بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

مجبوری میں سود پر قرضہ لینے کا حکم


سوال

کیا کوئی انتہائی مجبوری میں سود پہ پیسے لےلے تو اتنا ہی گناہ گار ہوگا جتنا سود پر پیسے دینے والا؟

جواب

سودی  قرضہ  لینا   اور دینا دونوں حرام ہیں، اس پر  قرآن  و  احادیث  میں سخت  وعیدات وارد ہوئی ہیں، لہذا سود پر قرضہ لینے  سے اجتناب لازم ہے، سائل نے  مجبوری کا مطلقاً ذکر کیا ہے، نوعیت کی  چوں کہ وضاحت نہیں کی ہے، لہذا متعینہ طور پر اس کا حکم بتلانا  مشکل ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ مجبوری اور مجبوری کے بغیر گناہ میں فرق ہے۔اگر کسی کو ایسی  سخت مجبوری اور محتاجی لاحق  ہو  جائے کہ گزارہ  کی کوئی صورت نہ ہو  اور بغیر سودکے کہیں سے  قرض نہ مل رہا ہو تو ایسی مجبوری میں سود پر قرضہ لینے کی گنجائش ہوگی، اس صورت میں گناہ سود  پر قرض دینے والے کو ہوگا۔

مزید تفصیل کے  لیے دیکھیے:

مجبوری کی صورت میں سودی قرضہ / بینک سے لون لینا

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144206200663

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں