بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

پستان وقت سے پہلے چھاتی پرآنے کی صورت میں پستان کا آپریشن کروانا


سوال

چالیس سال کی عورت کی چھاتی لٹک جائے اور ساٹھ سال کی عورت جیسی ہوجائے ،شوہر کو رغبت نہ رہے تو کیا آپریشن کے ذریعے اصل حالت میں لا سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اسلامی نقطۂ نظر سے انسان کا جسم اللہ تعالیٰ کی امانت اور اس کا پیکر تخلیقِ خداوندی کا مظہر ہے،جس میں کسی شرعی اور فطری ضرورت کے بغیر کوئی خود ساختہ تبدیلی درست نہیں ؛اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی طور پر بال لگانے اورخوبصورتی کے حصول کے لیے دانتوں کے درمیان خلا پیدا کرنے کو ناجائز،قابلِ لعنت اور اللہ کی خلقت میں تغیر قرار دیا ہے؛لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ عورت کو  واقعتاً کوئی  بیماری ہے اور بدن کی ہئیت بیماری کے باعث تبدیل ہوئی ہے تو یہ اس کے حق میں عیب ہے، اگر اس بیماری کا کوئی دوسرا علاج  سواۓ آپریشن کے موجود نہیں تو ایسی صورت میں اس عیب کے ازالے کے لیے آپریشن کروانا جائز ہے اور اگر ایساکسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہےاور آپریشن کا مقصد  زینت کا حصول  اور رغبت پیدا کرنا ہےتو یہ آپریشن ناجائز ہے،کیوں کہ  یہ  بلا ضرورت قطع و برید اوراللہ کی خلقت میں تبدیلی کرنا ہے جس سے شریعت میں منع کیا گیا ہے۔

متعلقہ مسئلے کی مزید تفصیل کے لیے ہمارےدارلافتاء سے جاری شدہ  فتوی کا درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں: 

سرجری سے متعلق شرعی حکم

 تفسیر ِقرطبی   میں ہے:

" إني خلقت عبادي حنفاء كلهم وأن الشياطين أتتهم فاجتالتهم عن دينهم فحرمت عليهم ما أحللت لهم وأمرتهم أن يشركوا بي ‌ما ‌لم ‌أنزل ‌به سلطانا وأمرتهم أن يغيروا خلقي."

( قرطبي :ج:7، ص:136،ط:مؤسسة الرسالة)

ترجمہ:" میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا (یعنی پیدائش کے وقت ان کی فطرت میں شرک نہیں تھا بلکہ توحید تھی)پھر شیطان(خواہ وہ انسان ہوں یا جن) ان کے پاس آۓ اور ان کو ان کے دینِ فطرت سے پھیر دیا اور ان پر وہ چیزیں حرام کردیں جو میں نے ان کے لیۓ حلال کی تھیں  اور ان کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک ٹھہرائیں  جن کے بارے میں میں نے کوئی شرعی دلیل  و حجت نازل نہیں کی اور انہوں نے ان کو حکم دیا کہ وہ خلق و پیدائش کو بدل دیں ."

وفیہ ایضاً:

"وقالت طائفة: الإشارة بالتغيير إلي الوشم وما جري مجراه من التصنع للحسن، قاله إبن مسعود والحسن."

(ج:7، ص:142، ط:مؤسسة الرسالة )

وفیہ ایضاً:

"واختلف في المعنى الذي نهي لأجلها، فقيل: لأنها من باب التدليس. وقيل: من باب تغيير خلق الله تعالى، كما قال ابن مسعود، وهو أصح."

(ج:7، ص:144، ط:مؤسسة الرسالة)

تفسیرِ معالم التنزيل میں ہے:

"ولآمرنهم فليغيرن ‌خلق ‌الله} قال ابن عباس رضي الله عنهما والحسن ومجاهد وسعيد بن المسيب والضحاك: يعني دين الله، نظيره قوله تعالى: "لا تبديل لخلق الله" (الروم -30) أي: لدين الله، يريد وضع الله في الدين بتحليل الحرام وتحريم الحلال.

وقال عكرمة وجماعة من المفسرين: فليغيرن ‌خلق ‌الله بالخصاء والوشم وقطع الآذان حتى حرم بعضهم الخصاء وجوزه بعضهم في البهائم، لأن فيه غرضا ظاهرا."

(الروم، ج:2، ص:289، ط:دار طیبة)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن عبد الله. قال:‌ لعن ‌الله الواشمات والمستوشمات، والنامصات والمتنمصات، والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله."

(کتاب اللباس والزینة،باب تحریم فعل الواصلة والمستوصلة إلخ،ج:2، ص:212، ط:رحمانیة)

ترجمہ:"سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ اللہ تعالیٰ نے  لعنت فرمائی ہے:  جسم  گودنے والی اور گدوانے والیوں پر اورچہرےکے بال صاف کرنے والی  اور کروانے والیوں پر اورخوبصورتی کے لیے  دانتوں کےدرمیان کشادگی کرنے والیوں پر  (تاکہ کم سِن معلوم ہوں) اللہ کی خلقت کو  بدلنے والیوں پر."

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"قال النووي: فيه إشارة إلى أن الحرام هو المفعول ‌لطلب ‌الحسن، أما لو احتاجت إليه لعلاج أو عيب في السن ونحوه فلا بأس به."

(کتاب اللباس، باب الترجل، الفصل الأول،ج:8، ص:295،ط:إمدادية)

وفیہ ایضاً:

"وعن أبي ريحانة - رضي الله عنه - قال: " «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن عشر: عن الوشر، والوشم ...إلخ

(قال: نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن عشر) : أي خصال (عن الوشر)  .... وهو على ما في النهاية تحديد الأسنان وترقيق أطرافها، تفعله المرأة الكبيرة تتشبه بالشواب.قال بعضهم وإنما نهى عنه لما فيه من التغرير وتغيير ‌خلق ‌الله تعالى)."

(کتاب اللباس، الفصل الثانی،ج:8، ص:259، ط:امدادیة)

بذل المجہود میں ہے:

"فإن الظاهر أن المراد بتغيير خلق الله أن ما خلق الله سبحانه وتعالى حيوانا على صورته المعتادة لا يغير فيه، لا أن ما خلق على خلاف العادة مثلا كاللحية للنساء أو العضو الزائد فليس تغييره تغييرا ‌لخلق ‌الله."

 (أول کتاب الترجل، باب في صلة الشعر، ج:12، ص:197، ط:دار البشائر الإسلامیة)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144505101258

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں