بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کے دن لاک ڈاؤن کی وجہ سے کیا ظہر جماعت سے ادا کرسکتے ہیں؟


سوال

لاک ڈاؤن کی وجہ سے جمعہ کی جماعت نہ ہونے کی صورت میں ظہر کی جماعت کرواسکتے ہیں؟

جواب

اگر کسی شہر، فنائے شہر یا بڑی بستی کی مساجد میں جمعہ کے اجتماع پر پابندی ہو  تو  وہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ مساجد کے علاوہ جہاں چار یا چار سے زیادہ بالغ مرد   جمع ہوسکیں اور ان لوگوں کی طرف سے دیگر  لوگوں کی شرکت کی ممانعت نہ ہو، جمعہ قائم کرنے کی کوشش کریں۔  شہر، فنائے شہر یا قصبہ میں جمعہ کی نماز میں چوں کہ مسجد کا ہونا شرط نہیں ہے؛ لہٰذا   امام کے علاوہ کم از کم تین بالغ مرد مقتدی ہوں تو  بھی جمعہ کی نماز صحیح ہوجائے گی؛ پس جمعے کا وقت داخل ہونے کے بعد پہلی اذان دی جائے، سنتیں ادا کرنے کے بعد امام منبر یا کرسی وغیرہ پر بیٹھ جائے، اس کے سامنے دوسری اذان دی جائے،  پھر امام خطبہ مسنونہ پڑھ کر دو رکعت نمازِ جمعہ پڑھا دے۔  چاہے گھر میں ہوں یا کسی اور جگہ جمع ہو کر پڑھ لیں، عربی خطبہ اگر یاد نہ ہو تو  کوئی خطبہ دیکھ کر پڑھ لیا جائے، ورنہ عربی زبان میں حمد و صلاۃ اور قرآنِ کریم  کی چند آیات  پڑھ کر دونوں خطبے دے دیں۔ جمعے کے مختصر خطبہ کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

مختصر خطبہ جمعہ

امام کے بیٹھنے کے لیے اگر منبر موجود ہو تو بہتر، ورنہ کرسی پر بیٹھ جائے اور زمین پر کھڑے ہوکر خطبہ دے تو بھی جمعہ کی نماز صحیح ہوجائے گی۔

 شہر، فنائے شہر یا قصبہ میں اگر بالغ مرد چار کی تعداد میں جمع نہ ہوسکیں تو ظہر کی نماز تنہا پڑھ لیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200028

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے