بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نیاز کے نام پر ملنے والی چیز کھانے کا حکم


سوال

اگر کوئی  نیاز کے نام سے کوئی کھانے کی چیز لاکر دے دےتو  اس کو کھانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح  رہے کہ عرف عام میں "نیاز"کے عنوان سےمختلف مقاصد کے تحت کھانا کھلایا جاتا ہے، لہذا اگر اللہ کے نام پر دی جانے والی نیاز سے مقصود کسی میت کو فقط ایصالِ ثواب کرنا ہے،میت کا تقرب مقصود نہیں ہے،تو ایسی نیاز کا کھانا  فقراء کے لیے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اگر نیاز کسی بزرگ یا میت کے نام پر کی جائے اور اس بزرگ کا تقرب مقصود ہو تو   یہ حرام ہے، اس کا کھانا بھی حرام ہے؛  کیوں کہ یہ نذر لغیر اللہ ہے۔ 

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر موجود فتوی ملاحظہ ہو:

نیاز کے کھانے کا حکم

کفایت المفتی میں ہے:

"سوال: ایک عنداللہ واسطے ایصالِ ثواب بزرگان دین کے ہے ، جس کو زید نے قبرستان میں ذبح کیا تو اس غرض سے کہ بزرگان کی قبریں بھی اسی قبرستان میں ہیں،جس میں جانور ذبح کیا اور زید کو وہ ذبیحہ اسی قبرستان میں مساکین کو کھلانا مقصودہےتو بموجب شرع شریف ذابح و ذبیحہ کے واسطے کیا حکم ہے؟

جواب:نفسِ ذبح یعنی جان قربان کرنے سے مقصود تقرب الی غیراللہ ہو، یعنی کسی بزرگ ولی وغیرہ کی طرف تقرب حاصل کرنےاور اس کی تعظیم کرنے اور اس کی خوشی چاہنےکے لیے ذبح کیاجائےتو یہ تو حرام ہے،اور ذبیحہ بھی( مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِۚ )میں داخل ہوکر حرام ہوجاتا ہے،خواہ اپنے گھر ذبح کیاجائے یا قبرستان میں یاکسی اور جگہ۔

"ذبح لقدوم الامير ونحوه كواحد من العظماء يحرم؛ لأنه أهل به لغيرالله. (درمختار)

دوسری صورت یہ کہ ذبح سے مراد تقرب الی اللہ ہو،یعنی ذبح کرنے والا خاص خدا کی رضامندی اور تعظیم و عبادت کے خیال سے ذبح کرے اور پھر اس فعل پر اس کو جو ثواب ملے تو کسی دوسرے کو بخش دے، اس صورت میں کوئی نقصان اور الزام ذابح اور ذبیحہ میں نہیں ہے، یعنی ذابح کا یہ فعل حلال اور ذبیحہ جائز ہے، ،مگر اس کے لیے کسی مکان اور جگہ کی تخصیص نہیں اور نہ قبرستان میں لے جانے کی ضرورت ہے۔"

(کفایت المفتی ، المجلد الاول،ص:249،ط:ادارۃ الفاروق کراچی)

فتاوی شامی میں ہے:

"واعلم أن ‌النذر ‌الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ما لم يقصدوا صرفها لفقراء الأنام وقد ابتلي الناس بذلك ولا سيما في هذه الأعصار.

وفي الرد: مطلب في النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام من شمع أو زيت أو نحوه (قوله: تقربا إليهم) كأن يقول يا سيدي فلان إن رد غائبي أو عوفي مريضي أو قضيت حاجتي فلك من الذهب أو الفضة أو من الطعام أو الشمع أو الزيت كذا بحر (قوله: باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق."

(كتاب الصوم، ج:2، ص:439، ط:سعيد)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144407101670

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں