بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الاول 1442ھ- 29 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

اونٹ کا پیشاب دوا کے طور پر پینا


سوال

کیا اسلام میں اونٹ کا پیشاب دوا کے طور  پر پینا جائز ہے؟

جواب

اونٹ اور دیگر ماکول اللحم جانور (یعنی جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے) کا پیشاب بطورِ  علاج پینا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ کسی اور حلال اور مباح سے دوا سے اس بیماری کا علاج نہ ہورہا ہو  اور ان حلال جانوروں کے پیشاب سے علاج تجویز کرنے والا ماہر اور مسلمان دین دار  ڈاکٹر /حکیم ہو۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"يجوز للعليل شرب البول والدم وأكل الميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه". (الهندية، كتاب الكراهية الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات، 5/410)

فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:

"الاستشفاء بالمحرم إنما لاتجوز إذا لم يعلم فيه شفاء، أما إذا علم أن فيه شفاء وليس له دواء أخر غير يجوز الاستشفاء به". (الفتاوى التاتارخانيه زكريا 1/200، رقم: 28504)

الدر المختار میں ہے:

"وجوه في النهاية بمحرم إذا أخبره طبيب مسلم أن فيه شفاء ولم يجد مباحًا يقوم مقامه". (درمختار مع الشامي، كتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغيره، ج: 1، / ص: 210، ط: دارالفكر)

البحر الرائق میں ہے:

"ففي النهاية عن الذخيرة الاستشفاء بالحرام يجوز إذا علم أن فيه شفاء ولم يعلم دواء آخراه". (ج: 1، ص: 122) فقط والله أعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتوے ملاحظہ کیجیے:

اونٹ کا پیشاب کیوں حلال اور گائے کا پیشاب کیوں حرام؟

اونٹ کے پیشاب کا حکم اور اس سے متعلق حدیث کی توجیہ


فتوی نمبر : 144106200629

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں