بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

صف کے درمیان فاصلہ رکھ کر نماز پڑھنا


سوال

موجودہ  دور  میں کرونا سے بچاؤ کے مقصد سے ایک دوسرے سے 3 فٹ یا اس سے زیادہ کی دوری پر کھڑے ہو کر با جماعت نماز ادا کرنا کیسا ہے؟ اور یہ نماز ادا ہو جائے گی یا انفرادی نماز ادا کی جائے تو یہ بہتر ہے؟

جواب

 کرونا وائرس کی وجہ سے حفظانِ صحت کے اصول اور حکومتی احکامات  کے پیشِ نظر  اگر  مسجد کی حدود کے اندر  فاصلہ رکھ  کر نماز پڑھ لی جائے تو  نماز  ادا ہوجائے گی، تاہم فاصلہ رکھ  کر کھڑے ہونا سنتِ متواترہ کے خلاف اور مکروہِ تحریمی  ہے۔

یہ ملحوظ رہے کہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کوئی مرض بذاتِ خود متعدی نہیں ہوتا، بلکہ سبب کے درجے میں اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو دوسرے انسان کو مرض لگتا ہے ورنہ نہیں لگتا، اسباب کے درجہ میں احتیاط کرنا توکل اور منشاءِ شریعت کے خلاف نہیں ہے، لہٰذا جن مریضوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوجائے انہیں مساجد میں جماعت میں شریک نہیں ہونا چاہیے، لیکن کسی خاص مرض کے ہر حال میں دوسرے کو منتقل ہونے کا عقیدہ نہیں ہونا چاہیے۔

2-اس صورت حال میں بھی مسجد کی جماعت انفرادی نماز سے افضل ہے، لہذا حتی الامکان مسجد میں جاکر باجماعت نماز ادا کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

اس مسئلے سے متعلق دیگر فتاویٰ کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

وبائی امراض یا وائرس کی وجہ سے صفوں میں اتصال کا حکم

موجودہ وبائی حالات میں جماعت میں نمازیوں کے درمیان فاصلے کی حد کیا ہے

کرونا وائرس کی وجہ سے نماز میں مقتدیوں کے درمیان فاصلہ رکھنا


فتوی نمبر : 144108201575

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں