بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

مرد کا ستر اور ٹی شرٹ میں نماز پڑھنا


سوال

مرد  کا ستر کتنا ہے؟ اور ہم کیا ٹی شرٹ میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

مرد کا ستر ناف کے متصل نیچے سے لے کر گھٹنے تک ہے،ناف سترمیں شامل نہیں، البتہ گھٹنے ستر میں شامل ہیں،اس حصے کا چھپانافرض ہے، ان میں سے اگر کسی ایک عضو (مثلاً ایک ران یا ایک کولہے، یا ایک گھٹنے) کا ایک چوتھائی حصہ بھی نماز کے دوران ذاتی عمل کے بغیر خود بہ خود کھل جائے اور نماز کا ایک رکن ادا کرنے کی مقدار (یعنی تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کی مقدار) کھلا رہے تو نماز فاسد ہوجائے گی، اور اگر نماز شروع کرنے سے پہلے ہی اعضاءِ مستورہ میں سے کسی عضو کا چوتھائی حصہ کھلا ہوا ہو اور اس حال میں نماز کی نیت باندھ کر نماز شروع کردی جائے تو یہ نماز شروع ہی نہ ہوگی، کیوں کہ ستر کا کھلنا جس طرح نماز کے درمیان میں نماز کے بقا سے مانع ہے، اسی طرح نماز کی ابتدا میں نماز کے انعقاد سے بھی مانع ہے۔

باقی نمازی  نماز کی حالت میں  اللہ تعالیٰ سے سرگوشی کرتاہے؛  اس لیے  نماز میں وہ لباس پہننا چاہیے جس کا اہتمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نماز میں ثابت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آستینیں آدھی نہیں ہوتی تھیں، چناں چہ آدھی (ہالف) آستین والی قمیص یا شرٹ میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، اس حالت میں نماز ادا کی تو کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی۔

لہذا اگر شرٹ پہننا مجبوری ہو تو مکمل آستین والی شرٹ زیبِ تن کی جائے، تاہم اگر کسی وقت آدھی آستین کی شرٹ پہنے ہونے کی حالت میں نماز کا وقت ہوجائے اور پورے آستین والی قمیص/ شرٹ دست یاب نہ ہو تو، نماز ترک کرنا جائز نہیں، اسی حالت میں نماز ادا کرلی جائے، لیکن اس کا معمول نہ بنایا جائے۔

قرآنِکریم میں ہے:

{یَا بَنِیْ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ} [الأعراف:۳۱]

الفتاوى الهندية (5 / 327):

 ويجوز أن ينظر الرجل إلى الرجل إلا إلى عورته كذا في المحيط وعليه الإجماع، كذا في الاختيار شرح المختار. وعورته ما بين سرته حتى تجاوز ركبته، كذا في الذخيرة وما دون السرة إلى منبت الشعر عورة في ظاهر الرواية

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 640):

"(و) كره (كفه) أي رفعه ولو لتراب كمشمر كمّ أو ذيل. (قوله: كمشمر كمّ أو ذيل) أي كما لو دخل في الصلاة وهو مشمر كمه أو ذيله".

مراقي الفلاح شرح نور الايضاح:

"وتشميركميه عنهما" للنهي عنه لما فيه من الجفاء المنافي للخشوع". ( كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، فصل في المكروهات،1/128)

فقط والله أعلم

 مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:

آدھی آستین میں نماز مکروہ کیوں ہے؟


فتوی نمبر : 144112201576

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں