بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

پھلوں اور سبزیوں کی کل پیداوار میں عشر لازم ہے


سوال

 ٹماٹر،سیب، انگور وغیرہ کی قیمتِ فروخت سے اخبار، کریٹ،کرایہ،کمیشن وغیرہ کا خرچ نکال کر زکاۃ ادا کی جائے گی یا کل رقم سے زکاۃ ادا کی جائے  گی؟

جواب

اگر آپ نے مذکورہ چیزیں کاشت کی ہیں اور آپ کا سوال عشر کے حوالے سے ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ جو زمین سال کے اکثر حصے میں قدرتی آبی وسائل (بارش، ندی، چشمہ وغیرہ) سے سیراب کی جائے اس میں عشر یعنی کل پیداوار کا دسواں حصہ (دس فی صد) واجب ہو تا ہے، اورجو زمین مصنوعی آب رسانی کے آلات و وسائل مثلاً: ٹیوب ویل یا خریدے ہوئے پانی سے سیراب کی جائے تو اس میں نصف عشر یعنی کل پیداوار کا بیسواں حصہ (پانچ فی صد) واجب ہو تا ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ کھیتی کی تیاری میں جو اخراجات ہوتے ہیں، مثلاً: آب رسانی، مزدوری، کھاد وغیرہ انہیں آمدنی سے منہا نہیں کیا جائے گا، بلکہ مجموعی پیداوار میں سے عشر نکالنا ضروری ہو گا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں پھلوں اور سبزیوں کی جو کل پیداوار ہوگی اس سے عشر (دسواں حصہ)یا نصف عشر (بیسواں حصہ)نکالنا لازم ہے، یاانہیں فروخت کرکے پوری قیمت سے عشر یا نصف عشر ادا کیاجائے۔اخبار ،کریٹ کرایہ وغیرہ کے اخراجات عشر کی ادائیگی سے قبل نہیں نکالے جاسکتے ۔

اور اگر آپ نے یہ چیزیں کاشت نہیں کیں، بلکہ ان کی تجارت کرتے ہیں تو  زکاۃ کا سال پورا ہونے پر واجب الادا رقم منہا کرنے کے بعد جو نفع بچے گا اس کا ڈھائی فیصد بطورِ زکاۃ واجب ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201969

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں