بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا سرکاری پابندی کی بنا پر تین جمعہ چھوڑنے والا حدیث میں ذکر کردہ وعید کا مصداق ہوگا؟


سوال

جو  تین جمعہ نمازیں لگاتار چھوڑدے اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے، کیا وبائی صورتِ حال میں بھی اس کے مصداق بن سکتے ہیں؟

جواب

 جمعہ کی نماز فرض ہے اور یہ دین کے شعائر میں سے ہے اور بلاعذر جمعہ کی نماز ترک کرنے والا سخت گناہ گار ہے، احادیثِ مبارکہ میں جمعہ کی نماز چھوڑنے والوں سے متعلق سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ ایک حدیث مبارک میں ہے:

’’ حضرت عبداللہ بن عمر  اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں راوی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے منبر  کی لکڑی (یعنی اس کی سیڑھیوں) پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ نمازِ جمعہ چھوڑنے سے باز رہیں،  ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ غافلوں میں شمار ہونے لگیں گے‘‘۔

"عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا قَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِ مِنْبَرِهِ: «لِيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ». رَوَاهُ مُسلم". (مشكاة المصابيح (1/ 433)

نیز ایک دوسری روایت میں ہے :

’’ حضرت ابی الجعد ضمیری راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی محض سستی و کاہلی کی بنا پر تین جمعے چھوڑ دے گا، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگائے دے گا‘‘۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی ، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)

"عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضُّمَيْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي". (مشكاة المصابيح (1/ 433)

ایک اور روایت میں ہے:

’’ حضرت عبداللہ  بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو آدمی بغیر کسی عذر کے نمازِ جمعہ چھوڑ دیتا ہے وہ ایسی کتاب میں منافق لکھا جاتا ہے جو نہ کبھی مٹائی جاتی ہے اور نہ تبدیل کی جاتی ہے‘‘.  اور بعض روایات میں یہ ہے کہ ’’جو آدمی تین جمعے چھوڑ دے‘‘ (یہ وعید اس کے لیے ہے)۔

"وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةٍ كُتِبَ مُنَافِقًا فِي كِتَابٍ لَايُمْحَى وَلَايُبَدَّلُ». وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ: ثَلَاثًا. رَوَاهُ الشَّافِعِي". (مشكاة المصابيح (1/ 435)

ان احادیث سے جمعہ کی نماز کی اہمیت کا علم ہوتاہے، نیز ترکِ جمعہ پر جو وعیدیں وارد ہیں وہ بھی ان روایات میں واضح طور پر مذکور ہیں، لہذا  بلاعذر جمعہ چھوڑنا سخت گناہ ہے،  البتہ اگر  عذر کی وجہ سے جمعہ چھوٹ جائے یا حکومتی پابندی کی وجہ سے جمعہ کی نماز نہ پڑھی جاسکے تو  ایسا معذور اورمجبور شخص ان وعیدوں کا مصداق نہیں ہوگا۔

جیساکہ  اس حدیث کی تشریح میں صاحب مظاہر حق لکھتے ہیں :

’’ مطلب یہ ہے کہ ترکِ جماعت کے جو عذر ہیں مثلاً کسی ظالم اور دشمن کا خوف، پانی برسنا، برف پڑنا یا راستے میں کیچڑ وغیرہ کا ہونا وغیرہ وغیرہ اگر ان میں سے کسی عذر کی بنا پر جمعہ کی نماز کے لیے نہ جائے تو وہ منافق نہیں لکھا جائے گا، ہاں بغیر کسی عذر اور مجبوری کے جمعہ چھوڑنے والا منافق لکھا جائے گا  ...  حاصل یہ ہے کہ نمازِ جمعہ چھوڑنے والا اپنے نامہ اعمال میں کہ جس میں نہ تنسیخ ممکن ہے اور نہ تغیر و تبدل، منافق لکھ دیا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ  نفاق جیسی ملعون صفت ہمیشہ کے لیے چپک کر رہ جاتی ہے؛ تاکہ آخرت میں یا تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے عذاب میں مبتلا کر دے یا اپنے فضل و کرم سے درگزر فرماتے ہوئے اسے بخش دے۔  غور و فکر کا مقام ہے کہ نمازِ جمعہ چھوڑنے کی کتنی شدید وعید ہے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے عذاب سے محفوظ رکھے‘‘۔ (مظاہر حق جدید  ۔1/872، ط :َ دارالاشاعت)

باقی موجودہ  جمعہ وجماعات پر پابندی کی صورت میں شرعی راہ نمائی کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتوی ملاحظہ فرمائیں:

کرونا وائرس (corona virus) اور باجماعت نماز سے متعلق مسائل

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108201015

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے