بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

اسٹاک ایکسچینج انٹرڈے ٹریڈنگ کا حکم


سوال

 پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں انٹرا ڈے ٹریڈنگ یعنی اسی دن خریدنا اور اسی دن یا  اگلے دن اس کمپنی کے شیئر کو بیچ دینا کیسا ہے؟  کیوں کہ بعض اوقات کسی شیئر کی پرائس اس دن اتنی گر جاتی ہے کہ جس میں اگر اسے نہ بیچا جائے تو دو سے تین دن بعد اس میں مزید نقصان ہونے کا خدشہ ہے یا اچھا منافع ضائع ہو سکتا ہے، لیکن اگر یہ جائز نہیں ہے ایک دن میں بیچنا خریدنا اور اسی دن بیچنا تو یہ کیوں جائز نہیں ہے؟ کیوں کہ اس کمپنی کے جو شیئر خریدے جائیں گے تو اس کا نفع اور نقصان تو اسی دن مل جائے گا جس دن بیچیں گے۔ راہ نمائی فرما دیں۔

جواب

شیئرز /حصص  کے جائز ہونے کی شرائط پائے جانے کے بعد اس کو خرید کر آگے فروخت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے،  جب تک اس پر قبضہ نہ کرلیا جائے   اور شیئرز میں قبضہ کا حکم ثابت ہونے کے لیے  صرف زبانی وعدہ کافی نہیں ہے، نام رجسٹرڈ یا الاٹ ہونا ضروری ہے،  اس سے پہلے   غیر رجسٹرڈ  شیئرز  کی خرید وفروخت باقاعدہ طور پر  ڈیلیوری    ملنے سے پہلے ناجائز ہے،  البتہ یہ  جائز ہے  کہ شیئرز پہلے بائع  کے نام رجسٹرڈ ہوں   اور بائع اس کی قیمت بھی ادا کردے اور اس کے  پاس ڈیلیوری آجائے، اس کے بعد اس کی خرید و فروخت  کرے، یا  شیئرز  وصول  کرلیے  ہیں، لیکن   ابھی تک قیمت ادا نہیں کی  تو اس صورت میں بھی مذکورہ شیئرز کو فروخت کرکے نفع لینا جائز ہے، کیوں کہ مبیع پر قبضہ ثابت ہے۔

اور موجودہ زمانہ میں فزیکلی قبضہ کی صورت یہ ہے کہ  جس کمپنی کے حصص بیچے  گئے ہیں،  اس کمپنی کے ریکارڈ میں   سی ڈی سی (C.D.C)  کے ذریعے ان حصص کی  منتقلی  سائل  (خریدار) کے نام ہوجائے، (جس میں معلومات کے مطابق تقریباً دو دن کا وقت لگتا ہے)؛   لہذا سی ڈی سی اکاؤنٹ میں خریدار کے نام   پر شئیرز   منتقل ہونے سے پہلے  شیئرز  کو آگے فروخت کرنا جائز نہیں ہوگا۔ 

البتہ اگر ایک شیئر مثلًا  پی پی ایل  1000پیر کو لیا اور بدھ کو اس پر قبضہ ہوگیا اور  جمعرات کو  مزید 1000 لیا تو اب جمعرات ہی کو بیچنا ہو تو پہلے سے رکھا ہوا 1000 بیچنا جائز ہے۔

شیئرز کے حوالے سے مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتوی ملاحظہ کیجیے:

شئیرز کے کاروبار کے جواز کی شرائط اور قبضہ کا تحقق

حدیث میں :

"عن عمرو بن شعیب عن أبيه عن جده قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع العربان. رواه مالك وأبوداؤد وابن ماجه".

وفي الهامش:

"(قوله:"بيع العربان" وهو أن يشتري السلعة ويعطي البائع درهماً أو أقلّ أو أكثر على أنه إن تمّ البيع حسب من الثمن وإلا لكان للبائع ولم يرجعه المشتري، وهو بيع باطل؛ لمافيه من الشرط والغرر".

(مشکاۃ المصابیح، کتاب البیوع)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504102599

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں