بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1444ھ 02 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

سورہ لہب اور سورہ عبس بلا عذر پڑھنے سے متعلق


سوال

بعض لوگ کہتےہیں  سورۂ لہب  اور سورۂ عبس  بلا عذر نہیں پڑھنا چاہیے،  اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب

واضح ہو کہ پورا قرآنِ  پاک ہی برکتوں کا  ذریعہ  ہے اور پورا قرآنِ مجید اللہ پاک کا کلام ہے؛  لہذا قرآنِ  پاک میں کسی سورت کو مخصوص کرکے یہ کہنا درست نہیں کہ فلاں سورت بلا عذر نہیں پڑھنی چاہیے؛  لہذا اس بات کی کوئی اصل نہیں ہے کہ سورۂ لہب اور سورۂ عبس بلا عذر نہیں پڑھنی  چاہیے۔

فتاوی محمودیہ میں ہے :

"سورۂ  لہب بھی قرآنِ  کریم کی سورت ہے،  اس کا بھی نماز میں پڑھنا بلا کراہت درست ہے؛ لقوله تعالي : {فاقرؤا ما تيسر من القرآن}."

(ج 21 / ص 272)

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک دیکھیے:

نماز کی دو رکعتوں میں دو سورتوں کے درمیان میں کوئی مختصر سورت چھوڑنے کا حکم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200252

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں