بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الثانی 1442ھ- 05 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

لاک ڈاؤن میں باجماعت نمازوں پر پابندی اور مساجد بند کرنا اور مسلمانوں کے لیے اس صورت میں راہ نمائی


سوال

ہمارے ملک میں آج حکومت نے کورونا وباء کی وجہ سے مکمل لاک ڈاؤن لگا دیا ہے، اس لاک ڈاؤن میں مساجد بھی بند رہیں گی، روزانہ کی باجماعت نماز اور جمعہ کی نماز پر بھی پابندی ہے، اب اس صورت میں کیا مسجد کو مکمل بند رکھنا چاہیے یا چند مخصوص افراد مسجد میں باجماعت نماز اور جمعہ ادا کریں مسجد کی آبادی اور اعمال کے جاری رکھنے کی خاطر؟ اس مسئلہ میں شریعت کیا راہ نمائی دیتی ہے؟

جواب

 مساجد اللہ کا گھر، ایمان کی علامت اور شعائر اللہ میں سے ہیں، اور ان میں جماعت سے نماز ادا کرنا اسلام کا شعار ہے، اس لیے  نمازِ جمعہ اور نماز باجماعت کے لیے مساجد بالکلیہ بند کردینا جائز نہیں ہے،   صحابۂ   کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں اور بعد کے اَدوار میں بھی طاعون وغیرہ کی وبائیں پھیلی ہیں، جن کی ہلاکت خیزی مخفی نہیں ہے، لیکن سلفِ صالحین نے سخت ہلاکت کے مواقع پر بھی مساجد کی بندش اور جمعات بالکلیہ ترک کرنے کے فتاویٰ اور اَحکام صادر نہیں فرمائے، بلکہ ان کے اَدوار میں مساجد کی طرف رجوع مزید بڑھ گیا، جیساکہ  قاضی عبد الرحمن القرشی الدمشقی الشافعی اپنے زمانہ میں 764 ھ کے طاعون سے متعلق لکھتے ہیں:

   ’’جب طاعون پھیل گیا اور لوگوں کو ختم کرنے لگا، تو لوگوں نے تہجد، روزے، صدقہ اور توبہ واستغفار کی کثرت شروع کردی اور ہم مردوں،  بچوں، اور عورتوں نے گھروں کو چھوڑدیا ہے اور مسجدوں کو لازم پکڑلیا، تو اس سے ہمیں بہت فائدہ ہوا‘‘۔

قال قاضي صفد محمد القرشي (ت: بعد ٧٨٠هـ) في (شفاء القلب المحزون في بيان ما يتعلق بالطاعون/مخطوط) ‏متحدثًا عن الطاعون سنة ٧٦٤هـ:

  ‏" وكان هذا كالطاعون الأول عمّ البلاد وأفنى العباد، و كان الناس به على خير عظيم: ‏مِن إحياء  الليل، وصوم النهار، والصدقة، والتوبة .... ‏فهجرنا البيوت؛ ولزمنا المساجد، ‏رجالنا وأطفالنا ونساءنا؛ ‏فكان الناس به على خير".

حیاۃ الصحابۃ میں ہے :

        ’’حضرت سعید بن مسیب  رحمہ اللہ کہتے ہیں:  جب حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اُردن میں طاعون میں مبتلا ہوئے تو جتنے مسلمان وہاں تھے ان کو بلا کر ان سے فرمایا:
میں تمہیں ایک وصیت کررہا ہوں اگر تم نے اسے مان لیا تو ہمیشہ خیر پر رہو گے اور وہ یہ ہے کہ نماز قائم کرو، ماہِ رمضان کے روزے رکھو، زکاۃ ادا کرو، حج وعمرہ کرو، آپس میں ایک دوسرے کو (نیکی کی) تاکید کرتے رہو اور اپنے امیروں کے ساتھ خیرخواہی کرو اور ان کو دھوکا مت دو اور دنیا تمہیں (آخرت سے) غافل نہ کرنے پائے؛ کیوں کہ اگر انسان کی عمر ہزار سال بھی ہوجائے تو بھی اسے (ایک نہ ایک دن) اس ٹھکانے یعنی موت کی طرف آنا پڑے گا جسے تم دیکھ رہے ہو۔
       اللہ تعالیٰ نے تمام بنی آدم کے لیے مرنا طے کر دیا ہے، لہٰذا وہ سب ضرور مریں گے اور بنی آدم میں سب سے زیادہ سمجھ دار وہ ہے جو اپنے ربّ کی سب سے زیادہ اطاعت کرے اور اپنی آخرت کے لیے سب سے زیادہ عمل کرے۔‘‘ (2/165، ط: مکتبۃ الحسن)

لہذا انتظامیہ  کا مسجد میں جماعت سے نماز  پڑھنے پر پابندی لگانا جائز نہیں ہے، جمعہ اور پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ اوقات میں مساجد بند کرنے کی اجازت ہے۔ مساجد کو بالکلیہ معطل کرنے اور ان میں نمازوں اور ذکر پر پابندی لگانے کے حوالے سے نصوص میں سخت وعید وارد  ہوئی ہے اور ان کے اس عمل کو "ظلم" قرار دیا گیا ہے۔

﴿وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهُ وَ سَعٰی فِيْ خَرَابِها ؕ اُولئك مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ ۬ؕ لَهُمْ فِي الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴾  [البقرة:۱۱۴]

ترجمہ: اور اس شخص سے زیادہ اور کون ظالم ہوگا جو خدا تعالیٰ کی مسجدوں میں ان کا ذکر (اور عبادت) کیے جانے سے بندش کرے اور ان کے ویران (ومعطل) ہونے (کے بارے) میں کوشش کرے۔ ان لوگوں کو تو کبھی بے ہیبت ہو کر ان میں قدم بھی نہ رکھنا چاہیے تھا، (بلکہ جب جاتے ہیبت اور ادب سے جاتے) ان لوگوں کو دنیا میں بھی رسوائی (نصیب) ہوگی اور ان کو آخرت میں بھی سزائے عظیم ہوگی۔  (بیان القرآن)

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مساجد آباد رکھیں، اگر مخصوص عمر اور بیماری کی علامات والے افراد کو جماعت میں شرکت سے روکا جائے تو صحت مند افراد مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں۔ تاہم  اگر کسی ملک میں حکومتی سطح پر مساجد  بالکلیہ بند کردی جائیں تو  مقامی لوگوں کو چاہیے کہ وہ حکمت کے ساتھ انتظامیہ کواسلامی اَحکام کے بارے میں آگاہ کریں اور کوشش کریں کہ وہ پابندی ہٹادیں۔ اور جب تک پابندی رہے تو مسجد کی جماعت چھوٹ جانے کا عذر معتبر ہے، ایسی صورت میں کوشش کریں کہ چند افراد مسجد کے اندر ہی قیام کرلیں؛ تاکہ مسجد کے اعمال بالکلیہ منقطع نہ ہوجائیں اور وہاں باجماعت نمازوں کا سلسلہ  چلتا رہے اور  شہر یا بڑی بستی میں جمعے  کے وقت جہاں کم از کم چار بالغ مرد جمع ہوجائیں اور ان لوگوں کی طرف سے دوسرے لوگوں کی نماز میں شرکت کی ممانعت نہ ہو، وہ جمعہ بھی قائم کریں اور باقی افراد مجبوری کی صورت میں  دیگر مقامات پر ہی باجماعت نماز کا اہتمام کرلیں۔

اور  اگر  حکومت کی طرف سے جماعت میں عمومی شرکت پر پابندی ہو تو اس محلے کے چند لوگوں کو مسجد میں باجماعت نمازوں کا اہتمام کرنا ضروری ہوگا  اور اگر بلاعذر پورے محلے والوں نے مسجد میں باجماعت نماز ترک کردی تو پورا محلہ گناہ گار ہوگا؛ کیوں کہ مسجد کو اس کے اعمال سے آباد رکھنا فرضِ کفایہ ہے۔

نیز   اگر کسی ملک میں مساجد بالکلیہ بند ہوں یا بعض صحت مند افراد کو جمعہ کی نماز میں شرکت سے روک دیا جائے تو انہیں چاہیے کہ وہ مساجد کے علاوہ جہاں چار یا چار سے زیادہ بالغ مرد جمع ہوسکیں اور ان لوگوں کی طرف سے دوسرے لوگوں کی نماز میں شرکت کی ممانعت نہ ہو، جمعہ قائم کرنے کی کوشش کریں۔  شہر، فنائے شہر یا قصبہ میں جمعہ کی نماز میں چوں کہ مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے؛ لہٰذا امام کے علاوہ کم از کم تین مرد مقتدی ہوں تو  بھی جمعہ کی نماز صحیح ہوجائے گی؛ چناں چہ جمعے کا وقت داخل ہوجانے کے بعد پہلی اذان دی جائے، سنتیں ادا کرنے کے بعد دوسری اذان دے کر امام خطبہ مسنونہ پڑھ کر دو رکعت نماز پڑھا دے،  چاہے گھر میں ہوں یا کسی اور جگہ جمع ہو کر پڑھ لیں، عربی خطبہ اگر یاد نہ ہو تو  کوئی خطبہ دیکھ کر پڑھے، ورنہ عربی زبان میں حمد و صلاۃ اور قرآنِ پاک کی چند آیات پڑھ کر دونوں خطبے دے دیں۔ (امام کے بیٹھنے کے لیے اگر منبر موجود ہو تو بہتر، ورنہ کرسی پر بیٹھ جائے اور زمین پر کھڑے ہوکر خطبہ دے تو بھی جمعہ کی نماز صحیح ہوجائے گی۔)

اگر شہر یا فنائے شہر یا قصبہ میں چار  بالغ افراد جمع نہ ہوسکیں تو ظہر کی نماز  تنہا پڑھیں۔

التفسير المظهري (1 / 116):

"منصوب على العلية أي كراهة أن يذكر وسعى في خرابها بالتعطيل عن ذكر الله، فانهم لما منعوا من يعمره بالذكر فقد سعوا في خرابه".

فتح القدير للشوكاني (1 / 153):

"والمراد بالسعي في خرابها: هو السعي في هدمها، ورفع بنيانها، ويجوز أن يراد بالخراب: تعطيلها عن الطاعات التي وضعت لها، فيكون أعم من قوله: أن يذكر فيها اسمه فيشمل جميع ما يمنع من الأمور التي بنيت لها المساجد، كتعلم العلم وتعليمه، والقعود للاعتكاف، وانتظار الصلاة ويجوز أن يراد ما هو أعم من الأمرين، من باب عموم المجاز".

تفسير الألوسي = روح المعاني (1 / 362):

"وكني بذكر اسم الله تعالى عما يوقع في المساجد من الصلوات والتقربات إلى الله تعالى بالأفعال القلبية والقالبية المأذون بفعلها فيها.

وسعى في خرابها أي هدمها وتعطيلها".

تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (4 / 12):

"المسألة الخامسة: السعي في تخريب المسجد قد يكون لوجهين. أحدهما: منع المصلين والمتعبدين والمتعهدين له من دخوله فيكون ذلك تخريبا. والثاني: بالهدم والتخريب".

تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (4 / 13):

"وثانيها: قوله تعالى: {إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله واليوم الآخر} [التوبة: 18] فجعل عمارة المسجد دليلا على الإيمان، بل الآية تدل بظاهرها على حصر الإيمان فيهم، لأن كلمة إنما للحصر".

تفسير الرازي = مفاتيح الغيب أو التفسير الكبير (4 / 13):

"هذه الآية التي نحن في تفسيرها وهي قوله تعالى: ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه فإن ظاهرها يقتضي أن يكون الساعي في تخريب المساجد أسوأ حالاً من المشرك".

تفسير القرطبي (2 / 77):

"خراب المساجد قد يكون حقيقيًّا كتخريب بخت نصر والنصارى بيت المقدس على ما ذكر أنهم غزوا بني إسرائيل مع بعض ملوكهم، - قيل: اسمه نطوس بن اسبيسانوس الرومي فيما ذكر الغزنوي- فقتلوا وسبوا، وحرقوا التوراة، وقذفوا في بيت المقدس العذرة وخربوه. ويكون مجازًا كمنع المشركين المسلمين حين صدوا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المسجد الحرام، وعلى الجملة فتعطيل المساجد عن الصلاة وإظهار شعائر الإسلام فيها خراب لها".

أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي (1 / 75):

"{ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه} والمنع يكون من وجهين: أحدهما بالقهر والغلبة، والآخر الاعتقاد والديانة والحكم؛ لأن من اعتقد من جهة الديانة المنع من ذكر الله في المساجد فجائز أن يقال فيه: قد منع مسجدًا أن يذكر فيه اسمه فيكون المنع هاهنا معناه الحظر، كما جائز أن يقال: منع الله الكافرين من الكفر والعصاة من المعاصي بأن حظرها عليهم وأوعدهم على فعلها، فلما كان اللفظ منتظمًا للأمرين وجب استعماله على الاحتمالين".

الفتاوى الهندية (1 / 148):

"(ومنها الجماعة) وأقلها ثلاثة سوى الإمام."

البناية شرح الهداية (3 / 78):

"وفي " المرغيناني ": إذا منع الإمام أهل المصر أن يجمعوا لايجمعون، وقال أبو جعفر: هذا إذا منعهم باجتهاد، وأراد أن يخرج تلك البقعة أن تكون مصرًا، فأما إذا نهاهم تعنتًا أو إضرارًا بهم، فلهم أن يجمعوا على من يصلي بهم".

المبسوط للسرخسي، باب صلاة الجمعة، 2/33-35:

"(قَالَ:) وَإِذَا فَزِعَ النَّاسُ فَذَهَبُوا بَعْدَ مَا خَطَبَ الْإِمَامُ لَمْ يُصَلِّ الْجُمُعَةَ إلَّاأَنْ يَبْقَى مَعَهُ ثَلَاثَةُ رِجَالٍ سَوَاءٍ لِأَنَّ الْجَمَاعَةَ مِنْ شَرَائِطِ افْتِتَاحِ الْجُمُعَةِ. وَقَدْ بَيَّنَّا اخْتِلَافَهُمْ فِي مِقْدَارِهَا وَإِنْ بَقِيَ مَعَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْعَبِيدِ أَوْ الْمُسَافِرِينَ يُصَلِّي بِهِمْ الْجُمُعَةَ لِأَنَّهُمْ يَصْلُحُونَ لِلْإِمَامَةِ فِيهَا بِخِلَافِ مَا إذَا بَقِيَ ثَلَاثَةٌ مِنْ النِّسَاءِ أَوْ الصِّبْيَانِ وَإِنْ كَانَ صَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبُوا أَتَمَّ صَلَاتَهُ جُمُعَةً عِنْدَنَا".

فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتاوی ملاحظہ فرمائیں:

کرونا وائرس (corona virus) کی وجہ سے نمازِ جمعہ چھوڑنے کا حکم اور اس حوالے سے شرعی اَحکام کی راہ نمائی

کرونا وائرس (corona virus) اور باجماعت نماز سے متعلق مسائل


فتوی نمبر : 144204200156

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں