بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1444ھ 29 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

والد کا بیٹوں کو پیسے دے کر مکان خریدنے اور اپنے نام کروانے کے لیے کہنے کی صورت میں مکان کی ملکیت کا حکم


سوال

[ فتوی نمبر:  144107201163  ] والد کا سب جائیداد بیٹوں میں تقسیم کرنا اور بیٹیوں کو محروم کرنا اور اس کی تلافی کا طریقہ:

آپ نے مذکورہ بالا فتوے میں کہا تھا کہ والد نے جو پیسہ اپنے بیٹوں کو دیا اس پیسے کے مالک بیٹے ہو گئے اور وہ پیسہ گفٹ ہوگا،  مگر والد نے اپنا ذاتی مکان جس میں وہ رہتے تھے وہ بیچ کر پیسہ بیٹوں کو دیا تھا اور کہاتھا مکان خرید کر اپنے نام کر لو اور والد، والدہ بھی اپنے بیٹوں کے ساتھ اسی مکان میں شفٹ ہو گئے تھے،والد نے اپنا ذاتی مکان بیچ کر مکان کے پیسے دیے تھے، مگر خریدنے کامعاہدہ بیٹوں نے کیا تھا اور اپنے نام کر لیا تھا والد کے کہنے پر، کیوں کہ والد، والدہ بھی اس مکان میں شفٹ ہو گئے تھے اسی وقت، بعد میں شفٹ نہیں ہوئے تھے، تو معلوم یہ کرنا چاہتا ہوںں کہ چوں کہ  والد نے اس طرح پورا قبضہ تو نہیں دیا اور خود بھی اس مکان میں شفٹ ہو گئے تھے اور اپنا کاروبار بھی کرتے تھے، کیا اس صورت میں بھی گفٹ مکمل ہوگیا تھا؟ اور وہ مکان بیٹوں کی ملکیت ہوگا؟ اس مکان سے والد کا کوئی تعلق نہیں ہوگا اور وہ مکان وراثت میں تقسیم نہیں ہوگا؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر والد نے اپنا مکان بیچ کر اس کے پیسے اپنے بیٹوں کو  ہبہ کی نیت سے دے دیے تھے تو  بیٹے ان پیسوں کے مالک بن گئے تھے، پھر ان پیسوں سے بیٹوں نے جو مکان خریدا تھا وہ بیٹوں کی ملکیت شمار ہوگا، اس مکان میں والد کا کوئی حصہ نہیں ہوگا، چاہے والد اور والدہ اس مکان میں بیٹوں کے ساتھ ہی رہتے ہوں؛ اس لیے والد کے انتقال کے بعد وہ مکان والد کا ترکہ شمار نہیں ہوگا اور ان کی میراث میں تقسیم نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

سابقہ فتویٰ دیکھنے کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

والد کا سب جائیداد بیٹوں میں تقسیم کرنا اور بیٹیوں کو محروم کرنا اور اس کی تلافی کا طریقہ


فتوی نمبر : 144108200644

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں