بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

تراویح بیس رکعات کے بجائے آٹھ رکعات پڑھنا


سوال

اگر کوئی شخص ۲۰ رکعت تراویح کی جگہ صرف ۸رکعت پڑھے تو کیا وہ گناہ گار ہو گا؟

جواب

بیس رکعت تراویح ادا کرنا سنتِ مؤکدہ ہے، بعض روایات میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیس رکعات ادا کرنا ثابت ہے،  اور یہی صحابہ کرام، تابعین ، تبع تابعین کا معمول تھا، اس پر صحابہ کرام اور امتِ محمدیہ کے فقہاء کا اجماع ہے،   بیس سے کم جتنی رکعات تراویح ادا کی جائے گی اتنی رکعات تو ادا ہوجائیں گی، لیکن مکمل تراویح ادا نہیں ہوگی، اور چوں کہ بیس رکعات تراویح پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے اور سنتِ مؤکدہ کو مستقل طور پر یا سستی اور غفلت کی وجہ سے چھوڑ دینا باعثِ گناہ ہے، اور اس پر اصرار کرنے والا فاسق ہے۔

تراویح کی رکعات سے متعلق تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتوی ملاحظہ فرمائیں:

تراویح کی رکعات کی تعداد آٹھ ہے یا بیس؟

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202500

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں