بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ذو الحجة 1443ھ 03 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

صبح صادق سے کون سا وقت مراد ہے؟ / تہجد کا وقت


سوال

صبح صادق سے کیا مراد ہے؟  کون سا وقت؟  اذانِ  فجر سے پہلے تک یا جب تک آسمان نیلا نہ ظاہر ہوجائے ؟

اور نماز تہجد کا انتہائی  آخری وقت کون سا ہے ؟اگر آپ کو شک ہونے لگے کہ نماز تہجد قضا ہونے کا خدشہ ہے!

جواب

رات کے آخری پہر میں صبح ہوتے وقت مشرق کی طرف سے آسمان کی لمبائی میں کچھ سفیدی دکھائی دیتی ہے، جو تھوڑی دیر میں ختم ہوجاتی ہے، اور اندھیرا ہوجاتا ہے، اسے ’’صبح کاذب‘‘ کہاجاتا ہے، اس کے تھوڑی دیر بعد آسمان کے کنارے پر کچھ سفیدی چوڑائی میں دکھائی دیتی ہے جو بڑھتی رہتی ہے، اور تھوڑی دیر میں بالکل روشنی ہوجاتی ہے، اسے ’’صبح صادق‘‘ کہا جاتا ہے، جس سے فجر کا وقت شروع ہوجاتا ہے، اس وقت سے پہلے پہلے تک تہجد پڑھنے کی اجازت ہے، صبح صادق کے بعد  سے لے کر اشراق تک فجر کی دو رکعت سنت کے علاوہ کوئی بھی نفل نماز ادا کرنے کی شرعًا اجازت نہیں، پس اگر کسی نے صبح سے صادق کے بعد تہجد  ادا کرلی تو تہجد ادا نہ ہوگی۔

شک  و  شبہات سے  بچنے کے  لیے اوقاتِ  نماز  کی  کوئی مستند جنتری  (مثلًا: پروفیسر عبداللطیف صاحب مرحوم کی تیار کردہ جنتری) اپنے پاس رکھ  لیں، تاکہ اشتباہ سے بچ سکیں۔ یا ہماری ویب سائٹ کے سرورق یا دار الافتاء سیکشن میں "اوقاتِ نماز" کے عنوان کے تحت اپنے مطلوبہ ملک و شہر کا دائمی نقشہ اوقاتِ نماز ملاحظہ کیجیے۔

باقی صبح صادق کے وقت پھیلنے والی روشنی اہلِ تجربہ سے معلوم کی جاسکتی ہے، عام آدمی کے لیے شہروں میں اس کا فرق مشکل ہوتاہے، اور رمضان المبارک کے علاوہ فجر کی اذانیں عام طور پر صبح صادق کے کافی بعد ہوتی ہیں، لہٰذا فجر کی اذان تک تہجد کو مؤخر نہ کیا جائے یا جاری نہ رکھا جائے، اور آسمان نیلا ظاہر ہونے تک صبح صادق نہیں رہتی۔

 جیساکہتنوير الأبصار مع الدر و الرد میں ہے:

"(مِنْ) أَوَّلِ (طُلُوعِ الْفَجْرِ الثَّانِي) وَهُوَ الْبَيَاضُ الْمُنْتَشِرُ الْمُسْتَطِيرُ لَا الْمُسْتَطِيلُ (إلَى) قُبَيْلِ (طُلُوعِ ذُكَاءَ) بِالضَّمِّ غَيْرُ مُنْصَرِفٍ اسْمُ الشَّمْسِ (قَوْلُهُ: وَهُوَ الْبَيَاضُ إلَخْ) لِحَدِيثِ مُسْلِمٍ وَالتِّرْمِذِيِّ وَاللَّفْظُ لَهُ «لَا يَمْنَعَنَّكُمْ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ وَلَكِنْ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ» " فَالْمُعْتَبَرُ الْفَجْرُ الصَّادِقُ وَهُوَ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ فِي الْأُفُقِ: أَيْ الَّذِي يَنْتَشِرُ ضَوْءُهُ فِي أَطْرَافِ السَّمَاءِ لَا الْكَاذِبُ وَهُوَ الْمُسْتَطِيلُ الَّذِي يَبْدُو طَوِيلًا فِي السَّمَاءِ كَذَنَبِ السِّرْحَانِ أَيْ الذِّئْبِ ثُمَّ يَعْقُبُهُ ظُلْمَةٌ". ( ١/ ٣٥٩)

مزید تفصیل کے  لیے دیکھیے:

صبح صادق کے تحقق میں جمہور کے قول ١٨ درجہ زیر افق پر عمل کیا جائے

تہجد کی نماز کا طریقہ اور وقت

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201307

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں