بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 شوال 1441ھ- 30 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

حکومت زکاۃ کاٹ لے تو دوبارہ زکاۃ دینی ہوگی؟/ اسٹاک میں بیلنس حسبِ سابق ہو تو زکاۃ کا حکم


سوال

1 : میں نے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی ہے اور جب بھی  مجھے نفع ملتا، گورنمنٹ اس میں سے میرے زکاۃ کے پیسے کاٹ لیتی، تو کیا اب بھی مجھے زکاۃ ادا کرنی ہوگی؟

2 : اگر میں نے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی ہو اور اگلے سال میرا بیلنس وہی رہے تو کیا اگلے سال مجھے اپنے اسٹاک کے سرمایہ پر زکاۃ دینی ہوگی؟

جواب

1 : اگر بینک  یا حکومت کھاتے داروں  کی اجازت سے اصل رقم سے زکاۃ  کاٹ کر مستحقینِ زکاۃ  کو مالکانہ طور پر دیتی ہے تو زکاۃ ادا ہوجائے گی۔ اور اگر حکومت  یا بینک  کھاتے داروں کی اجازت کے بغیر زکاۃ  کی کٹوتی کرلیں  یا اصل  رقم کے بجائے  سود  کی رقم میں سے زکاۃ کاٹیں تو زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔

جامعہ کے سابقہ فتاویٰ میں ہے:

’’سوال: حکومتِ پاکستان نے جو زکاۃ وعشر کا نظام قائم کیاہے، اس طور سے نصاب کی زکاۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں؟ اور اس کمیٹی میں جو اس زکاۃ و عشر کو مستحقین میں تقسیم کرتی ہے ملازمت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیوں کہ یہ رقم مالک کی اجازت کے بغیر کاٹی جاتی ہے۔

جواب: حکومت بینکوں کے ذریعے جو زکاۃ کی رقم کاٹتی ہے اگر اصحابِ رقم کی اجازت اور اطلاع کے بغیر کاٹتی ہے تو اصحابِ رقم کی طرف سے نیت اور اختیار سے زکاۃ نہ دینے کی وجہ سے زکاۃ ادا نہ ہوگی، البتہ جو لوگ رقم جمع کراتے وقت بینک والوں کو زکاۃ کاٹنے کا اختیار دے دیتے ہیں یا اس کی نیت کرلیتے ہیں تو زبردستی بغیر رضا و رغبت کے رقم وصول کرنے کے باوجود مفتی بہ قول کے مطابق اس آخری صورت میں زکاۃ ادا ہوجائے گی۔

رہی یہ بات کہ حکومت مصارفِ زکاۃ میں رقم خرچ کرتی ہے یا نہیں؟ تو اس کی ذمہ داری ذاتی طور پر حکومت اور اجتماعی طور پر متعلقہ لوگوں پر ہے، لیکن جو ملازمین یا عہدے دار جو صرف تقسیم کا حق رکھتے ہیں اگر وہ اپنی صواب دید کے مطابق تقسیمِ زکاۃ کا اختیار رکھتے ہیں تو پھر عہدہ تقسیمِ زکاۃ کے سلسلے میں قبول کرسکتے ہیں، لیکن اگر کوئی اپنی صواب دید کے مطابق مستحقین میں زکاۃ تقسیم کرنے کا اختیار نہیں رکھتا، بلکہ بلاامتیاز تقسیم کرنا پڑتاہے تو ایسی صورت میں عہدہ قبول کرنا نامناسب، خلافِ اولیٰ اور مکروہ ہے، لیکن ناجائز نہیں؛ کیوں کہ اصل ذمہ داری حکومت اور بااختیار افسران پر عائد ہوتی ہے۔

کتبہ: محمد عبدالسلام (26/11/1402)‘‘

2 : زکاۃ کا سال مکمل ہونے کے بعد مذکورہ سرمایہ (نقدی، دیگر مالِ تجارت وغیرہ کے ساتھ مل کر) اگر نصاب تک پہنچتا ہو تو اس پر زکاۃ ادا کرنا لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

اسٹاک مارکیٹ کے حوالہ سے شرعی راہ نمائی یہاں ملاحظہ کریں


فتوی نمبر : 144109201171

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے