بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم


سوال

زید کا یہ کہنا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی حیات بعد الوفات کے بارے میں میرا وہی عقیدہ جو " المہندعلی المفند  "میں  مولانا خلیل احمد سہارنپوری نے تحریر فرمایاتھا جس پر وقت کے اکابرین دیوبند مثلا شیخ الہند ، حکیم الامت تھانوی ، مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری ، مولانا مفتی عزیرالرحمن صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند ، مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہم اللہ کی تصدیقات موجود ہیں کہ :"ہمارے مشائخ کےنزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلماپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں اور آپ کی حیات دنیا کی سی ہے بلامکلف ہونے کے اور یہ حیات مخصوص ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء علیھم السلام اور شہداء کے ساتھ )

نیز زید کا یہ بھی کہنا ہےکہ حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے 1962 میں پاکستان تشریف لاکر 22 جون کو راولپنڈی  میں جس متفقہ عقیدہ پر فریقین سے دستخط کرائے تھے تاکہ جھگڑا ختم ہو اور عامۃ المسلمین کو جنگ وجدال سے بچایا جائے وہی میرا عقیدہ اور وہ یہ ہے ( وفات کے بعد نبی کریم صلی کے جسد اطہر کو برزخ ( قبرشریف ) میں بتعلق روح حیات حاصل ہے اور اس حیات کی وجہ سے روضۂ اقدس  پر حاضر ہونے والوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم  صلاۃ وسلام سنتے ہیں ) اور اس  عقیدہ پر  قاری محمد طیب صاحب ، مولانامحمد علی جالندھری اور شیخ القرآن مولانا محمد غلام اللہ خان رحمہم اللہ نے دستخط فرمائے تھے ۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

زید اور مذکورہ اکابرین امت کا یہ عقیدہ قرآن وحدیث کی روشنی میں صحیح ہے ؟یا شرکیہ؟اگر کوئی شخص اس عقیدہ  کو شرک اور قائلین کو مشرک کہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور تمام اَنبیاءِ کرام علیہم السلام  کے متعلق  اکابرِ  دیوبند کا مسلک یہ ہے  کہ وفات کے بعد اپنی قبروں میں زندہ  ہیں اور  ان کے اَبدانِ  مقدسہ بعینہا محفوظ ہیں ،جسدِ  عنصری کے  ساتھ  عالمِ  برزخ میں ان کو حیات حاصل ہے، جو  حیات دنیوی کے مماثل  ہے ، بلکہ بعض اعتبار سے اس سے بھی اعلیٰ ہے،صرف یہ فرق ہے کہ اَحکامِ دنیویہ کے مکلف نہیں ،لیکن وہ نماز بھی پڑھتے ہیں اور روضۂ  اقدس میں جو درود پڑھاجاتا ہے اس کو بلاواسطہ سنتے  ہیں ، اکابرین دیوبند کا جو عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے وہ قرآن وسنت کے عین مطابق ہے۔

نیزیہ عقیدہ چودہ صدیوں سے امت میں متوارث چلا آرہا ہے، جو شخص اس عقیدہ  کے خلاف کرےاور اس کو شرکیہ کہے   وہ مبتدع اور گمراہ   ہے، اہلِ سنت و الجماعت سے خارج ہے ۔

المہند علی المفند میں ہے:

"عندنا وعند مشائخنا : حضرۃ الرسالة صلي الله عليه وسلم حيٌّ في قبرہ الشریف وحیاتة صلي الله عليه وسلم دنیویّة من غیر تکلیفٍ، وھي مختصة بها وبجمیع الأنبیاء صلوات ﷲ علیھم والشھدآء لابرزخیَّة، کما ھي حاصلة لسائر المؤْمنین بل لجمیع الناس، نصّ علیه العلّامة السیوطي في رسالته ’’إنباء الأذکیاء بحیاۃ الأنبیاء‘‘حیث قال: قال الشیخ تقي الدین السبکي: حیاۃ الأنبیآء والشھدآء في القبر کحیاتھم في الدنیا ویشھد له صلاۃ موسٰی علیه السلام في قبرہ، فإنّ الصلاۃ تستدعي جسدًا حیًّا إلٰی اٰخر ما قال: فثبت بھذا أنّ حیاته دنیویَّة برزخیّة لکونھا في عالم البرزخِ".

(الجواب عن السوال الخامس: مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،ص:21۔22، ط: دارالاشاعت کراچی)

ترجمہ:" ہمارے اور ہمارے تمام مشائخ کے نزدیک آں  حضرت ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں اور آپ کی حیات، حیاتِ دنیوی کی سی ہے،بلامکّلف ہونے کے اور یہ حیات مخصوص ہے آں حضرت ﷺ اور تمام انبیاء علیہم السلام اور شہداء کے ساتھ ، یہ حیات خالص برزخی حیات نہیں ہے جو کہ تمام ایمان داروں کو حاصل ہے،  بلکہ سب انسانوں کو۔ چناں  چہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ ’’إنباء الأذكیاء بحیاة الأنبیاء‘‘ میں بتصریح لکھاہے کہ: تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور شہداء کی حیات قبر میں ایسی ہے جیسی دنیا کی تھی اور حضرت موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنی قبر میں نماز پڑھنا اور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہم کو خبر دینا اس کی دلیل ہے؛ کیوں  کہ نماز  کی ہیئتِ   کذائیہ  زندہ جسم کو چاہتی ہے۔بس اس سے ثابت ہوا کہ آپ ﷺ کی حیات دنیا کی حیات  جیسی ہے اور دونوں میں فرق یہ ہے : دنیوی حیات  میں تکلیف ِابلاغ ِ رسالت ودین کے ساتھ مامور تھے اور برزخ میں تکلیفِ ابلاغِ  رسالت ودین کی ذمہ داری آپ پر نہیں،  بلکہ آپ کے بعد آنے والے علماء پر ہے اور اس کو حیاتِ  برزخی اس لیے کہاجاتا ہے کہ عالمِ برزخ میں ہے۔"

جواہر الفتاوی میں ہے:

"حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم،  بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کی حیات کا عقیدہ نصوصِ شرعیہ سے اور  اجماعِ امت سے ثابت ہے، باتفاق علماءِ اہل السنۃ والجماعۃ خاص کر اکابرینِ علماءِ دیوبند، اس جماعتِ دیوبندیہ کے لیے معیار قرار دیتے ہیں، اس کے خلاف منکرینِ  حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم و الانبیاء والشہداء کو  مبتدع  اور  اہلِ سنت و الجماعت سے خارج قرار دیتے ہیں۔"

  (جواہر الفتاوی جدید ،1/432، ط: اسلامی کتب خانہ)

عقیدہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تفصیلی فتوے کے لیے مذکورہ لنک کھولیں۔یا ہماری ویب سائٹ پرموجود فتوی نمبر 144112200748دیکھیں۔

https://www.banuri.edu.pk/readquestion/mamati-ustad-ka-hayat-e-anbiya-ka-aqeeda-bayan-karne-so-rokna-144112200748/01-08-2020

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404101715

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں