بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

پب جی گیم میں شرکیہ عمل نہیں پایا جاتا تو کفر کا فتوی کیسے دے دیا گیا؟


سوال

آپ کے ادارے کی طرف سے ایک فتوی جاری کیا گیا ہے جس میں پب جی گیم کھیلنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج کہا گیا ہے، آپ سے سوال یہ ہے کہ اس بارے میں آپ کی کوئی تحقیق بھی ہے یا نہیں؟ یا صرف ایک سوال کے جواب میں آپ نے کئی لوگوں کو اسلام سے خارج کر دیا ہے، اس گیم میں وقت کے ضیاع کے علاوہ کوئی ایسی خرابی میری تحقیق میں نہیں آئی جیسے کہ بتوں کو پوجنا یا اسلام کے خلاف ایسی کوئی چیزہے، ایک سوال کے جواب میں کتنے لوگوں کو اسلام سے خارج کر دیا گیا، کیا اتنے بڑے فتوی کے لیے ضروری نہیں تھا کہ کوئی تحقیق کی جاتی؟ 

جواب

آپ کے سوال میں مندرجہ ذیل دو باتیں جواب طلب ہیں:

(۱)  "پب جی گیم کھیلنے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج کہا گیا ہے ۔۔۔ اس بارے میں آپ کی کوئی تحقیق بھی ہے یا نہیں؟"

(۲) "اس گیم میں وقت کے ضیاع کے علاوہ کوئی  خرابی میری تحقیق میں نہیں آئی جیسے کہ بتوں کو پوجنا ۔۔۔الخ" 

پہلی بات کا جواب یہ ہے کہ یہ فتوی ہماری ویب سائٹ سے جون کے مہینے میں پبلش ہوا تھا، سوال موصول ہونے کے بعد، جواب جاری کرنے سے پہلے ان ہی دنوں میں اس کی حقیقت کو بھی جانچا گیا اور مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کی گئیں، اور اس تحقیق کی روشنی میں شرعی اصول و اَحکام کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے فتویٰ جاری کیا گیا،  تحقیق  کے نتیجے میں بات بھی سامنے آئی کہ  کچھ عرصہ قبل اس گیم کے بنانے والوں نے اس کے sanhok نامی نقشے (map) میں ایک نیا موڈ mysterious jungle mode کے نام سے متعارف کرایا ہے جس میں انرجی حاصل کرنے کے لیے بتوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر سر جھکانا پڑتا ہے، جیساکہ ہندؤوں اور بعض دیگر مشرکین کے ہاں بت کی پوجا کا ایک طریقہ ہے، تاہم گیم میں ایسا کرنا لازم نہیں ہے، یعنی پلیئر انرجی حاصل کیے بغیر بھی گیم جاری رکھ سکتا ہے، اگرچہ اس کے بغیر اس کی کارکردگی متاثر ہونے کا قوی امکان ہوتا  ہے۔ اس تحقیق کے بعد یہ حکم لکھا گیا اگر کوئی انرجی کے حصول کے لیے جان بوجھ کر بت کے سامنے جھکے وہ شرک کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے دائرۂ اسلام  سے خارج ہے اور اس پر تجدیدِ ایمان لازم ہے اور شادی شدہ ہونے کی صورت میں تجدید نکاح بھی لازم ہے۔ 

اس فتوے کے مضمون کو غور سے نہ پڑھنے کی وجہ سے آپ کی طرح بہت سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوگئی کہ اس  میں مذکورہ گیم کھیلنے والوں کو مطلقاً دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے، حال آں کہ صرف بت کے سامنے پلیئر کو جھکانے کے عمل کو شرک ہونے کی وجہ سے کفر  قرار دیا گیا ہے، اگر کوئی پب جی کھیلنے کے لیے سانہاک (sanhok) نامی نقشہ (map) نہ چنے یا  یہ نقشہ (map) ہی چنے، لیکن بت کے سامنے نہ جھکے تو اسے کافر قرار نہیں دیا گیا۔ 

نیز مزید اطلاعات یہ بھی حاصل ہوئیں کہ مسلمانوں کے احتجاج اور بائیکاٹ کرنے کی وجہ سے گیم سے یہ نقشہ (map) ہٹادیا گیا ہے، اس وجہ سے بہت سے  لوگوں کا خیال ہے کہ جب یہ  عمل  اس گیم کے اندر ہے ہی نہیں یا اگر تھا تو ہٹادیا گیا ہے پھر کیسے تحقیق کیے بغیر دائرۂ اسلام سے خارج ہونے کا فتوی دیا گیا؟ تو اس کا جواب شروع میں دیا گیا کہ یہ سوال وجواب جون کے مہینہ کا ہے جب یہ عمل اس میں موجود تھا۔  اور اس سوال کے مستفتی کا سوال اس وقت کے مطابق درست اور جواب بھی اسی کے مطابق تھا۔

چوں کہ اس بات کا امکان بہر حال موجود ہے کہ بہت سے مسلمانوں نے اس گیم کے سانہاک نقشے میں بتوں کے سامنے اپنے پلیئر کو جھکایا ہوگا، اس لیے مسلمانوں کا ایمان بچانے کے لیے اس کی نشان دہی کی گئی، تاکہ غفلت میں شرکیہ عمل کرنے والے توبہ کرکے ایمان کی تجدید کرلیں، اور اگر آئندہ کبھی کسی گیم میں ایسی چیز آئے تو مسلمانانِ عالم اپنے آپ کو اس طرح کے شرکیہ اعمال سے دور رکھیں۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ دیکھیے:

پب جی گیم میں شرک کیوں لازم آتا ہے؟

دوسری بات کا جواب یہ ہے کہ  آپ کا دعوی کہ "اس گیم میں وقت کے ضیاع کے علاوہ کوئی ایسی خرابی میری تحقیق میں نہیں آئی ۔۔۔الخ " درست نہیں، بلکہ یہ گیم کئی طرح کے شرعی و دیگر مفاسد پر مشتمل ہے، اس کے کھیلنے میں نہ کوئی دینی اور نہ ہی کوئی دنیوی فائدہ ہے، مثلاً جسمانی ورزش وغیرہ،  یہ محض لہو لعب اور وقت گزاری کے لیے کھیلا  جاتا ہے،  جو ’’لایعنی‘‘  کام ہے، اور اس کو کھیلنے والے عام طور پر اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ پھر انہیں اس کا نشہ سا ہوجاتا ہے، اور ایسا انہماک ہوتا ہے کہ وہ کئی دینی بلکہ دنیوی امور سے بھی غافل ہوجاتے ہیں، شریعتِ مطہرہ ایسے لایعنی لہو لعب پر مشتمل کھیل کی اجازت نہیں دیتی، جب کہ اس میں مزید شرعی قباحت یہ بھی ہے کہ یہ جان دار کی تصاویر پر مشتمل  ہے، نیز مشاہدہ یہ ہے کہ جو لوگ اس گیم کو بار بار کھیلتے ہیں، ان کا ذہن منفی ہونے لگتا ہے اور گیم کی طرح وہ واقعی دنیا میں بھی ماردھاڑ وغیرہ کے کام سوچتے ہیں، جس کے بہت سے واقعات وقوع پذیر ہوئے ہیں؛ لہذا پب جی اور اس جیسے دیگر گیم کھیلنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144202201164

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں