بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

لڑکی سے محبت کرنا اور اس سے نکاح کرنا


سوال

 میرا ایک دوست جو کہ مدرسے کا طالب علم ہے وہ ایک لڑکی کے ساتھ پیار محبت والے چکر میں پڑ گیا ہے۔ اور دونوں نکاح کرنا چاہتے ہیں،  لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لڑکی میڈیکل کی ایک سٹوڈنٹ ہے اور وہ کسی ہسپتال وغیرہ میں کام کرنا چاہتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ وہ باقاعدہ پردے کا خیال رکھتے ہوئے کام کرے گی تو کیا اسلام میں اس طرح اس لڑکی کے کام کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟

جواب

اجنبی لڑکے اور لڑکی کا پیار اور محبت کے نام سے رشتہ قائم کرنا ہی  شرعاً واخلاقاً جائز نہیں ہےلہذا مذکورہ لڑکے اور لڑکی کو چاہیے کہ اپنے اس گناہ پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرے، اور نکاح کے سلسسلے میں  آپ کے دوست کے  لیے  بہتر یہ ہے کہ خاندان کے بزرگوں کے توسط سے رشتے کی بات کرے، اور  مذکورہ لڑکی کو بھی چاہیے کہ وہ خفیہ رابطہ رکھنے کے بجائے اپنی والدہ یا خاندان کی کسی نیک سمجھ دار خاتون کے ذریعے والدین کو رشتے پر آمادہ کرے، اگر بڑے راضی ہوں تو رشتہ کرلیا جائے، بصورتِ دیگر   رابطہ و تعلق ختم کرلیا جائے۔

   باقی عورت کی ملازمت سے متعلق جامعہ کا فتوی درج ذیل لنک پر ملاحظہ  کریں:

عورت کے لیے ملازمت کرنے کا حکم

  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405101807

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں