بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

شب برات میں بیٹی کے گھر کپڑے اور پیسے دینا کیسا ہے؟


سوال

شب برات کو بیٹی کے گھر کپڑے اور پیسے دینےکے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور کیا اس رات کو عید کی طرح منانا چاہیے؟  

جواب

صورت مسئولہ میں  بیٹی کو کپڑے اور پیسے پورے سال میں کسی بھی دن دے سکتے ہیں، اس کے لیے شب برات کی تخصیص کی کیا ضرورت ہے؟ اور نہ ہی اس کی تخصیص کی شرعاً کوئی حقیقت ہے؛ لہذابیٹی کو جب بھی کپڑے اور پیسے وغیرہ دینا چاہیں دے سکتے ہیں جائز ہے، شب برات  ہی کو خاص کر کے دیناجائز نہیں ہے۔ 

نیز شب برات عبادت کی رات ہے، اس میں انفرادی طور پر جتنا ممکن ہو رات میں عبادت کی جائے ، لہذا اس کا اہتمام کریں۔فقط واللہ اعلم

شب برات سے متعلق مزید تفصیل  درجہ ذیل لنک پر ملاحظہ فرمائیں:

شبِ برات میں عبادت اور کھانے کا اہتمام کرنا


فتوی نمبر : 144408100742

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں