بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی رکعات کی تعداد آٹھ ہے یا بیس؟


سوال

8 رکعت تراویح پڑھنا جائز ہے? اور سعودیہ میں بھی 8 رکعت تراویح ہوتی ہے!

جواب

بیس رکعت تراویح ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ہے اور یہی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین روز تراویح کی باقاعدہ امامت بھی فرمائی تھی، لیکن صحابہ کے شوق اور جذبہ کو دیکھتے ہوئے تیسرے یا چوتھے روز امامت کے لیے تشریف نہ لائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے مبارک کے باہر انتظار کرتے رہے اور اس خیال سے کہ نبی اکرم صلی علیہ وسلم سو نہ گئے ہوں بعض صحابہ کھنکارنے لگے تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے خوف ہوا کہ کہیں تم پر فرض نہ کردی جائیں؛ اگر فرض کردی گئیں تو تم ادا نہیں کرسکو گے؛ لہذا اے لوگو! اپنے گھروں میں ادا کرو۔ (متفق علیہ)

جب کہ آپ علیہ السلام کا ماہِ رمضان میں بذاتِ خود جماعت کے بغیر بیس رکعت تراویح اور وتر ادا کرنے کا معمول تھا، جیسا کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے السنن الکبریٰ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے:

’’عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: كان النبي صلي الله عليه وسلم يصلي في شهر رمضان في غير جماعة بعشرين ركعةً و الوتر‘‘. ( كتاب الصلاة، باب ما روي في عدد ركعات القيام في شهر رمضان، ٢ ٤٩٦، ط: اداره تالیفات اشرفیه)

مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:

’’عن ابن عباس رضي الله عنه: أن النبي صلي الله عليه وسلم يصلي في رمضان عشرين ركعةً سوی الوتر‘‘. (كتاب صلاة التطوع و الإمامة وأبواب متفرقة، كم يصلي في رمضان ركعة ٢/ ٢٨٦، ط: طیب اکیدمي ) (المعجم الأوسط للطبراني، رقم الحديث: ٧٨٩، (١/ ٢٣٣) و رقم الحديث: ٥٤٤٠، (٤/ ١٢٦) ط: دار الفكر)

نیز اگر امت کسی حدیث کو قبول کرلے اور اس پر سب عمل کریں  تو وہ متواتر کے معنی میں ہوجاتی ہے، اور امت کا کسی حدیث کو قبول کرنا اس کی صحت اور حجت ہونے کی قوی ترین دلیل ہے، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیث اگرچہ خبر واحد ہے، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین،ائمہ مجتہدین اور تمام امت نے اسے قبول کیا ہے ۔

اور بیس رکعت تراویح ادا کرنا صحابہ کرام کا بھی معمول تھا،  یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باجماعت بیس رکعت تراویح کا اہتمام مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کروایا تو ان پر کسی نے نکیر نہیں کی، بلکہ تمام صحابہ کرام نے باجماعت تراویح کے اہتمام پر اتفاق کیا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کابیس رکعات پراتفاق یعنی اجماعِ صحابہ اس بات کی شہادت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح بیس رکعات ہی پڑھائی ہیں۔

نیز اصولِ حدیث کا ضابطہ ہے کہ دین اور آخرت سے متعلق امور میں اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوئی فضیلت یا وعید یا تعداد وغیرہ متعین کرکے بتائیں، تو وہ اپنی طرف سے نہیں بتاتے، بلکہ اس بارے میں ان کے پاس کوئی اصل اور دلیل ضرور ہوتی ہے جو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوتی ہے، لہٰذا اس طرح کے امور سے متعلق صحابی کا اپنا قول بھی حدیث مرفوع کا درجہ رکھتاہے، کیوں کہ صحابہ کرام دین کے احکامات میں اپنی طرف سے ہرگز اضافہ نہیں کرسکتے۔

علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے خلفاءِ راشدین کی سنت کی پیروی کا بھی حکم دیا ہے، اس اعتبار سے بھی اگر کوئی خلیفہ راشد کوئی رسمِ خیر جاری کریں تو اس کی اتباع خود رسول اللہ ﷺ کی اتباع ہے، اور ان کی سنت کو رسول اللہ ﷺ کی ہی سنت کہا جائے گا۔

اور صحابہ کرام کے اجماع سے لے کر آج تک تمام فقہاءِ کرام اور امتِ مسلمہ کا اجماع ہے، اور تمام فقہاء کے نزدیک تراویح بیس رکعات سنت ہے، اور بلاعذر اس کاتارک گناہ گار ہے، اور بیس رکعت تراویح کا انکارنصوصِِ شرعیہ سے ناواقفیت، جمہور فقہا ءِ کرام کی مخالفت اور گم راہی ہے، اور  تراویح کو آٹھ رکعت کہنا اور اس پرعمل کرنا اجماعِ امت کے خلاف ہے۔

مرقاةاالمفاتیح   میں ہے:

’’لكن أجمع الصحابة علی أن التراويح عشرون ركعةً‘‘. (كتاب الصلاة، باب قيام شهر رمضان، ٣/ ٣٨٢، ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

’’التراويح سنة مؤكدة؛ لمواظبة الخلفاء الراشدين‘‘. (كتاب الصلاة، مبحث صلاة التراويح، ٢/ ٤٣، ط: سعيد)

سعودی عرب کے نامورعالم مسجدِنبوی کے مشہورمدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمدسالم رحمہ اللہ (متوفی ۱۹۹۹ء) نے نمازِتراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب (التراویح أکثرمن ألف عامٍ في المسجد النبوي)  لکھی ہے،  کتاب کے مقدمہ میں تصنیف کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

مسجدِ نبوی میں نمازِ تراویح ہو رہی ہوتی ہے تو بعض لوگ آٹھ  رکعت پڑھ کر ہی رک جاتے ہیں، ان کا یہ گمان ہے کہ آٹھ  رکعت تراویح پڑھنا بہتر ہے اور اس سے زیادہ جائز نہیں ہے، اس طرح یہ لوگ مسجدِنبوی میں بقیہ تراویح کے ثواب سے محروم رہتے ہیں۔ ان کی اس محرومی کو دیکھ  کر بہت افسوس ہوتا ہے، لہٰذا میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں، تاکہ ان لوگوں کے شکوک وشبہات ختم ہوں اور ان کو بیس رکعت تراویح پڑھنے کی توفیق ہوجائے۔

اس کتاب میں ۱۴۰۰ سالہ تاریخ پر مدلل بحث کرنے کے بعد شیخ عطیہ محمدسالم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’اس تفصیلی تجزیہ کے بعدہم اپنے قُراء سے اولاً تو یہ پوچھنا چاہیں گے کہ کیا ایک ہزار سال سے زائد اس طویل عرصہ میں کسی ایک موقع پر بھی یہ ثابت ہے کہ مسجدِنبوی میں مستقل آٹھ رکعت تراویح پڑھی جاتی تھیں؟ یاچلیں بیس سے کم تراویح پڑھناہی ثابت ہو؟ بلکہ ثابت تویہ ہے کہ پورے  چودہ سوسالہ دور میں بیس یا اس سے زائدہی پڑھی جاتی تھیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیاکسی صحابیؓ یاماضی کے کسی ایک عالم نے بھی یہ فتویٰ دیاکہ ۸ سے زائدتراویح جائز نہیں ہیں اوراس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو اس فتوے کی بنیاد بنایا ہو؟ ۔‘‘ (ماہنامہ دارالعلوم دیوبند، ص:۴۸، بابت ماہ جولائی اگست، ۲۰۱۳ء) 

مزید تفصیل کے لیے جامعہ کے ترجمان رسالہ ”ماہنامہ بینات“ میں اس موضوع پر تفصیلی مضمون ملاحظہ فرمائیں:

رکعاتِ تراویح بیس یا آٹھ۔۔۔۔۔!

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200398

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں