ اپنے متعلقہ پرچے کی جوابی کاپی کی پڑتال مقررہ معیار اور قواعد وضوابط کی روشنی از خود کرتے ہیں ، عموما یومیہ 30 پرچوں کے حساب سے جوابی کاپی کی پڑتال کی مدت مقرر کی جاتی ہے ۔
پرچوں کی پڑتا ل کا مطلوبہ معیار برقرار رکھنے کے لیے ہرامتحانی پرچے کے لیے ایک مشرف مقرر ہوتے ہیں جو جوابی کاپیوں پر نظر ثانی کرتے ہیں معیار کے موافق نہ ہونے پر متعلقہ استاڈدوبارہ پڑتا ل کرتے ہیں ۔
پرچوں کی پڑتال اور نظر ثانی کے بعد دفتر تعلیمات کمپیوٹرائز نتائج مرتب کرتا ہے اور ’’امتحانی کمیٹی‘‘ نتائج کا بغور جائزہ لیتی ہے، اس دورا ن غیر متوازن نمبروں والے پرچوں کے اجزاء کے نمبرات اور مجموعہ کو دوبارہ دیکھا جاتا ہے ۔
امتحان نتائج مرتب ہونے کے بعد مجلس تعلیمی کے اجلاس میں تمام نتائج پر غور کرکے نتائج کا اعلان کردیا جاتا ہے اور ہردرس گاہ میں نتیجہ طلبہ کے لیے مشتہر کردیا جاتا ہے ۔
طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر جماعت میں اول ، دوم، سوم آنے والے طلبہ وطالبات کو انعام دیا جاتا ہے، نیز نوے فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کو بھی انعامات دیے جاتے ہیں۔
ہرمضمون کے 100نمبر ہوتے ہیں، جن میں کامیابی کے لیے کم از کم 50نمبر حاصل کرنا ضروری ہے، جب کہ کامیاب طلبہ کے درجات کا معیار حسب ذیل ہیں:
1- ممتاز مرتفع 90%
2- ممتاز 80%
3- جید جدا 70%
4- جید 60%
5- مقبول 50%
6- راسب 40%