بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

ریٹائرمنٹ کی رقم میں مرحومہ بیوہ کا حصہ


سوال

میرے والد کا انتقال 2018 میں ہوا۔ ان کی ریٹائرمنٹ کی رقم  کمپنی کی طرف سے ابھی تک نہیں ملی۔ والد صاحب کی دو بیویاں اور 10 بچے ہیں۔ کچھ عرصہ  پہلے ہماری دوسری امی (یعنی والد صاحب کی پہلی بیوی) کا بھی انتقال ہوگیا۔ 

سوال: کیا مرحومہ کا والد  صاحب کے  ریٹائرمنٹ کے پیسوں میں حق بنتا ہے،  جو ابھی تک ہمیں ملے ہی نہیں (ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے )؟  رہنمائی فرمائیں۔

جواب

اگر  ریٹائرمنٹ کی رقم سے مراد پینشن کی رقم ہے تو  پینشن کی رقم سے متعلق سمجھنا چاہیے کہ پینشن کی رقم   متعلقہ ادارہ کی طرف سے عطیہ اور تبرع ہوتی ہے، ادارہ  جس کے نام پر جاری کرے، وہی اس کا مالک ہوتا ہے، اب  ادارہ وہ رقم   جس کے نام پر جاری کرے گا وہی اس کا مالک ہو گا، آپ کے والد کی پہلی بیوی چوں کہ فوت ہو گئی ہیں؛  اس لیے اُن کے نام پر  جاری کرنا ممکن نہیں۔

اور اگر پینشن کی رقم مراد نہیں ہے تو  بہتر ہو گا کہ آپ اس رقم کی تعیین کر دیں کہ یہ کون سی رقم ہے؟ آپ کے والد  کی مملوکہ رقم ہے یا ادارے کی طرف سے  عطیہ؟ اس کے بعد  تعیین کے ساتھ جواب دینے میں سہولت رہے گی؛ کیوں کہ اگر یہ رقم آپ کے والد کی مملوکہ رقم ہو تو اس میں تمام ورثاء کا حق ہو گا، جس میں آپ کی سوتیلی والدہ بھی شامل ہوں گی اور اگر یہ عطیہ ہو جیسا کہ گریجویٹی فنڈ وغیرہ ہوتے ہیں تو یہ فنڈ بھی ادارے کی جانب سے کسی فرد کے نام پر جاری ہوتے ہیں، جس کے نام پر جاری  ہوتے ہیں، وہی اس کا مالک ہوتا ہے، دوسروں کا حق نہیں ہوتا۔

مزید دیکھیے:

گریجویٹی اور جی پی فنڈ کا حکم

امداد الفتاوی میں ہے:

’’چوں کہ میراث مملوکہ اموال میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسانِ سرکار ہے، بدون قبضہ کے مملوک نہیں ہوتا، لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں میراث جاری نہیں ہوگی، سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہیں تقسیم کردے‘‘۔

(4/343، کتاب الفرائض، عنوان: عدم جریان میراث در وظیفہ سرکاری تنخواہ، ط: دارالعلوم)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144208200602

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں