بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1441ھ- 06 اگست 2020 ء

بینات

 
 

رکعاتِ تراویح بیس یا آٹھ۔۔۔۔۔!

رکعاتِ تراویح بیس یا آٹھ۔۔۔۔۔!


حق جل مجدہٗ نے اس اُمتِ محمدیہ پراپنے بے پناہ احسانات میں سے ایک احسان رمضان المبارک کی صورت میں بھی فرمایا اورپھراس ایک احسان میں اللہ جل جلالہٗ کے اَن گنت احسانات اورانعامات چھپے ہوئے ہیں، جن کاشمارہم جیسے ضعفاء کے بس سے باہرہے۔ خودقرآن کریم ہی کی گواہی ہے:’’وَإِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ لَاتُحْصُوْھَا۔‘‘ (ابراہیم ۳۴)۔۔۔۔۔ ’’اللہ کی نعمتوں کواگرگنناچاہوتوتم نہیں گن سکتے۔‘‘ عجیب بابرکت وباعظمت مہینہ ہے، گویاعالم روحانیت کاموسم بہارہے۔ اس ماہ مبارک میں ایک نفل کاثواب فرض کے برابر اورایک فرض کاثواب سترفرضوں کے برابر کردیا جاتا ہے۔ کتنے خوش بخت وخوش نصیب ہیں وہ لوگ جو رمضان المبارک میں اپنی زندگی کے لمحات کو قیمتی بنالیتے ہیں اور کثرتِ عبادت وتلاوت میں مشغول ہوجاتے ہیں، مگرآہ! کچھ ایسے بھی ہیں جولوگوں کوبجائے کثرت کے قلت کی طرف کھینچنے لگتے ہیں اوربزعم خودوہ اس بات کوکارِ خیربھی سمجھتے ہیں :

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

رمضان المبارک میں دن کاروزہ فرض اوررات کی تراویح مسنون ہے، حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک ارشاد منقول ہے:
 ’’جَعَلَ اللّٰہُ صِیَامَہٗ فَرِیْضَۃً وَقِیَامَ لَیْلَۃ تَطَوُّعًا۔‘‘ (مشکوٰۃ، ص:۱۷۳)
 ’’ اللہ تعالیٰ نے اس کے (دن کے)روزہ کوفرض اوررات کے قیام (یعنی تراویح )کوثواب کی چیز بنایا۔‘‘
ایک اور روایت میں ہے:
’’وَسَنَّنْتُ لَکُمْ قِیَامَہٗ۔‘‘ (نسائی، ج:۱،ص:۲۳۹) 
’’میںنے اس کے قیام (تراویح)کوتمہارے لیے سنت بنایاہے۔‘‘

تراویح عہدنبوی میں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دورِ مبارک میں تراویح کی ترغیب بھی ارشادفرمائی اوراس کی فضیلت بھی بہت بیان فرمائی، چنانچہ حدیث پاک میں ہے: ’’جس نے رمضان کاروزہ رکھا، ایمان اورثواب کی نیت سے اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جس نے رمضان مبارک میں قیام (تراویح) کیا، اس کے بھی سارے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔‘‘ (مشکوٰۃ، ص: ۱۷۳)
ایک اور حدیث میں ہے:
’’إِنَّ اللّٰہَ فَرَضَ عَلَیْکُمْ صِیَامَ رَمَضَانَ وَسَنَّنْتُ لَکُمْ قِیَامَہٗ، فَمَنْ صَامَہٗ وَقَامَہٗ إِیْمَانًا وَ احْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوْبِہٖ کَیَوْمٍ وَلَدَتْہُ أُمُّہٗ۔‘‘ (جامع الاصول، ج:۹،ص:۴۴۱،بروایت نسائی)
’’بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پررمضان کاروزہ فرض کیا ہے اور اس نے تمہارے لیے اس قیام کو سنت قراردیا ہے۔ پس جس نے ایمان کے جذبے اورثواب کی نیت سے اس کاصیام (روزہ) و قیام کیا، وہ اپنے گناہوں سے ایسا نکل جائے گا، جیسا کہ جس دن اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔‘‘
دیکھیے! کتنی بڑی فضیلت ہے، مگرحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جماعت کے ساتھ چند راتوں کے سوا ادا نہیں فرمایا۔ وہ چند راتیں کونسی تھیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باجماعت صلوٰۃ تراویح ادا فرمائی؟ سنئے! حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے مہینے میں ہمیں رات میں نماز نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ سات دن باقی رہ گئے تو (تیئیسویں رات میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، یہاں تک کہ تہائی رات گزر گئی۔ جب چھ دن رہ گئے تو نماز نہیں پڑھائی (یعنی چوبیسویں رات میں) پھر جب پانچ دن رہ گئے تو نماز پڑھائی (یعنی پچیسویں رات میں) یہاں تک کہ آدھی رات گزرگئی۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اگر آپ اس رات کے باقی حصے میں بھی ہمیں نفل پڑھا دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص امام کے ساتھ نماز (عشاء) پڑھے، پھر اپنے گھر واپس جائے تو پوری رات نماز پڑھنے والا شمار کیا جائے گا۔ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: جب چار دن رہ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی (یعنی چھبیسویں رات میں) جب تین دن باقی رہ گئے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھروالوں، عورتوں، اور دیگر لوگوں کو جمع کیا اور نماز پڑھائی (یعنی ستائیسویں رات میں) اتنی لمبی نماز پڑھائی کہ ہمیں یہ اندیشہ ہونے لگا کہ ہم سے فلاح رہ جائے گی۔ حضرت جبیر بن نفیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: فلاح رہ جانے کا کیا مطلب ہے؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سحری مراد ہے، پھر باقی ایام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی۔ (ابوداؤد،ج:۱،ص:۱۹۵)
یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲۳ کی رات میں تہائی رات تک ۲۵ویں رات میں آدھی رات تک اور ۲۷ کی رات میں سحری تک نماز پڑھائی۔ اس کے بعدپھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازنہیں پڑھائی، کیوں نہیں پڑھائی؟ اس کا جواب بھی خودحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا ہے۔ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتلایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ درمیان رات میں گھر سے تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدمیں نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لوگوں نے بھی وہی نماز پڑھی، جب صبح ہوئی تو لوگوں نے (پچھلی رات کی نماز کا) تذکرہ آپس میں کیا۔ چنانچہ دوسری رات پہلے سے زیادہ تعداد ہوگئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہی نمازلوگوں نے بھی پڑھی۔ صبح ہوئی تو پھر چرچا ہوا اور تیسری رات لوگوں کی تعداد اور بھی زیادہ بڑھ گئی، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی وہی نماز پڑھی۔ جب چوتھی رات آئی تو مسجد نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے تنگ ہوگئی، اس رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فجرکی نمازکے لیے تشریف لائے، جب نماز ادا کرلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنابیان کی اور فرمایا: تمہارا یہاں آنا مجھ پر مخفی نہیں تھا، لیکن میں ڈرا کہ کہیں (تمہارے اس شوق وذوق اور رغبت کو دیکھ کر اللہ کی طرف سے) تم پر یہ نماز فرض نہ ہوجائے اور تم اس کے ادا کرنے سے عاجز ہوجائو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور معاملہ اس طرح رہا۔ (بخاری، ج:۱، ص:۲۶۹، مسلم، ج:۱، ص:۲۵۹)
اُمیدہے کہ اب بات سمجھ آگئی ہوگی کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تین راتوں کے بعدیہ نمازکیوں نہیں پڑھائی؟! پھرسنئے! اُمت پر شفقت اورترس تھاکہ میری اُمت بڑی کمزورہے، کہیں اللہ کی طرف سے فرضیت کا حکم نہ آجائے، بایں وجہ تین راتیں جماعت کرواکر جماعت کا ثبوت بھی امت کو عطا فرمادیا اور اس نماز کے اُمت پر فرض ہونے سے بھی امت کو بچادیا، فصلی اللّٰہ علیہ وسلم تسلیماکثیرًا کثیرًا أبدًا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کتنی رکعتیں پڑھاکرتے تھے رمضان میں…؟

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیںکہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بیس رکعت (تراویح) اور وتر پڑھا کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج:۲،ص:۲۹۴۔ بیہقی، ج:۲،ص:۴۹۶)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ایک رات رمضان المبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چوبیس رکعت (۴ عشاء کے فرض اور۲۰تراویح) پڑھائیں اورتین رکعت وترپڑھائے۔ (تاریخ جرجان للسہمی، ص:۲۷۰)
 ۱:… ہم نے یہ دو حدیثیں بیس رکعات کے ثبوت پر پیش کر دی ہیں۔ اس باب میں ہمارے لیے ’’اصل‘‘ اہلِ سنت والجماعت کے چار اُصول (قرآن، سنت، اجماع اور قیاس) میںسے تیسرااصول ’’اجماع‘‘ ہے، جیساکہ آئندہ صفحات میں ان شاء اللہ! آپ ملاحظہ فرمائیںگے۔ جہاں تک حضرات غیرمقلدین کی بات ہے، وہ توان احادیث کوسرے سے ضعیف یاغیرصحیح کہہ بھی نہیں سکتے کہ ان کے اصول دو ہیں: قرآن و حدیث۔ نہ قرآن میں ان احادیث کوضعیف کہاگیا، نہ ہی حدیث میں ان پرضعف کاحکم لگایا گیا۔ کسی اُمتی کاقول مانناان کے ہاں شرک ہے۔
۲:… امت کااس بات پراجماع ہے کہ ’’تلقی بالقبول‘‘سے حدیث صحیح ہوجاتی ہے اور اس بات کو اپنے اور غیر سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ بیس رکعت تراویح کو اُمت کی اکثریت کے ہاں ’’تلقی بالقبول‘‘ کا درجہ حاصل ہے۔

خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی جاری کردہ سنت کے بارے میں وصیت نبوی

آگے جانے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی جاری کردہ سنت کی حیثیت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک سے معلوم کرلیں۔ ارشادِ نبوی ہے:
’’جوشخص تم میں سے میرے بعدجیتارہا، وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا، پس میری سنت کو اور خلفائے راشدین مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو، اسے مضبوطی سے تھام لواوردانتوں سے مضبوط پکڑلو۔ نئی نئی باتوںسے احترازکرو، کیونکہ ہرنئی بات بدعت ہے اورہربدعت گمراہی ہے۔‘‘ (مشکوٰۃ،ج:۱، ص:۳۰)
اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوگیاکہ حضرات خلفاء راشدینؓ (یعنی حضرت ابوبکرصدیق، عمر فاروق ، عثمان غنی اور علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہم ) کی پیروی اورتابعداری لازمی اورضروری ہے اوراس سے اعراض وانحراف اور اس کی مخالفت بدعت وگمراہی ہے، اس بات کو ذہن میں بٹھلاکر آگے چلتے ہیں۔ واللّٰہ المستعان

تراویح عہدصدیقی میں

جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دورمیں تراویح کاباقاعدہ جماعت کے ساتھ اہتمام نہیں تھا، بلکہ لوگ تنہا یاچھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں پڑھتے تھے، جیساکہ حدیث میں آتاہے:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں ایک رات مسجدمیں تشریف لائے تولوگوں کومسجدکے ایک کونے میں نمازپڑھتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ لوگ کیاکررہے ہیں؟ ایک کہنے والے نے کہا: یارسول اللہ! ان لوگوں کو قرآن یاد نہیں ہے، حضرت اُبی بن کعبؓ (نماز میں قرآن) پڑھ رہے ہیں اور یہ ان کی اقتداء میں نماز ادا کررہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے اچھا کیا، یا یہ فرمایاکہ: صحیح کیا، اور یہ چیزآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ناپسندنہیں کی۔ ‘‘ (معرفۃ السنن والآثارللبیہقی، ج:۴،ص:۳۹،بحوالہ حدیث اور اہل حدیث، ص:۶۳۵)
سیدناحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے دورمیں بھی ایساہی معاملہ رہا۔ (اختلافِ امت اورصراطِ مستقیم، حصہ دوم، ص:۲۷۲)

عہدِفاروقی 

۱:… حضرت عبدالرحمنؒ فرماتے ہیں کہ: ’’میں ایک رات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کی طرف نکلا تو دیکھا کہ لوگ مختلف گروہوں میں متفرق ہیں، کوئی اکیلا نماز پڑھتا ہے اور کوئی ایسا تھا کہ ایک گروہ اس کے ساتھ نمازپڑھتاتھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ اگر میں ان کوایک قاری کے پیچھے اکٹھاکردوں توزیادہ بہترہوگا،پھر آپؓ نے ان کوحضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر اکٹھا کردیا۔ (بخاری، ج:۱،ص:۲۶۹، مسلم، ج:۱، ص:۲۵۹)
۲:… حضرت یحییٰ بن سعیدؒ فرماتے ہیں کہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کوحکم دیاکہ وہ لوگوں کو بیس رکعتیں پڑھائے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج:۲، ص:۲۹۳)
۳:… حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیاکہ میں رمضان میں لوگوں کو تراویح پڑھائوں، پس بیس رکعت پڑھی جاتی تھیں۔ (کنزالعمال،ج:۸، ص:۲۶۴)
۴:… حضرت حسنؒ سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کوحضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پر اکٹھا کر دیا، آپ رضی اللہ عنہ انہیں بیس رکعتیں پڑھاتے تھے۔(سیراعلام النبلاء، ج:۱،ص:۴۰۰۔ جامع المسانیدوالسنن، ج:۱،ص:۵۵)
۵:… حضرت عبدالعزیزبن رفیع ؒ فرماتے ہیں کہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رمضان المبارک میں مدینہ طیبہ میں لوگوں کو بیس رکعات تراویح پڑھاتے تھے اور تین وتر پڑھاتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ، ج:۲،ص:۳۹۳)
۶:… حضرت یزیدبن رومانؒ فرماتے ہیں کہ: لوگ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں رمضان میں (۲۳) رکعات پڑھا کرتے تھے (یعنی ۲۰ تروایح اور ۳وتر)۔ (مؤطاامام مالک، ج:۱،ص:۹۸۔ سنن کبریٰ بیہقی، ج:۲،ص:۴۹۶)

حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ کا ارشاد

قاضی ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: میں نے حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے تراویح اور اس سلسلہ میں جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا ہے، اس کے متعلق سوال کیا تو آپؒ نے فرمایا: تراویح سنتِ مؤکدہ ہے اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے ۲۰رکعات مقررو متعین نہیں کیں اورنہ وہ کسی بدعت کے ایجاد کرنے والے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ۲۰ کا حکم دیاہے، اس کی آپ کے پاس ضرور کوئی اصل تھی اور ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سنت جاری کی اور لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ پر جمع کیا، پس انہوں نے تراویح کی جماعت کروائی، اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کثیر تعداد میں موجود تھے۔ حضرت عثمانؓ،علیؓ، ابن مسعودؓ، عباسؓ،ابن عباسؓ،طلحہؓ،زبیرؓ،معاذؓ،اُبیؓ اوردیگر مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم سب موجود تھے، مگر کسی نے بھی اس کو رد نہیں کیا، بلکہ سب نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے موافقت کی اور اس کا حکم دیا۔ (اختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم، ص:۲۹۲، بحوالہ الاختیارلتعلیل المختار، ج:۱،ص:۶۸)

مندرجہ بالاروایات سے یہ باتیں سامنے آئیں:

۱:… حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب سے پہلے تراویح میں ایک امام کے پیچھے لوگوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے باقاعدہ جمع کیا،کیو نکہ اب تراویح کے فرض ہونے کا خدشہ ختم ہوگیاتھا ۔
۲:… حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس امام کوبیس رکعت پڑھانے کاحکم دیا۔
۳:…حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورمیں بیس رکعت تراویح کے ساتھ ۳ رکعت وتربھی پڑھائے جاتے تھے۔
۴:… حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس عمل اور امر پرکسی ایک بھی صحابیؓ کاانکارثابت نہیں ہے۔
۵:… امامت أقرء الامۃ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کراتے تھے، ان سے بھی انکار ثابت نہیں۔ وہ بھی بیس رکعت ہی پڑھاتے رہے۔
۶:…کسی کا انکار نہ کرنا بمنزلہ اجماع کے ہوگیا، یعنی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بیس رکعت پر اجماع ہوگیا۔

عہدِعثمانی

حضرت سائب بن یزیدسے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں رمضان کے اندر بیس رکعت تراویح کااہتمام تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کرتے تھے اور۱۰۰، ۱۰۰ آیات والی سورتیں پڑھا کرتے تھے اورحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں شدتِ قیام اورطولِ قیام کی وجہ سے لوگ اپنی لاٹھیوں کو سہارا بھی بنالیا کرتے تھے۔(سنن کبریٰ، ج:۲،ص:۴۹۶)
گویاحضرت امیرعثمان رضی اللہ عنہ کے دورمیں بھی بیس رکعت پڑھی جاتی تھیں، اگربیس رکعت نہ پڑھی جاتیں توراوی اس کو ضرورنقل کرتے۔

عہدِمرتضوی 

۱:… حضرت عبدالرحمن السلمی فرماتے ہیں کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ رمضان کے اندرقاریوں کو بلاتے، پھر ان میں سے ایک کو بیس رکعت تراویح کے لیے لوگوں کی امامت کا حکم فرماتے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ (خود) لوگوں کو وتر پڑھاتے تھے۔ (سنن کبریٰ، ج:۲،ص:۴۹۶)
۲:… حضرت ابوالحسناء فرماتے ہیں کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کوحکم دیاکہ وہ لوگوں کو پانچ ترویحے یعنی بیس رکعت تراویح پڑھایاکرے۔(سنن کبریٰ، ج:۲،ص:۴۹۶ ومصنف ابن ابی شیبہ، ج:۲، ص: ۳۹۳)

حضرت علی رضی اللہ عنہ کااپناعمل

امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: حضرت جابرؓ،حضرت علیؓاور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہم تراویح جماعت کے ساتھ اداکرتے تھے۔(المغنی لابن قدامہ، ج:۲،ص:۱۶۸)
حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کاعمل اوران کے دورمیں بیس رکعت تراویح کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں، اب جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں ملاحظہ کریں:

جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 

۱:…حضرت عطاء رحمہ اللہ (متوفیٰ۱۱۴ھ) فرماتے ہیں کہ: میں نے لوگوں (صحابہؓ وتابعینؒ) کو بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھتے ہی پایا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج:۲، ص:۳۹۳)
۲:… حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ لوگوں کو رمضان میں مدینہ منورہ میں بیس تراویح اور تین وتر پڑھاتے تھے۔ (ایضاً)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ 

اَفقہ الامۃ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رمضان میں بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھتے تھے۔ (مختصرقیام اللیل للمروزی، ص:۱۵۷) 

۲۰رکعات تراویح پر اجماع صحابہؓ

۱:… علامہ قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورمیں جو ہوا فقہاء نے اجماع کی طرح شمار کیا۔ (ارشاد الساری لشرح البخاری، ج:۳،ص:۵۱۵)
۲:… مشہورمحدث حضرت ملاعلی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیںکہ: ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کااس بات پراجماع ہے کہ تراویح بیس رکعت ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، ج:۳،ص:۱۹۴)
۳:… ’’فصار إجماعًا الخ‘‘کہ تراویح بیس رکعت ہونے پراجماع ہوگیا۔ (شرح النقایہ، ج:۲، ص:۲۴۱)

مذاہبِ ائمہ اربعہ ؒ

 

 اہل سنت والجماعت کے یہ چاروں مذاہب (حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی) بھی اس بات پر متفق ہیں کہ تراویح ۲۰رکعت سے کم نہیں ہیں۔ جی توچاہتاہے کہ اس پرچندحوالہ جات اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کردوں، مگرمضمون کافی طویل ہوتاجارہاہے، اس لیے صرف ایک حوالہ علامہ محمدانورشاہ کشمیری رحمہ اللہ کا پیش کرتا ہوں، فرماتے ہیں: ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک سے بھی بیس رکعت تراویح سے کم کا قول منقول نہیں اور جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کایہی مذہب تھا۔ (العرف الشذی، ص:۳۰۸، بحوالہ خزائن السنن، حصہ سوئم، ص:۳۴) 

امام ترمذیؒ کاارشاد

’’وأکثراھل العلم علی ماروي عن علي وعمر وغیرھما من أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم عشرین رکعۃ وھو قول سفیان و ابن المبارک والشافعي وقال الشافعی: وھکذا أدرکت ببلدنا بمکۃ یصلون عشرین رکعۃ۔‘‘ (سنن ترمذی، ج:۱،ص:۹۹)
’’ اکثر اہلِ علم بیس رکعت کے قائل ہیں جیسا کہ حضرت علیؓ، حضرت عمرؓاوردیگرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔ سفیان ثوریؒ، عبداللہ بن مبارکؒ اورامام شافعی رحمۃ اللہ علیہم کایہی قول ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :میں نے اپنے شہرمکہ مکرمہ میں لوگوں کو بیس رکعت پڑھتے ہی پایا ہے۔‘‘

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ قدس سرہٗ کافرمان

’’قدثبت أن أبي بن کعب کان یقوم بالناس عشرین رکعۃ في رمضان ویوتر بثلٰث فرأی کثیرمن العلماء أن ذٰلک ھوالسنۃ لأنہٗ قام بین المہاجرین والأنصار ولم ینکرہ منکر۔‘‘ (فتاویٰ ابن تیمیہ، ج:۲۳،ص:۱۱۲)
’’یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ لوگوں (صحابہؓ وتابعینؒ) کو رمضان المبارک میں بیس رکعات تراویح اور تین وتر پڑھاتے تھے، پس بہت سارے علماء نے اسی کو سنت قراردیاہے، کیونکہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیس رکعتیں حضرات انصارومہاجرین رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں پڑھائی تھیں اورکسی نے انکارنہیں کیا۔‘‘
دیکھئے! علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ جیسے انسان جن کا تشدد مشہور ہے، بیس رکعت کو ’’بدعت‘‘ نہیں ’’سنت ‘‘کہہ رہے ہیں۔

بیس رکعت تراویح کی حکمت

علامہ محمدیوسف لدھیانوی شہیدقدس سرہٗ نے بیس رکعت تراویح کی حکمتیں بیان کرتے ہوئے تین حوالہ جات نقل فرمائے ہیں، اختصار کے پیشِ نظر ہم ان کا صرف ترجمہ نقل کرتے ہیں:
۱:… علامہ حلبی رحمہ اللہ نے ذکرکیاہے کہ : ’’تراویح کے بیس رکعات ہونے میں حکمت یہ ہے کہ سنن، فرائض اور واجبات کی تکمیل کے لیے مشروع ہوئی ہیں اورفرائضِ پنجگانہ وترسمیت بیس رکعات ہیں، لہٰذا تراویح بھی بیس رکعات ہوئیں، تاکہ ’’مُکمَّل ‘‘اور ’’مُکمِّل‘‘ کے درمیان مساوات ہوجائے۔‘‘ (البحرالرائق، ج:۲،ص:۷۲)
۲:… علامہ منصوربن یونس حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ اوربیس تراویح میں حکمت یہ ہے کہ سنن مؤکدہ دس ہیں۔ (۲ صبح کی،۴قبل الظہر، ۲بعدالظہر، ۲بعدالمغرب )پس رمضان میں ان کو دوچند کردیا گیا، کیونکہ وہ محنت وریاضت کاوقت ہے۔‘‘ (کشف القناع عن متن الاقناع،ج:۱،ص:۳۹۲ )
۳:… حکیم الامت حضر ت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اس امرکوذکرکرتے ہوئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تراویح کی بیس رکعتیں قراردیں، اس کی حکمت یہ بیان کرتے ہیں: ’’اور یہ اس لیے کہ انہوں نے دیکھاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محسنین کے لیے(صلوٰۃ اللیل) گیارہ رکعتیں پورے سال میں مشروع فرمائی ہیں، پس ان کا فیصلہ یہ ہوا کہ رمضان مبارک میں جب مسلمان تشبہ بالملکوت کے دریا میں غوطہ لگانے کا قصد رکھتا ہے تو اس کا حصہ سال بھر کی رکعتوں کے دوگنا سے کم نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ، ج:۲، ص:۸، بحوالہ اختلاف امت اورصراط مستقیم، ج:۲،ص:۲۹۴)
ناظرین باتمکین! آپ نے ملاحظہ فرمالیاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارکہ سے لے کرخلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانۂ مبارکہ اور سلفِ صالحین کے دورمیں تراویح بیس رکعت ہی پڑھی پڑھائی جاتی تھیں اور کوئی ایک بھی نہ اس کا منکر رہا اور نہ اس کے بدعت ہونے کاکسی نے فتویٰ دیا، حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی اورخلیفہ راشد خود روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ: ’’جس نے بدعت ایجادکی اس کا نہ فرض قبول ہے، نہ نفل۔‘‘ (بخاری، ج:۲، ص:۱۰۸۴) 
وہ بھی اور تمام انصار و مہاجرین رضی اللہ عنہم بیس رکعت کوپڑھتے پڑھاتے ہیں، اگربیس رکعت تراویح بدعت ہوتی (جیساکہ غیر مقلدین حضرات کا فتویٰ ہے) تو کیا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو معیارِ ایمان ہیں، وہ اس پرعمل کرتے؟! حاشا وکلا ہرگزنہیں، ہرگزنہیں۔

تراویح کے آٹھ ہونے کاسب سے پہلافتویٰ اوراس کاجواب

امام اہلِ سنت حضرت شیخ الحدیث مولانامحمدسرفرازخان صفدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ’’ہماری دانست کے مطابق خطۂ پنجاب میں سب سے پہلے جن صاحب نے تراویح کے آٹھ ہونے کافتویٰ دیاہے، وہ مولوی مفتی محمدحسین صاحب بٹالوی گورداسپوری ہیں۔
پھرآگے فرماتے ہیں: ’’جواس علاقہ کے غیرمقلدین حضرات کے روحِ رواں تصورہوتے تھے۔ ان کے فتوے کاجواب اگرکوئی حنفی یامقلد عالم دیتا تو باوجود معقول اور درست ہونے کے کہنے والے اس کو تعصب کی پیداوار کہہ کر دیتے، لیکن پروردگارنے یہ کام ایک اہل حدیث اورغیرمقلدعالم سے لیا،یعنی حضرت مولاناغلام رسول صاحب قلعہ میہاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ۔‘‘ (رسالہ تراویح، ص:۸)
چنانچہ مولوی محمدحسین بٹالوی کے جواب میں مولاناغلام رسول صاحب نے ایک رسالہ لکھا: ’’رسالۂ تراویح‘‘ اور اس میں بٹالوی صاحب کے آٹھ رکعت تراویح والے فتوے کا علمی اور تحقیقی طور پر خوب رد کیا اور اس بے بنیاد فتوے کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں اور بٹالوی صاحب کو ’’غالی‘‘ کا لقب دیا۔
عجیب بات: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کاعمل توبدعت نظر آگیا، مگر بارہ سوسال بعد والے مولوی کا فتویٰ عین سنت۔ایں چہ بوالعجبی است

آٹھ رکعت کے قائلین کی دلیل اوراس کے جوابات

’’عَنْ أَبِيْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّہٗ سَأَلَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا کَیْفَ کَانَتْ صَلوٰۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِيْ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ: مَاکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَزِیْدُ فِيْ رَمَضَانَ وَلَافِيْ غَیْرِہٖ عَلٰی إِحْدٰی عَشَرَۃَ رَکَعَۃً یُصَلِّيْ أَرْبَعًا فَلا تَسْئَلْ عَنْ حُسْنِھِنَّ وَطُوْلِھِنَّ ثُمَّ یُصَلِّيْ أَرْبَعًا فَلا تَسْئَلْ عَنْ حُسْنِھِنَّ وَطُوْلِھِنَّ ثُمَّ یُصَلِّيْ ثَلاَ ثًا۔ قَالَتْ عَائِشَۃؓ: فَقُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوْتِرَ؟ فَقَالَ: یَاعَائِشَۃُ ! إِنَّ عَیْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَایَنَامُ قَلْبِيْ۔‘‘
’’حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں نماز کی کیا کیفیت ہوا کرتی تھی؟ توحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایاکہ: اللہ کے رسول رمضان اورغیررمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے چاررکعت ادافرماتے تھے، پس ان کی خوبی اورلمبائی کے بارے میں مت پوچھ (کہ وہ کتنی لمبی اور خوب ہوا کرتی تھیں) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعت اسی طرح پڑھا کرتے تھے۔ پھر تین رکعت وتر پڑھا کرتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: میں نے عرض کیاکہ: آپ وترپڑھنے سے پہلے سوجاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں، میرادل نہیں سوتا۔‘‘ (بخاری، ج:۱،ص:۱۵۴۔مسلم، ج:۱،ص: ۲۵۴)

غیر مقلدین حضرات مذکورہ بالا حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ تراویح آٹھ ہیں:
الجواب: حضرت مولانامحمدامین صفدراوکاڑوی رحمہ اللہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ: 
’’خود غیر مقلدین کا بھی اس حدیث پر عمل نہیں۔ یہاں غیررمضان کالفظ ہے، وہ غیرمقلدین غیررمضان (رمضان کے علاوہ) میں تراویح نہیں پڑھتے۔ یہاں چار چار رکعت کا ذکرہے، وہ دو دو پڑھتے ہیں۔ یہاں گھر میں نماز کا ذکر ہے، وہ مسجد میں پڑھتے ہیں۔ یہاں تین وتر کا ذکر ہے، وہ ایک پڑھتے ہیں۔ یہاں بلاجماعت نمازکاذکرہے، وہ باجماعت پڑھتے ہیں۔ یہاں وترسے پہلے سونے کا ذکر ہے، وہ وتر سے پہلے نہیں سوتے۔‘‘ (تجلیاتِ صفدر، ج:۳، ص:۳۳۳)
دراصل اس حدیث کا تعلق تہجد سے ہے، لیکن ان حضرات نے اس کو تراویح پر بھی فٹ کردیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث کوروایت کرنے والی ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ ہیں، جن کی وفات ۵۷ھ میں ہے۔ اورحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح کی جماعت ۱۵ھ میں شروع کرائی، بقول حضرت مولانا اوکاڑویؒ : 
’’پورے بیالیس سال اماں جانؓ کے حجرہ کے ساتھ متصل مسجدِ نبوی میں ۲۰رکعت تراویح کی بدعت جاری رہی، اماں جان خودنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت فرماتی ہیں کہ: جس نے اس دین میں بدعت جاری کی وہ مردودہے۔ (بخاری،مسلم) مگر یہ ثابت نہیں کیا جاسکتاکہ اماں جانؓ نے بیالیس سال میں ایک دفعہ بھی اس تہجدوالی حدیث کوبیس تراویح والوں کے خلاف پیش فرمایاہو۔ اب دو ہی راستے ہیں: یا تو یہ مان لیا جائے کہ اس حدیث کاتراویح سے کوئی تعلق نہیں، اماں جان یہی سمجھتی تھیں، یایہ مان لیا جائے کہ اس حدیث کوبیس تراویح کے خلاف ہی سمجھتی تھیں، لیکن ان کے دل میں سنت کی محبت اور بدعت سے نفرت اتنی بھی نہ تھی جتنی آج کل کے ان پڑھ غیرمقلدین میں ہے۔ یہ تورافضی ہی کی سوچ ہوسکتی ہے۔‘‘ (تجلیاتِ صفدر، ج:۳،ص:۲۷۲، ۲۷۳)
اور بھی کئی جوابات دیئے گئے ہیں، باذوق حضرات ان کو خزائن السنن، ج:۱، حصہ سوم، درسِ ترمذی، ج:۲، تجلیاتِ صفدر، ج:۳، حدیث اوراہل حدیث، مجموعہ مقالات، نمازمسنون وغیرہ میں ملاحظہ فرمائیں۔ 

ایک نظر اِدھر بھی

سعودی عرب کے نامورعالم مسجدِنبوی کے مشہورمدرس اور مدینہ منورہ کے (سابق) قاضی الشیخ عطیہ محمدسالم رحمہ اللہ (متوفی ۱۹۹۹ء) نے نمازِتراویح کی چودہ سو سالہ تاریخ پر عربی زبان میں ایک مستقل کتاب (التراویح أکثرمن ألف عامٍ في المسجد النبوي) لکھی ہے۔ کتاب کے مقدمہ میں تصنیف کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: مسجدِ نبوی میں نمازِ تراویح ہو رہی ہوتی ہے توبعض لوگ آٹھ رکعت پڑھ کر ہی رک جاتے ہیں، ان کا یہ گمان ہے کہ آٹھ رکعت تراویح پڑھنا بہتر ہے اور اس سے زیادہ جائز نہیں ہے، اس طرح یہ لوگ مسجدِنبوی میں بقیہ تراویح کے ثواب سے محروم رہتے ہیں۔ ان کی اس محرومی کو دیکھ کربہت افسوس ہوتا ہے، لہٰذا میں یہ کتاب لکھ رہا ہوں، تاکہ ان لوگوں کے شکوک وشبہات ختم ہوں اور ان کو بیس رکعت تراویح پڑھنے کی توفیق ہوجائے۔ اس کتاب میں ۱۴۰۰ سالہ تاریخ پر مدلل بحث کرنے کے بعد شیخ عطیہ محمدسالم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’اس تفصیلی تجزیہ کے بعدہم اپنے قُراء سے اولاً تو یہ پوچھنا چاہیں گے کہ کیا ایک ہزار سال سے زائد اس طویل عرصہ میں کسی ایک موقع پر بھی یہ ثابت ہے کہ مسجدِنبوی میں مستقل آٹھ رکعت تراویح پڑھی جاتی تھیں؟ یاچلیں بیس سے کم تراویح پڑھناہی ثابت ہو؟ بلکہ ثابت تویہ ہے کہ پورے چودہ سوسالہ دور میں بیس یا اس سے زائدہی پڑھی جاتی تھیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیاکسی صحابیؓ یاماضی کے کسی ایک عالم نے بھی یہ فتویٰ دیاکہ ۸ سے زائدتراویح جائز نہیں ہیں اوراس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو اس فتوے کی بنیاد بنایا ہو؟ ۔‘‘ (ماہنامہ دارالعلوم دیوبند، ص:۴۸، بابت ماہ جولائی اگست، ۲۰۱۳ء) 

خلاصۂ بحث

 تیرہ صدیوں تک سلفِ صالحین میں سے کوئی ایک بھی ۸ رکعت تراویح کاقائل نہیں تھا اور نہ کسی نے پڑھی اور نہ ہی بیس رکعت پر کسی نے نکیرفرمائی۔ تیرہویں صدی ۱۲۸۴ء میں ایک غیرمقلدعالم نے ۸ رکعت کا فتویٰ جاری کیا، اس وقت سے آج تک کہیں بھی چاہے حرمین شریفین ہوں یاکوئی اور جگہ غیرمقلدین کے سواکوئی بھی آٹھ کاقائل نہیں ہے۔ حرمین شریفین میں شروع سے آج تک ۲۰ رکعت تراویح ہی پڑھی پڑھائی جارہی ہیں، و الحمد للّٰہ علٰی ذٰلک۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے