بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

نماز کے فضائل سے متعلق من گھڑت روایات


سوال

نماز میں تکبیر اولی پڑھنے  پر دنیا و مافیہا سے زیادہ اجر ملتا ہے،  ثناء پڑھنے پر ایک نفلی حج کا ثواب ملتا ہے،  تعوذ پڑھنے پرجسم کے ہر بال کے برابر نیکی ملتی ہے،  تسمیہ پڑھنے پر 74 ہزار نیکیاں ملیں گی اور   عذاب کےانیس فر شتے  اس سے  دور ہو جائیں گے، سورہ فاتحہ پڑھنے پر  اور اس کے ساتھ سورت ملانے پر چار آسمانی کتابوں کو ختم کرنے کا اجر ملے گا،  ہر آیات کو ٹھہر ٹھہر کر پڑے گا تو اللہ تعالی جواب دے گا،  رکوع میں جانے پر تکبیر کہے گا تو آسمان اور زمین نیکیوں سے بھر جائے   گا،  رکوع میں تسبیح پڑھنے پر اپنے بدن کے برابر سونا صدقہ کرنے   کا ثواب ملے گا،  تحمید اور اس کے بعد (حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ) پڑھنے پر رحمت کی بارش ہوگی،  پھر سجدے میں تکبیر پڑھنے سے زمین اور آسمان نیکیوں سے بھر جائے گا،  سجدے میں تسبیح پڑھنے پر اللہ کے عرش اور کرسی کے وزن کے برابر ثواب ملتا ہے ، جلسے میں اللہ کی رحمت کی بارش ہوتی  ہے، دونوں قعدوں  میں دو نبیوں کا اجر ملتا ہے ایوب  اور حضرت یعقوب علیہما السلام  والا اجر، سیدھی طرف سلام پھیرتا ہے، تو جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں، الٹی طرف سلام پھیرتا ہے تو جہنم کے سات دروازے اس کے  لیے بند ہو جاتے  ہیں ، نماز میں سلام پھیر کر ایک مرتبہ اللہ اکبر اور تین مرتبہ استغفار کہتا ہے تو نماز میں جو غلطی کوتاہی ہوتی  ہے،  وہ معاف کر دی جاتی  ہے اور نماز قبول کرلی جاتی ہے ،یہ ساری چیزیں خشوع و خضوع سے نماز پڑھنے پر ملتی ہیں۔

کیا یہ ساری باتیں جو میں نے ایک شخص سے سنی ہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ نماز اسلام کی بنیادی ارکان  میں سے ایک  اہم رکن ہے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کے بعد سب سے بنیادی اور اہم ترین بنیاد اور اصل نماز  ہے، اس رکن کی اہمیت، فضیلت اور اس کو بجالانے کی  ترغیب  اور فضائل   بہت ساری قرآنی آیات ، صحیح اور مستند  احادیث میں وارد ہوئے ہیں،جن میں سے چند روایت نقل کی جائے گی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہےکہ: 

"پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ کفارہ ہیں ان گناہوں کے  لیے جو ان کے درمیان  ہوتے ہیں جب تک نہ چھایاجائے کبیرہ گناہوں پر یعنی کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے ۔"(ترجمۂ حدیث از تحفۃ الالمعی)

ایک اور حدیث میں ہے کہ:

"پانچ نمازیں ہیں جن کو اللہ تعالی نے فرض کیا ہے جو شخص ان نمازوں کو غیر اہم نہیں سمجھے گا تو اس شخص سے اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔" 

اسی  طرح حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  ایک اور روایت نقل کرتے  ہیں کہ:

"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے )فرمایا:"تم بتاؤ کہ جس کے دروازہ کے آگے پانی  کی نہر چلتی ہو اور وہ روز مرہ اس میں پانچ مرتبہ نہاتاہو،  تو کیا اس کے بدن پر میل  کا کوئی شائبہ بھی رہے گا؟" صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں میل بالکل باقی نہیں رہے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"(تو سمجھوکہ )یہی مثال ہے پانچ نمازوں کہ اللہ تعالی تمام(صغیرہ)گناہوں کو ان نمازوں کے سبب سے اسی طرح مٹادیتاہے۔" (ترجمۂ حدیث از توضیحات)

اور اس کے علاوہ  اس باب میں  بہت ساری  مستند روایات  وارد  ہوئی ہیں جو حدیث  کی صحیح ترین کتابوں  میں نقل  کی گئی ہیں، تو  ایسی مستند احادیث کے  ہوتے ہوئے  موضوع روایات، من گھڑت اخبار کی طرف جانا اور  ان کو عوام کے سامنے بیان کرنا قطعًا ناجائز ہے اور  ایسا  شخص ان لوگوں کے زمرے میں آئے گاجن کے بارے میں سخت وعید آئی ہے، جیسے حدیث میں ہے:"جس شخص نے مجھ پر ایسی بات کہی جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا(جہنم کی) آگ میں بنالے۔"

لہذا  جن روایات کے بارے میں سائل نے  استفسار کیا ہے، کافی سعی وتلاش کے بعد بھی ہمیں احادیث کے مستند اور معتبر  ذخائر میں نہیں ملیں ، اس لیے ایسی  من گھڑت روایات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کہہ کر لوگوں کو بتانا بہت سخت جرم اور باعث گناہ ہے، اس  سے احتراز کیا جائے۔

باقی  ایک روایت میں تکبیرِ تحریمہ کو دنیا و ما فیہا سے بہتر قرار دیا گیا ہے، اسی طرح جب بندہ سورۂ فاتحہ پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر ہر آیت پر جواب کا ذکر صحیح احادیث میں موجود ہے، اسی طرح تلاوت، تسبیح، تحمید اور تکبیر کے مستقل فضائل  صحیح احادیث میں  مذکور ہیں۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

نماز کے اعمال و اذکار کے فضائل

سنن ترمذی میں ہے:

"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الصلوات الخمس، ‌والجمعة ‌إلى ‌الجمعة، كفارات لما بينهن، ما لم تغش الكبائر."

[كتاب الصلاة، باب في فضل الصلوت الخمس،رقم الحديث:214]

سنن  ابو داؤد میں ہے:

"عن عبادة بن الصامت قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: خمس صلوات افترضهن الله تعالى من أحسن وضوءهن وصلاهن لوقتهن وأتم ركوعهن وخشوعهن كان له على الله عهد أن يغفر له، ومن لم يفعل فليس له على الله عهد، ‌إن ‌شاء ‌غفر ‌له وإن شاء عذبه."

[كتاب الصلاة، باب في المحافظة علي وقت الصلوات، رقم الحديث425]

صحیح مسلم میں ہے:

"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:«أرأيتم لو أن ‌نهرا ‌بباب ‌أحدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات، هل يبقى من درنه شيء؟» قالوا: لا يبقى من درنه شيء، قال: «فذلك مثل الصلوات الخمس، يمحو الله بهن الخطايا»."

[كتاب الصلاة، باب المشي إلى الصلوات، رقم الحديث283]

سنن ترمذی میں ہے:

"عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ‌"من ‌كذب ‌علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار."

[أبواب  العلم باب ماجاء  في تعظيم الكذب على رسول  الله صلي الله عليه وسلم، رقم الحديث:2659]

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308101849

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں