بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

معتکف کا آن لائن قرآن پڑھانا


سوال

رمضان کے دس دن کے اعتکاف میں بیٹھ کر ہم آن لائن ناظرہ پڑھا سکتے ہیں؟ یعنی زوم ایپ پر تعلیم وغیرہ آن لائن پڑھا سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں معتکف کے لیے اعتکاف کی حالت میں تنخواہ لے کر تعلیم دینا یا بچوں کو پڑھانا مکروہ ہے، تاہم  اگر معلم اعتکاف میں بیٹھا ہو اور اس کا گزارا صرف تعلیم پر ہی ہوتا ہو، اس کے علاوہ اس کا کوئی ذریعۂ معاش نہ ہو، یا وہ مدرسہ کا تنخواہ دار ملازم ہے اور اُسے وہاں سے چھٹی نہیں مل رہی، یا کوئی اور مجبوری ہے، تو ایسے شخص کے لیے اعتکاف کی حالت میں تنخواہ لے کر تعلیم دینے کی بھی گنجائش ہے، تاہم اگر اس کی وجہ سے دوسرے معتکفین کی عبادت میں خلل پیدا ہو، تو پھر ایسا کرنا منع ہوگا، ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ مسنون اعتکاف میں بیٹھنے کی بجائے نفلی اعتکاف کرے، اور جب تعلیم کا وقت ہو تو مسجد سے نکل کر اپنی مقررہ جگہ جاکر تعلیم دے۔

نیز  آن لائن (زوم یا اس جیسی کسی اور ایپ پر) قرآن کریم یا دیگر علوم کی تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے کہ جاندار کی تصویر نہ ہو، نامحرموں سے خلوت نہ ہو، اور دیگر شرائط کا بھی اہتمام کیا جائے، ورنہ ایسی تعلیم دینے کی اجازت نہیں ہوگی، آن لائن تدریس کی شرائط کی تفصیلات جاننے کے لیے درج ذیل فتویٰ ملاحظہ کیجئے:

آن لائن قرآن پڑھانا

فتاویٰ شامی میں ہے:

" قلت: بل في التتارخانية عن العيون جلس معلم أو وراق في المسجد، فإن كان يعلم أو يكتب بأجر يكره إلا لضرورة."

(كتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ٦/ ٤٢٨، ط: سعيد)

فتاویٰ بزازیہ میں ہے:

"معلم الصبیان بأجر لو جلس فیه لضرورۃ الحر لا بأس به، وکذا التعلیم إن بأجر کرہ إلا للضرورۃ وإن حسبة لا."

(الفتاوى البزازية على حامش الهندية، كتاب الصلاة، ٤/ ٨٢، ط: رشيدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508101630

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں