بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

حروف تہجی کے اعداد کا استعمال کرنا


سوال

حروفِ تہجی کے اعداد کا استعمال بتائیں!

جواب

حروفِ تہجی اور ابجد سے متعلق شرعی مسئلہ یہ ہے کہ :

اس   کے موافق اعداد کا شمار اور اعتبار کرنا بعض چیزوں (مثلاً  تاریخِ وفات یا تاریخِ پیدائش بعدالوقوع)میں جائز ہے، لیکن  ’’علمِ ابجد‘‘کے ذریعہ ایسا کام لینا جیساکہ علمِ نجوم میں لیاجاتاہے، جیسے فال نکالنا، زائچے بناکر کسی کے حالات معلوم کرنا اور اس پر یقین کرنا ناجائز اور حرام ہے۔(کفایت المفتی ، 9/222دارالاشاعت)فقط واللہ اعلم

حروفِ تہجی کے اعداد جاننے کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

حروف تہجی کے اعداد


فتوی نمبر : 144109203292

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں