بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے ملازمت کرنے کا حکم


سوال

کیا عورت کے لیے طبابت کی خدمت جائز ہے؟ اگر کوئی عورت پردہ کے ساتھ ڈاکٹری( طبابت) کی خدمت کرنا چاہے، ہمارے ملک و سماج کی طرز پر تو اس کے لیے  شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  شریعتِ مطہرہ  میں عورت کو پردہ میں رہنے کی بہت تاکید کی ہوئی ہے اور اس کا اپنے گھر سے نکلنے کو سخت نا پسند کیا گیا ہے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے معاملہ میں بھی یہ پسند فرمایا کہ عورتیں اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھیں اور اسی کی ترغیب دی،  چنانچہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں آپ کے پیچھے مسجدِ نبوی میں نماز پڑھنا پسند کرتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں مجھے معلوم ہے، لیکن تمہارا اپنے گھر میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے،   نیز کمانے کی غرض سے بھی عورت کا نکلنا ممنوع قرار دیا گیا ہے،  اور  اُس کا نفقہ  اس کے والد یا شوہر پر لازم کیا گیا ؛ تا کہ گھر سے باہر نکلنے کی حاجت پیش نہ آئے،   شادی سے پہلے اگر اُس کا اپنا مال نہ ہو تو اس کا نفقہ اس کے باپ پر لازم ہے اور شادی کے بعد اس کا نفقہ اس کے شوہر پر لازم کیا ہے، لہذا کمانے کے لیے بھی عورت کا اپنے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے۔

ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ عورت چھپانے کی چیز ہے، جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اسے دوسروں کی نظروں میں اچھا کر کے دکھاتا ہے۔

سنن الترمذي ت بشار (2/ 467)

'' عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان».هذا حديث حسن صحيح غريب''.

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2054)

''(استشرفها الشيطان) أي زيّنها في نظر الرجال۔ وقيل: أي نظر إليها ليغويها ويغوي بها''.

البتہ اگر کسی خاتون کی شدید مجبوری ہو اور کوئی دوسرا کمانے والا نہ ہوتو ایسی صورت میں عورت کے گھر سے نکلنے کی گنجائش ہو گی، لیکن اس میں بھی یہ ضروری ہے کہ عورت مکمل پردے کے ساتھ گھر سے نکلے، کسی نا محرم سے بات چیت نہ ہو،   ایسی ملازمت اختیار نہ کرے جس میں کسی کے ساتھ تنہائی حاصل ہوتی ہو۔

لہذا سوالِ مذکور میں اگر ''طبابت کی خدمت'' سے ملازمت مقصود ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر عورت کے لیے شدید مجبوری نہیں ہے تو اس کے لیے بغرضِ ملازمت اپنے گھر سے نکلنا جائز نہیں، البتہ اگر شدید مجبوری ہے اور کوئی دوسرا کمانے والا نہ ہو تو مندرجہ بالا حدود و قیود کی رعایت کرتے ہوئے  ملازمت کی  گنجائش ہو گی۔ اسی طرح اگر خاتون ڈاکٹرگھر سے نہ نکلے، بلکہ اپنی رہائش گاہ میں ہی کلینک / دواخانہ کھول لے، جہاں صرف خواتین مریضوں کا علاج معالجہ کرے  تو اس کی اجازت ہوگی۔

اور اگر طبابت کی خدمت سے مراد ملازمت اور کمانا مقصود نہیں ہے، بلکہ خواتین مریضوں کی خدمت اور باپردہ ماحول میں ان کے لیے علاج کی سہولت میسر کرنا مقصود ہو، تاکہ اجنبی مرد ڈاکٹروں کے سامنے انہیں بے پردہ نہ ہونا پڑے، اور اس کے لیے پردے وغیرہ کے شرعی احکام کا لحاظ رکھ کر اپنے گھر یا علاقے کے اندرخواتین کی خدمت کی جائے یا کسی محرم کے ساتھ آمد و رفت اختیار کرکے باپردہ ماحول میں صرف خواتین مریضوں کی خدمت کی جائے تو اس کی اجازت ہوگی۔

واضح رہے کہ مذکورہ تمام صورتوں میں دیگر شرعی فرائض وحقوق میں کوتاہی ہرگز نہیں آنی چاہیے، مثلاً شوہر کے حقوق اور اولاد کی تربیت اور ان کے حقوق میں اس خدمت سے خلل نہ پیدا ہو۔ اگر اس کی وجہ سے دیگرواجب حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو تو طبابت کا مشغلہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

الجامع لأحكام القرآن (11/ 253)

'' وإنما خصه بذكر الشقاء ولم يقل فتشقيان : يعلمنا أن نفقة الزوجة على الزوج ؛ فمن يومئذٍ جرت نفقة النساء على الأزواج ، فلما كانت نفقة حواء على آدم، كذلك نفقات بناتها على بني آدم بحق الزوجية''.

الفتاوى الهندية (1/ 563،562)

''وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهنّ في عمل، أو خدمة۔ كذا في الخلاصة ... ونفقة الإناث واجبة مطلقاً على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهنّ مال، كذا في الخلاصة''.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 121)

''(وأما) النوع السادس: وهو الأجنبيات الحرائر، فلا يحل النظر للأجنبي من الأجنبية الحرة إلى سائر بدنها إلا الوجه والكفين ؛ لقوله تبارك وتعالى: ﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ﴾ [النور: 30] إلا أن النظر إلى مواضع الزينة الظاهرة وهي الوجه والكفان''۔
 

شامی، باب الإ مامة ج۱ص۵۳۹

''ویکره حضورهن الجماعة ولو لجمعة وعید و وعظ مطلقاً ولو عجوزاً لیلاً علی المذهب المفتی به لفساد الزمان … کما تکره إمامة الرجل لهنّ في بیت لیس معهنّ رجل غیره ولا محرم منه، کأخته أو زوجته أو أمته، أما إذا کان معهنّ واحد ممن ذکر أو أ مهنّ في المساجد لا ''.

فتح الباري لابن حجر (2/ 349)

'' ولأحمد والطبراني من حديث أم حميد الساعدية: «أنها جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله إني أحب الصلاة معك! قال: قد علمت، وصلاتك في بيتك خير لك من صلاتك في حجرتك، وصلاتك في حجرتك خير من صلاتك في دارك، وصلاتك في دارك خير من صلاتك في مسجد قومك، وصلاتك في مسجد قومك خير من صلاتك في مسجد الجماعة». وإسناد أحمد حسن، وله شاهد من حديث بن مسعود عند أبي داود'' .فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201741

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں