بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1441ھ- 13 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

آدھی آستین میں نماز مکروہ کیوں ہے؟


سوال

ٹی شرٹ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اگر مکروہ ہے تو اس پر سوال ہے کہ بہت سے صحابہ ایک چادر میں نماز پڑھا کرتے تھے جب کہ اس کو کوئی مکروہ نہیں کہتا!باحوالہ جواب مطلوب ہے.

جواب

واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک چادر میں نماز تنگی کی وجہ سے پڑھا کرتے تھے، اس صورت میں کہنیوں کا کھل جانا ضرورت کی وجہ سے تھا، جیساکہ مسلم شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے:

”عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن سائلا سأل رسول الله صلي الله عليه وسلم عن الصلاة في الثوب الواحد، فقال أو لكلكم ثوبان“. (مسلم شریف: باب الصلاة في ثوب واحد)

ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے حوالہ سے سوال کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا: کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے ہیں؟

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ میں سے ہر ایک کے پاس دو کپڑے نہیں ہوتے تھے، جس کی وجہ سے وہ ضرورتاً ایک کپڑے میں نماز ادا کیا کرتے تھے. لہذا جب لباس کی فراوانی ہوگئی تو صحابہ و تابعین کا معمول ایک لباس میں نماز ادا کرنے کا نہیں تھا. 

پس ضرورت کی صورت میں کراہت باقی نہیں رہتی ، کیوں کہ عام حالات اور ضرورت کے احکامات میں فرق ہوتا ہے، جیسے اگر کسی کو  کوئی کپڑا دست یاب نہ ہو تو اسے برہنہ نماز ادا کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم عام حالت میں ستر چھانا نماز کی صحت کی شرائط میں سے ایک شرط ہے۔

نیز بخاری اور مسلم شریف کی دوسری روایت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آستین چڑھانے سے صراحتاً منع فرمایا ہے.

"عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ( أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ ، وَلَا أَكُفَّ ثَوْبًا وَلَا شَعْرًا ) (بخاري: رقم ٨١٦، مسلم: ٤٩٠) قال الحافظ ابن حجر رحمه الله في "الفتح" : " وَالْكَفْت هُوَ الضَّمّ وَهُوَ بِمَعْنَى الْكَفّ" .

مذکورہ روایت کی وجہ سے فقہاءِ  کرام نے عام حالات میں آدھی آستین کی قمیص و شرٹ پہن کر نماز ادا کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، نیز نماز میں سلفِ صالحین کا معمول یہی تھا کہ وہ مکمل لباس میں نماز ادا کرتے تھے جس میں پوری آستین ہوتی تھیں، اور اللہ  تعالی کے دربار میں صلحاء کا لباس پہن کر حاضر ہونا پسندیدہ ہے. 

لہذا اگر شرٹ پہننا مجبوری ہو تو مکمل آستین والی شرٹ زیبِ تن کی جائے، تاہم اگر کسی وقت آدھی آستین کی شرٹ پہنے ہونے کی حالت میں نماز کا وقت ہوجائے تو، نماز ترک کرنا جائز نہیں، اسی حالت میں نماز ادا کرلی جائے۔

مراقي الفلاح شرح نور الايضاح: "وتشميركميه عنهما" للنهي عنه لما فيه من الجفاء المنافي للخشوع. ( كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة، فصل في المكروهات، ١/ ١٢٨)

فتاوی قاضی خان میں ہے:

ولو صلي رافعا كميه إلي مرفقين كره. ( فصل فيما يفسد صلاة)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201288

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے