بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حیات انبیاء علیہم السلام سے متعلق اہل سنت والجماعت کا عقیدہ


سوال

میرا عقیدہ حیات النبیﷺ  کا ہے اور میرے بعض اساتذہ حیات النبیﷺ کے منکر ہیں، یعنی مماتی ہیں،  وہ مجھے عقیدہ حیات النبی ﷺ  بیان کرنے اور حیاتی علماء کو اپنی مسجد میں لانے سے منع کرتے ہیں،  ورنہ مجھے عاق کردیں گے ؟ آپ سے گزارش ہے کہ  حیات النبی ﷺ اور حیات الانبیاء سے متعلق اہل سنت والجماعت کا عقیدہ کی وضاحت کردیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں جو شخص  "حیات  الانبیاء " (یعنی وفات کے بعد  انبیاءِ کرام علیہم السلام کی حیات) کا منکر ہو ، وہ اہلِ سنت  والجماعت سے خارج ہے، ایسے شخص کی امامت میں نماز ادا کرنا  بھی مکروہِ تحریمی ہے، ان لوگوں سے علم دین حاصل کرنے سے بھی اجتناب کرنا  چاہیے، لہذا آپ ضرورت کے موقع پر لوگوں کو درست عقیدہ بتاتے رہیں، اور  حیاتِ  انبیاءِ کرام علیہم السلام کے منکرین کی باتوں کی طرف توجہ نہ دیں۔

نیز  واضح رہے کہ  ہمارے ہاں حیات النبی  ﷺ  اور  انبیاءِ  کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے  اپنی قبروں میں زندہ ہونے سے متعلق متعدد سوال موصول ہوتے  رہے ہیں اور سوال کے مطابق ان کے جوابات بھی جاری کیے جاتے رہے ہیں،  نیز کئی  لوگوں کی طرف سے یہ درخواست  کی گئی کہ اس مسئلہ کا  مکمل تفصیلی فتویٰ جاری کیا جائے، آپ کا سوال بھی اسی نوعیت کا ہے ؛  لہذا مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ سے متعلق  جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کے سابق رئیس دارالافتاء حضرت مولانا مفتی محمد عبد السلام چاٹگامی صاحب  رحمہ اللہ کا اس مسئلہ پر خود نوشتہ تفصیلی فتویٰ جو انہوں نے  (5/10/1421) کو  اسی نوعیت کے سوال کے جواب میں تحریر فرمایا ہے،  وہ مکمل نقل کردیا جائے، لہذا ذیل میں اسے ملاحظہ فرمائیے:

حامداً ومصلیاًومسلماً!  أمابعد:

حیات النبی ﷺ بلکہ تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ  والسلام وشہداءِ کرام کی حیات کا عقیدہ نصوصِ  شرعیہ اور اجماع سے ثابت ہے،  باتفاقِ علماءِ اہلِ سنت والجماعت خاص کر اَکابرین علمائے دیوبند اس کوجماعتِ دیوبندیہ کے لیے معیار قراردیتے ہیں، اور اس کے خلاف منکرینِ  حیات النبی والانبیاء والشہداء کو مبتدع اور اہلِ سنت والجماعت سے خارج قرار دیتے ہیں، ان منکرینِ حیات النبیﷺ کی اقتدا  اور امامت کو مکروہِ تحریمی فرماتے ہیں۔

اس کی تفصیل  یہ ہے کہ :

  حیات النبی ﷺ بلکہ حیات انبیاء علیہم السلام  اورشہداء تو نصوصِ قرآنی ، احادیث اور آثار کثیرہ سے ثابت ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور شہداء کی ارواح کا تعلق وربط اپنے اجسادعنصریہ کے ساتھ حیات دنیویہ کی طرح ہے، بلکہ اس سے بھی قوی تر ہے،   فرق یہ ہے کہ دنیوی حیات کو ہم محسوس کرتے ہیں، اوربعدازوفات حیات کو ہم محسوس نہیں کرپاتے، لیکن نصوص وروایات سے جب معلوم ہوگیا ہے کہ وہ زندہ اور حیات ہیں، اگرچہ ہم محسوس نہیں کرتے ، لہٰذا ا س پر ایمان وعقیدہ ضروری اور واجب ہے۔

اسی حیات النبی اور حیاتِ انبیاء کے حوالے سے "حیاۃ النبی"  کا مسئلہ اتنا اہم ہے کہ ان کی حیات شہداء اور دوسرے مؤمنین کی حیات کے مقابلہ میں جداگانہ حیثیت رکھتی ہے، چنانچہ بعض احکامِ شرعیہ میں وہ شہداء اور دوسرے مؤمنین سے بھی ممتاز ہیں۔

1:  مثلاً :انبیاء  کی وفات کے بعد ان کی جائیداد میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ان کے اموال وارثوں میں تقسیم نہیں کیے جاتے۔ 

2:  انبیاء علیہم السلام کی وفات کے بعد ازواجِ مطہرات سے کسی ایمان دار کا نکاح درست نہیں، جب کہ شہداء اور بعض دوسرے مؤمنین بھی حیات ہوتے ہیں،مگر شہداء اور دوسرے ایمان داروں کی ازواج سے  عدت  کے بعد دوسرے مسلمانوں کا نکاح درست ہے، ان کے مال میں وراثت بھی جاری ہوتی ہے۔

3:  انبیاء علیہم السلام کے اجسام کو مٹی نہ کھاسکتی ہے ، نہ فناکرسکتی ہے، وہ اجسام ِدنیویہ کے ساتھ قبر میں محفوظ اور زندہ ہوتے ہیں ، یہی تمام علمائے اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ،  اور جماعت علمائے دیوبند کا بھی عقیدہ ہے۔

علمائے دیوبند سے منسوب جن لوگوں کے دلوں میں زیغ اور کجی یا کسی قسم کی کم زوری ہے تو  وہ طرح طرح کے شکوک وشبہات میں مبتلا ہوکر خود بھی گم راہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گم راہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب کہ علمائے اہلِ سنت والجماعت خاص کر علمائے دیوبند کا مسلک اس بارے میں بالکل بے غبار اور منقح ہے، جگہ جگہ اپنی تحریروں میں، تالیفات وتصنیفات میں واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ:

"روضۂ اقدس ﷺ پر جا کر  درود و سلام پڑھنے والے کے درود و سلام کو آپ ﷺ بلاواسطہ سنتے ہیں اور جواب دیتے ہیں، اور دور سے درود و سلام پڑھنے والوں کے درود و سلام کو آپ تک روضۂ شریف میں فرشتے پہنچاتے ہیں۔"

(امداد الفتاویٰ، ص: ۱۱۰، ج: ۵)

اتنی وضا حت کے باوجود بھی اگرکوئی دیوبندی اس سے اختلاف رکھتا ہے اور حیات النبی ﷺ کا منکر ہوتاہے تو یہ اس کی ذاتی رائے اور اس کی سینہ زوری ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام اہل سنت والجماعت کے خواص وعوام کو اس گھمنڈ اور سینہ زوری سے بچائے ، ہم سب کو راہ اعتدال نصیب فرمائے اور صراطِ مستقیم پر قائم رہنے کی توفیق بخشے۔

اس کے مزید تفصیل  اوردلائل کی وضاحت درج ذیل ہے:

                                                                    دنیا کی حیات اور موت کی حقیقت :

تمام انسانوں کو دنیامیں آنے کے بعد  اجل مسمّیٰ پوری کرکے پھر ایک مرتبہ دنیوی زندگی کو خیربادکہہ کر آخرت کی طرف جانا پڑتا ہے،  نقل اور عقل کے مشاہدے سے یہ بات ثابت اور مقرر ہے، انسان کی پیدائش سے لے کر  اجل مسمّیٰ پوری کرنے تک کی زندگی کو  ”حیاتِ دنیوی“  کہاجاتا ہے، اور  یہ حیات اس لیے دی گئی ہے کہ انسان اس میں رہ کر اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے مطابق ایمان وعمل کودرست کرکے آخرت کی کامیابی حاصل کرنے کی فکر کرے،آخرت کی ابدی زندگی کی راحت وآرام کے لیے سعی کرے،  اور آخرت کے ابدی عذاب وسزا سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کرے ؛کیوں  کہ بعض روایت میں ہے کہ : دنیا اور دنیا کی چیزوں کو انسان کے واسطے بنایا گیا مگر انسان کو آخرت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ 

بعض روایات میں یہ بھی ہے:

"الدنیا مزرعة الآخرۃ ".

(المقاصد الحسنة للسخاوي، حرف الدال المھملة، [رقم الحدیث:۴۹۵](ص:۲۵۵) ط: دارالکتب العلمیة بیروت۔۲۰۰۳م-۱۴۲۴ھ۔)

ترجمہ: ’’دنیاآخرت کے واسطے کھیتی کی جگہ  ہے۔‘‘

جو  لوگ  یہاں  سے ایمان وعمل درست کرکے جائیں  گے،  وہ ہمیشہ ہمیشہ کی راحت وآرام اور آخرت کی نعمتوں میں رہیں گے  اور جو لوگ ایمان واعمال کو خراب کریں گے،  وہ ہمیشہ ہمیشہ تکلیف اور سزا بھگتیں گے۔ 

تو انسان جب دنیوی حیات پوری کرکے آخرت کی طرف جانے لگتا ہے تو بیچ کی گھاٹی موت آتی ہے،   موت کے بعد جب قبر کی زندگی شروع ہوتی ہے تو قبر میں سوالات ہوتے ہیں کہ : دنیوی زندگی اللہ و رسول کے احکام کے مطابق گزاری ہے یا اللہ و رسول کے احکام کے خلاف گزاری ہے ؟۔ اس پر ابتدائی سوالات اور پوچھ گچھ ہے:

  پہلاسوال یہ ہوتا ہے کہ:  تمہارا رب کون ہے؟

دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ:  تمہارا دین اور مذہب کیا ہے؟

تیسرا سوال یہ ہے کہ : تمہاری دینی رہنمائی کے لیے جو رسول بھیجاگیا تھا وہ کون ہے؟

انسان اگر ان سوالات کے جوابات میں کامیاب ہوتا ہے تو گویا ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کے تمام مراحل میں کامیابی سے  ہم کنار  ہونے کی امید ہوتی ہے اور راحتوں کی زندگی شروع ہوتی ہے، انسان قبر میں راحتوں کی ان چیزوں کو محسوس کرتا ہے اور جب انسان قبر کے سوالات وجوابات میں ناکام ہوتا ہے اور ان سوالات کے جوابات نہیں دے پاتا ، بلکہ سوال کے جواب میں صاف جواب دیتا ہے کہ : میں تو کچھ نہیں جانتا۔ پھر قبر کی زندگی ہی سے تکلیف والے حالات پیش آنے لگتے ہیں ،  یہیں سے پریشانی کی زندگی شروع ہوتی ہے، ابتدائی عذاب وسزا کا معاملہ شروع ہوتا ہے، انسان ان کو بھی محسوس کرتا ہے۔ نصوص واحادیث میں ان کی تفصیلات موجودہیں۔

حاصل یہ نکلا کہ:  انسان مرنے کے بعد ختم نہیں ہوجاتا، بلکہ ایک زندگی سے دوسری زندگی کی طرف جاتا ہے،   دونوں زندگیوں کے درمیان موت پل کی طرح ہوتی ہے،  مرنے کے بعد قبر میں اس کی روح لوٹادی جاتی ہے،  اگر انسان ایمان دار ہے تو ابتدائی سوالات کے صحیح جوابات دے دیتا ہے اور قبر میں وہ راحت وآرام کی زندگی گزارتا ہے، اور انسان کا حال اگر بُرا ہوتا ہے تو سوالات کے جوابات نہیں دے پاتا، موت میں سختی اور پھر قبر میں سختی ہوتی ہے۔

حدیثِ  مبارك میں ہے:

"القبر حُفْرَۃٌ من حفرالنار، أوروضة من ریاض الجنّة".

( شرح الصدور بشرح حال الموتیٰ والقبور للسیوطي، باب فظاعة القبر وسھولته وسعته علی المؤمن،(ص:۱۵۳) ط: دارالکتب العلمیۃ،بیروت)

 دنیا کی زندگی ایمان وعمل کی زندگی ہوتی ہے ،  قبر کی زندگی،  قیامتِ کبریٰ( حساب وکتاب )تک کے زمانہ کی ہوتی ہے، اس کو  ”عالمِ برزخ“  کی زندگی کہاجاتاہے،یہ اخروی زندگی کا ابتدائی حصّہ ہے،   اس ”عالمِ برزخ“  میں انسان اور اس کی روح (جوکہ أعلىٰ علّیّین یا أسفل السافلین میں ہوتی ہے) سے تعلق وربط ہوتا ہے،  آدمی نیک ہو تو جنت کی خوش بو ، ہوا  اورنعمتوں سے متمتع ہوتا ہے اور اگر  بد ہوتا ہے تو جہنم کی بدبو ،  گرم ہوا اور دوسری تکالیف سے متاثر اور رنجیدہ ہوتا ہے۔ اور یہ سب کچھ روح اور جسم دونوں پر ہوتاہے۔

رہا یہ کہ دنیا کے انسانوں کو اس کا احساس نہیں ہوتا ،اس کا پتا نہیں چلتا تو یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان ”عالمِ دنیا“  میں ہوتے ہوئے  ”عالمِ آخرت“  کے امور کو محسوس کرے،  اللہ تعالیٰ نے شہداء کے بارے میں فرمایا:

"وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ".  [البقرۃ:۱۵۴]

ترجمہ:   ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں،  ان کو تم مردار مت کہو،  بلکہ وہ زندہ ہیں،  البتہ زندگی کا شعور تمہیں نہیں ہے۔‘‘

تم کو ان کی حیات کا احساس نہیں ہوتا اور عدمِ  احساس یہ عدمِ  حیات کی دلیل نہیں ہے ، جب کہ رب العالمین نے اعلان فرمادیا ہے کہ  وہ زندہ ہیں،  تمہیں اس کا شعور نہیں ہے؛  لہٰذا  ہر ایمان دار کو اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے، اس کے خلاف عقیدہ رکھنا کفر اور گم راہی ہے۔ جب تقریرِ  مذکور سے واضح ہوا کہ دنیوی حیات،  عارضی حیات اور فانی ہے،  اس کے بعد ہر انسان کو موت آنی ہے ، سفر آخرت میں جانا ہے۔

" كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ".  [العنکبوت:۵۷]

ترجمہ: ’’ہر جان دار، مو ت کا ذائقہ چکھنے والا ہے۔‘‘

موت، عالم دنیا اور عالم آخرت کے درمیان پل کی طرح ہے،  اس سے انسان ختم نہیں ہوتا، فنا نہیں ہوتا، بلکہ ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف منتقل ہوجاتا ہے،  اس سے موت کی حقیقت بھی معلوم ہوگئی اور” عالمِ برزخ“  کا مفہوم بھی معلوم ہوگیا،   دوسرے عالم( عالمِ آخرت) کے دوحصّے ہیں:  پہلا حصّہ جو کہ  عالم برزخ اور قبر  کی زندگی ہے،انسانی روح وہاں لوٹادی جاتی ہے تاکہ سوالات وجوابات ہوں،  پھر أعلىٰ علّیّین یا أسفل السافلین میں اسے رکھ دیا جاتا ہے،  مگر جسم کے ساتھ روح کا تعلق وربط بدستور رہتا ہے، ارواح کے ساتھ اچھا اور برا جو کچھ ہوتا ہے،  اجسام بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں،  اگرچہ دنیا کے انسان کو اس کی خبر اور شعور نہیں ہوتا۔

  احادیث میں قبر کے اندر انبیاء علیہم السلام کا نماز پڑھنا اور بہت سے صحابۂ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین)کا تلاوت کرنا اور بہت سے انسانوں پر سانپ کا مسلط کر دیا جانا ، عذاب اور سزا کا معاملہ چلنا ثابت ہے۔اور یہ برزخی حیات کی زندگی تمام انسانوں کے لیے مقرر اور متعین ہے۔ 

یہاں پر ایک دوسری چیز کا جاننا بھی ضروری ہے وہ یہ کہ :  ”عالمِ دنیا“  میں جیسا کہ سارے انسان ایک ہی درجہ کے نہیں ہوتے، بلکہ ان کے درجات اور مراتب متفاوت ہوتے ہیں،  ان میں نیک ہوتے ہیں اور نیکیوں میں بھی سب برابر نہیں ہوتے، بلکہ الگ الگ درجات اور مراتب کے ہوتے ہیں،   بعینہٖ اسی طرح ”عالمِ برزخ “اور ”عالمِ آخرت“  کی زندگی جو کہ دائمی اور ہمیشہ کی زندگی ہے ، اس میں بھی انسان الگ الگ درجات اور مراتب کے ہوتے ہیں۔ 

کچھ انسان تو اعلیٰ ترین ذات وصفات کے مالک ہوتے ہیں،  جیسے:  انبیاء علیہم السلام ، پھر صدیقین وشہداء کے درجات ہوتے ہیں،  پھر صالحین اور عام مؤمنین کے درجے ہوتے ہیں،   تو جو انسان اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذات وصفات کے لحاظ سے اعلیٰ ترین انسان ہوتے ہیں، ان کو بھی موت آتی ہے۔

جیسا کہ قرآن مجید میں آپ ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا گیا ہے:

"إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ" [الزمر:۳۰]

ترجمہ: ’’آپ نے بھی مرنا ہے اور دوسروں نے بھی ۔‘‘ 

لیکن انبیاء علیہم السلام کی موت دوسرے انسانوں کی موت کی طرح نہیں، انبیاء علیہم السلام بھی عالمِ برزخ اور قبر میں رہتے ہیں، لیکن دوسرے اور تیسرے اور چوتھے درجے  کے انسانوں کی طرح نہیں ہیں۔ ان کا بھی حشر ہوگا، لیکن دوسرے انسانوں کی طرح نہیں،ان کا بھی حساب وکتاب ہوگا ،مگر دوسرے انسانوں کی طرح نہیں، اس فرقِ مراتب کو سمجھنا بہت ضروری ہے، اسی وجہ سے کہاگیا ہے:

”گر فراق مراتب نہ کنی زندیقی“

حدیثِ  مبارک  میں ہے:

 "أنزلواالناس منازلھم".

(سنن أبي داوٗد،کتاب الأدب،باب في تنزیل الناس منازلھم،(2/665)ط:میرمحمدکتب خانه کراچی)

ترجمہ: ’’ہرانسان کو اپنے اپنے مقام پر رکھو۔‘‘

لہٰذاانبیاء علیہم السلام کو انبیاءِ کرام   کی جگہ پر ،صدیقین و شہداء کو ان کے مقام پر، عام صالحین اور مؤمنین کو ان کی جگہ پر رکھیں،  جب یہ بات معلوم ہوگئی تو تیسری بات یہ بھی جان لو کہ: 

انبیاء علیہم السلام جو کہ اعلیٰ ترین انسان ہیں،ان کے اوپر انسانوں کا اور کوئی درجہ نہیں ہے ،  تو ان کی حیاتِ برزخی اور عالمِ آخرت کی حیات بھی اعلیٰ ترین حیات ہوگی،  عام انسانوں کو انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام  کی اَرفعیت اور بلندی کا اندازہ نہیں ہوسکتا ؛کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو اَرفع واَعلیٰ انسان بنایا ہے، وہی ان کے  مراتب کو  جانتا ہے،  یہی  حال ان کی حیاتِ برزخیہ کا ہے، وہ بیک وقت عالمِ بالا میں مشاہدۂ حق جل تعالیٰ سے بھی متمتع ہوتے ہیں اور عالمِ سفلی میں زمینی مخلوق سے بھی ان کا ارتباط ہوتا ہے،  پھر ان انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام میں سید الانبیاء وخاتم النبیینﷺ کی بلندی درجات اور شانِ رفعت کا کیا ٹھکانہ  ہوسکتا ہے،  وہ اللہ ہی جانتا ہے، عام انسان اس کاتصور بھی نہیں کرسکتا۔عام انسان اس ذات ستودۂ صفات کے نہ کمالات کو احاطہ کرسکتا ہے ، نہ اس کے مقامات عالیہ کا ادراک کرسکتا ہے،  نہ کسی کو اس کی پوری محامد اور تعریف کی قدرت ہے تو ایسی ذات باصفات کی حیاتِ  برزخیہ کا پورا اندازہ کون کرسکتا ہے، اسی واسطے حضرت مظہرجان جاناں رحمۃ اللہ علیہ نے خوب کہا ہے:

" مناجاتے اگر بامید بیان کرد بہ بیتے ہم قناعت می تواں کرد           : :        محمداز تومی خواہم خدارا   خدایا از تو حب مصطفی را" 

مگر نفسِ  انسانی کی حیات بعدالممات اور تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی حیاتِ طیبہ بعدازوفات کے عقیدہ کا ثبوت نصوص وروایات سے ملنے کے ساتھ ساتھ درایت سے بھی ثابت ہے ؛کیوں کہ ہر ذی عقل وذی فہم بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ جس شخص نے بھی آپ کی زندگی میں کلمہ پڑھا یا بعد میں پڑھا اور  قیامت تک کلمہ پڑھے گا ،ان سے میں ہر شخص آپ کی زندگی میں آپ کو جس طرح رسول سمجھتا ہے،  اسی طرح  آپ کی وفات کی بعد بھی آپ  ﷺ  کے رسول ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے اور رسول جسم وروح دونوں  چیزوں کا نام ہے، جیسے دنیا میں وہ جسم مع الروح رسول تھے، وفات کے بعد بھی  عالمِ برزخ  میں ” جسم مع الروح“  رسول ہیں، رسول یا رسول کا کوئی حصّہ فنا نہیں ہوسکتا اور یہی حال تمام انبیاء علیہم السلام کا ہے، سب رسول اپنے اجسامِ عنصریہ اور ارواح کے ساتھ قبر میں زندہ ہیں۔ سب پر ایمان لاناتمام مسلمانوں پر لازم اور ضروری ہے۔

نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام اور دوسرے رسولوں میں فرق یہ ہے کہ دوسرے انبیاء اور رسُل علیہم الصلوٰۃ والسلام کی شرائع ہمارے رسول ﷺ کے بعد منسوخ ہوگئی ہیں، لیکن رسول اور انبیاء حضرات اپنے منصبِ رسالت ونبوت پرپھر بھی فائز ہیں، اس لیے قیامت تک آنے والے انسانوں پر تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا ضروری ہے ، وہ اپنی دنیوی زندگی میں رسول اور نبی تھے، دنیا سے جانے کے بعد بھی عالمِ برزخ میں رسول ونبی ہیں، ان پر ایمان لانا ضروری ہے۔ جس سے حیات الانبیاء کا عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔

                                                                                                                         حیات النبی ﷺ کتاب اللہ اور سنت رسول کی روشنی میں :

واضح رہے کہ وفات  کے بعد ، عالمِ برزخ میں حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم ودیگر انبیاء علیہم السلام کی حیات کا ثبوت ”ادلّۂ اربعہ“  سے ملتا ہے، یہاں بطورِ نمونہ چندنصوصِ قرآنی اوراحادیثِ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم پیش خدمت ہیں:

1:   اللہ تعالیٰ کا قول:

"وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمٰنِ آلِهَةً يُّعْبَدُونَ"۔ [الزخرف:45]

آیت مذکورہ کی تفسیر میں مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ:  اس آیت سے حیاتِ انبیاء علیہم السلام ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:       

    " یستدلّ بھٰذہ الاٰیة علی حیاۃ الأنبیاء…" الخ

(مشکالات القرآن، ص: ۲۳۴، الدر المنثور، ج: ۶، ص: ۱۶، روح المعانی، ج: ۲۵، ص: ۸، مجموعۃ رسائل الکشمیري،مشکلات القرآن للإمام الشیخ أنورشاہ الکشمیري،  [الزخرف:۴۵](۴/۳۷۷)ط:إداراۃ القرآن والعلوم الإسلامیۃکراچی۔۱۴۱۶ھ-۱۹۹۶م)

2: 

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَلَا تَكُن فِي مِرْيَةٍ مِّن لِّقَائِهِ.. الآية ۔ [الٓم السجدۃ:23]

اس آیت کی تفسیرمیں شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ : "معراج کی رات میں ان سے ملے تھے اور بھی کئی بار،  آپ ﷺ اس وقت حیات تھے ، آپ کی ملاقات جسدِ عنصریہ سے ہوئی، حضرت موسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے تھے، آپ سے ملاقات جو ہوئی  وہ بھی جسدِ عنصری کے ساتھ ہوئی، اس لیے" مِنْ لِّقَآئِه" فرمایا  "من لقاء روحه"  نہیں فرمایا تو ملاقات  ”صراحت النص “سے ثابت ہے اور حیاۃ الانبیاء ”اقتضاء النص“  سے ثابت ہے۔  اصو ل میں دونوں کو حجت ماناگیا ہے۔"

3:  شہداء کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ"۔  [ البقرۃ]

4:  دوسری جگہ فرماتے ہیں:

"وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ"۔ [آل عمران]

یہ دونوں آیات حیاتِ  شہداء کے بارے میں نازل ہوئیں۔ شہداء کے بارے میں جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ مردار ہوگئے ،قرآن میں اللہ تعالیٰ نے سختی کے ساتھ ان کی تردید فرمائی کہ:

”جو لوگ اللہ کے راستہ میں شہید ہوگئے ہیں، تم لوگ انہیں نہ مردہ سمجھو،نہ مردہ کہو ؛ کیوں کہ یہ لوگ زندہ ہیں“۔

5:   حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ ان آیات کے بارے میں لکھتے ہیں:

"وإذاثبت أنّھم أحیاء من حیث النقل، فإنّه یقوّیه من حیث النظر کون الشھداء بنصّ القرآن، والأنبیاء أفضل من الشھداء".

(فتح الباري للحافظ ابن حجر العسقلاني، کتاب الأنبیاء،باب قول اﷲ تعالیٰ: { وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ…}(6/488)ط:رئاسة إدارات البحوث العلمیة…بالسعودیة)

یعنی جب شہداء کے بارے میں ازروئے نص اور نقل حیات ثابت ہے کہ وہ زندہ ہیں تو انبیاء علیہم السلام تو شہداء سے افضل ہیں، ان کے درجات اعلیٰ وارفع ہیں تو صراحۃ النص سے حیاتِ شہداء ثابت ہوئی اور دلالۃ النص سے حیاتِ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ثابت ہوئی ہے کہ وہ بھی زندہ ہیں؛ کیوں کہ شہیدوں کی شہادت انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی وجہ سے ہے اور ان کا درجہ انبیاء علیہم السلام سے دودرجہ بعد کا ہے، ان کی حیات جب صراحتِ قرآن سے ثابت ہے تو انبیاء کی حیات دلالت اور اقتصاء النص سے ثابت ہے۔

5:   حق تعالیٰ قرآن مجید کے اندر فرماتے ہیں:

{ اِنَّ اﷲَ وَمَلَآئکَتَه یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ ط  یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْه وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً } [الاحزاب:56]

ترجمہ: ’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے اپنے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر(ان کی دنیوی زندگی میں اور برزخ کی زندگی میں ہرحال میں ان پر) درود بھیجاکرو، سلام بھیجاکرو۔‘‘

اللہ تعالیٰ بذاتِ خود حیّ وقیوم ہے اور اپنے حبیب محمد ﷺ پر درود بھیج رہا ہے،اپنے نبی کی طرف رحمتوں کے ساتھ متوجہ ہے،  کیا حبیب اور نبی کے لیے یہ شان مناسب ہے کہ وہ بے جان مردہ پڑا رہے اور اپنے آقا سے لاتعلق اور بے حس پڑا رہے ، ہرگز نہیں ہوسکتا،  بلکہ آپ کی اخروی اور برزخی حیات تو عالَمِ علوی کے لحاظ سے دنیوی حیات سے بھی اقویٰ ترین حیات ہے، آپ کا مشاہدۂ باری اور آپ کا ربط وتعلق حق تعالیٰ سے ”عالم ِبرزخ“ میں تو ”عالَمِ دنیا“ سے کہیں زیادہ ہے۔

نیز خالق کائنات تو ازروئے اکرام اپنے نبی پر درود بھیجے، فرشتوں کے ذریعہ اکرام کرتے ہوئے درودوسلام بھیجے ،اور وہ تمام انسانوں کو اکرام کا حکم دیں کہ اپنے نبی وحبیب ﷺ کا اکرام درودوسلام کے ساتھ کریں، ہمیشہ کریں ،”عالَم ِدنیا“ میں کریں اور”عالَم ِبرزخ“  میں جانے کے بعدکریں،   درود و سلام بھیجا کریں،  یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس کا اکرام کیا جارہا ہے اس کو پتا نہ ہو، وہ اس سے بے خبر ہو، اسی واسطے تو آپ ﷺ نے اپنی دنیوی حیات میں ہوتے ہوئے ان سب سوالوں کے جوابات دے دیے تھے اور فرمادیا تھاکہ قریب سے درود پڑھنے والوں کے ”درودوسلام“  کو آپ بلاواسطہ سنتے اور جواب دیتے ہیں اور دور سے ”درودوسلام“  بھیجنے والوں کے ”درودوسلام“  کو بذریعۂ فرشتے آپ کو پہنچایاجاتاہے، تو آیتِ صلوٰۃ  و سلام سے بھی حیات النبی ﷺ کا ثبوت ”دلالۃ النص“ اور ”اقتضاء النص“ سے ملتا ہے۔

حیاۃ النبی ﷺ بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کی حیات کا ثبوت احادیث رسول ﷺ کی روشنی میں

1: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:  

"الأنبیاء أحیاء في قبورهم یصلّون".  

(شفاء السقام في زیارۃ خیرالأنام للسبکي، الباب التاسع في حیاۃ الأنبیاء علیہم الصلاۃ والسلام ،الفصل الثالث في سائرالموتٰی…، (ص:۱۸۰) ط:مطبعة مجلس دائرۃ المعارف العثمانیة حیدرآباد دکن)

ترجمہ: ”انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور وہ نماز پڑھتے ہیں“۔ 

(وکذا فی فتح الباري لابن حجرالعسقلاني، کتاب أحادیث الأنبیاء، باب قول ﷲ تعالی: { وَاذْکُرْفِی الْکِتٰبِ مَرْیَمَ…}(6/487) ط: رئاسة إداراة البحوث العلمیة والإفتاء … بالسعودیة)

(وکذا فتح الملھم للشیخ العثماني، کتاب الإیمان، باب الإسراء برسول اﷲ، وفرض الصلاۃ…، (۱/۳۲۹) ط:مدینة پریس بجنور)

مجمع الزوائد میں ہے:

"رجاله الثقات." (ص: ۱۸۸، ج: ۸)

ملاعلی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 

  "وصحّ خبر الأنبیاء أحیاء في قبورهم". (مرقاۃ، ص: ۲۱۲، ج: ۲)

فیض القدیر میں ہے:

"و هذاحدیث صحیح." (ص: ۱۸۴، ج: ۳)

مدارج ا لنبوۃ میں ہے:

"ورجال حدیث أنس في مسند أبي یعلٰی ثقاتٌ". (ص: ۴۴۷، ج: ۲)

علامہ شوکانی نے لکھا ہے:

"وقد ثبت في الحدیث: أنّ الأنبیاء أحیاء في قبورھم. رواہ المنذري وصَحَّحَه البیهقي". (ص: ۲۱۴، ج: ۳)

2: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: 

"قاَلَ عَلَیْه الصلاۃُ وَالسَّلَامُ: مَامِنْ أَحَدٍ یُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اﷲُ عَلَيَّ رُوْحِيْ حَتّٰی أَرُدَّ عَلَیْه السَّلَامَ". 

( سنن أبي داوٗد، کتاب المناسک ،باب زیارۃ القبور،(۱/۲۷۹) ط:میر محمد کتب خانہ کراچی)

(المسند للإمام أحمدبن حنبل،مسند أبي ھریرۃ رضي اﷲ عنہ،[رقم الحدیث:۱۰۷۵۹]  (۹/۵۷۵) ط:دارالحدیث القاھرۃ، ۱۴۱۶ھ-۱۹۹۵م)

ترجمہ:   ’’کوئی شخص ایسا نہیں جو مجھ پر سلام پڑھتا ہو،  مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ میری روح کو مجھ پر لوٹادیتا ہے،  یہاں تک کہ میں اس کا جواب دیتا ہوں۔‘‘ 

یعنی ہر ”صلوٰۃ وسلام“  پڑھنے والا جو قبر شریف پر آکر ”صلوٰۃ وسلام “ پڑھتا ہے،  اس کا جواب دینے کے لیے اللہ تعالیٰ آپ کی روح کا ”ملأِ اعلیٰ“ سے جسدِ اطہر کے ساتھ اس طرح اتصال کردیتے ہیں کہ سب کے ”صلوٰۃ وسلام“ کا جواب دیا جاسکے،  ظاہر ہے دن ورات لاکھوں فرشتے ،انسان اورجن آپ کی قبر شریف پر ”صلوٰۃ وسلام“ پڑھنے والے ہوتے ہیں اور آپ ﷺ سب کے جوابات دیتے ہیں۔ یہ اتصال الروح مع الجسدکے بدون ممکن نہیں۔

حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے فرمایا كه :  یہ روایت صحیح ہے:

  "ورُوَاتُه ثِقَاتٌ". (فتح الباری: ۶/ ۲۷۹)

حافظ ابن کثیررحمہ اللہ فرماتے ہیں: 

  "وصحّحه النووي في الأذکار". (تفسیر ابن کثیر: ۳/ ۵۱۴)

حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لکھا ہے :

"هو حدیث جیّدٌ". (فتاوی ابن تیمیہ: ۴/ ۳۰۶)

محدث العصر علامہ محمدانورشاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"رُوَاتُه ثِقَاتٌ". (عقیدۃ الاسلام، ص: ۵۲)

علامہ شبیر احمدعثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

"ورُوَاتُه ثِقَاتٌ". (فتح الملھم: ۱/ ۳۳)

تو حدیث صحیح سے ثابت ہوا کہ نبی کریم ﷺ قبر شریف میں جسدِ اطہر کے ساتھ زندہ ہیں اور ہر” صلوٰۃ وسلام“  پڑھنے والے کے ”صلاۃ وسلام“  کا جواب دیتے ہیں ، البتہ جو دور سے ”صلاۃ وسلام“  بھیجتے ہیں،  فرشتے کے ذریعے ان کے ”صلاۃ وسلام“ کو آپ تک پہنچادیاجاتا ہے اور آپ جواب دیتے ہیں۔جیسا کہ آگے احادیث میں تفصیل آرہی ہے۔

3: حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

"إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَیَّامِکُمْ یَوْمَ الْجُمْعَة، فَیْهِ خُلِقَ اٰدَمُ، وَفِیْهِ قُبِضَ، وَفِیْهِ النَّفْخَةُ، وَفِیْهِ الصّٰعِقَةُ، فَأَکْثِرُوْا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاۃِ فِیْه، فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ مَعْرُوْضَة عَلَيَّ، قَالَ: قَالُوْا: یَارَسُول ﷲِ! وَکَیْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَیْك وَقَدْ اَرِمْتَ؟ قَالَ: یَقُوْلُوْنَ: بَلَیْتَ، فَقَالَ: إِنَّ اﷲَ لحَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِیَاءِ".

(سنن أبي داوٗد،کتاب الصلاۃ،باب تفریع أبواب الجمعة،(۱/۱۵۰) ط:میر محمد کراچی۔  سنن النسائي،کتاب الجمعة، إکثار الصلاۃعلی النبيّ، (۱/۲۰۳- ۲۰۴) ط:قدیمی کراچی)

ترجمہ:  ’’بے شک تمہارے افضل ترین ایام میں سے  ”یومِ جمعہ“ ہے،  اس میں حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو پیدا کیا گیا،  اسی روز ان کی وفات ہوئی، اسی روز ”نفخہ اولیٰ“ ہوگا اور اسی روز میں ”نفخہ ثانیہ“ ہوگا،  اس جمعہ کے روز تم لوگ کثرت کے ساتھ مجھ پر درود بھیجاکرو؛  کیوں  کہ تمہارا درودوسلام مجھ پر پیش کیا جاتا ہے،  راوی کہتے ہیں کہ :  صحابۂ کرام نے سوال کیا : یا رسول اللہ  ! بعد ِوفات دیگر اموات کی طرح آپ بھی تو ریزہ ریزہ ہوجائیں گے، پھر ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ پس آپ نے فرمایا:  اللہ نے زمین پر حضراتِ انبیاء علیہم السلام کے اجسام کو حرام کردیا ہے، زمین ان کو کھا نہیں سکتی، فنا نہیں کرسکتی۔‘‘

دیکھیے حدیث میں صرف ”حیات النبی الامّی“  کا ذکر نہیں، بلکہ آپ نے تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی حیات اور زندہ ہونے کا ذکر فرمادیا ،  اور ساتھ ساتھ اس سوال کا جواب بھی دے دیا کہ عالَم ِدنیا کے مشاہدے میں جو چیز آتی ہے کہ میت قبر میں مرورِ زمانے کی وجہ سے ریزہ ریزہ اور بوسیدہ ہوجاتی ہے، کسی سوال وجواب کے قابل نہیں رہتی، تو صلاۃ وسلام کا جواب آپ کیسے دیں گے؟ تو نبی پاک ﷺ نے تمام انبیاء علیہم السلام کے بارے میں اصول اور ضابطہ بتادیا کہ مٹی انبیاء علیہم السلام کے اجسامِ مبارک کو کھا نہیں سکتی،  لہٰذا جب تمام انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کا یہی حال ہے کہ سب کے سب انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اپنے اجسادِ عنصریہ کے ساتھ  حیات ہیں اور آپ  ﷺ  تو سید الانبیاء ہیں تو آپ کی حیات تو بطریقِ اولیٰ ثابت ہوگی تو درود و سلام کے جواب دینے  میں کچھ اشکال باقی نہ رہا،یہ حدیث بھی صحیح ہے۔ 

اس کے بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا:

"صحّحه ابن خزیمة وغیرہ".  (فتح الباری: ۲۷۹، پارہ: ۶/ ۲۰)

حافظ بدرالدین عینی رحمہ اللہ نے فرمایا:

" صَحَّ عنها أنّ الأرض لاتأکل أجساد الأنبیاء". (عمدۃ القاری: ۶/ ۶۹)

شیخ محدث عبدالحق دہلو ی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"حدیث صحیح".  (مدارج النبوۃ: ۲/ ۹۲)

علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا:

" فھو علی شرط الصحیحین".  (مستدرک حاکم: ۵۶۰)

محدث العصر علامہ محمدانورشاہ کشمیری رحمہ اللہ نے فرمایا:

"فإنّه صحّ عنها أنّه قال: إنّ ﷲ لحرّم علی الأرض أجساد الأنبیاء".  (خزائن الاسرار: ۱۹)

جب صحیح حدیث سے ثابت ہوگیاہے کہ اجسام ِانبیاء علیہم الصلوٰۃوالسلام زمین پر حرام کردیے گئے ہیں،  انہیں مٹی نہیں کھاسکتی، اس کے باوجود منکرینِ  حیاتُ النبی ﷺ کا یہ کہنا ہے کہ قبر شریف میں - نعوذ بالله -  آپ ﷺ دیگر مردوں کی طرح مردہ ہیں، درودوسلام کو نہ سنتے ہیں ، نہ جواب دیتے ہیں،  بڑی جرأت کی بات ہے، ہمارے نزدیک یہ باتیں ایمان اور ایمانی تقاضے کے خلاف ہیں۔

4: حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:

" فَنَبِيُّ ﷲِ حَيٌّ یُرْزَقُ".

(سنن ابن ماجة، أبواب ماجاء في الجنائز، باب ذکر وفاته ودفنها (ص:۱۱۸)ط:قدیمی کراچی)

ترجمہ: ’’پس اللہ کے نبی زندہ ہیں،  ان کو رزق دیا جاتا ہے۔‘‘

علامہ مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"رجاله ثِقَاتٌ". (فیض القدیر: ۲/۸۷)

علامہ زرقانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

"ورویٰ ابْنُ مَاجَه بِرِجَالٍ ثِقَاتٍ". (زرقانی شرح مواہب: ۵/ ۲۳۶)

حافظ ابن حجررحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"قلت: رجاله ثِقَاتٌ". (تہذیب التھذیب: ۳/ ۳۹۸)

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی ہیں،  آپ روایت فرماتے ہیں کہ:  اللہ کے نبی زندہ ہیں اور ان کو اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے،  دونوں لفظ قابلِ غور ہیں،  نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام  بعدِ  وفات عام مُردوں کی طرح نہیں ہیں،  بلکہ جس طرح شہداء کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کے راستے میں شہید ہوگئے ہیں، ان کو تم لوگ مردہ نہ کہو ، نہ مردہ سمجھو؛ کیوں  کہ یہ لوگ زندہ ہیں، ان کو جنت میں رزق دیا جاتا  ہے، اسی طرح انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بھی زندہ ہوتے ہیں،ان سب کو رزق ملتا ہے، یہ بات آپ نے اپنی طرف سے نہیں کہی،  بلکہ یہ سماعی چیزیں ہوتی ہیں،سب نے نبی علیہ السلام سے سن کر فرمایا ہے،  يه حدیث صحیح ہے،  معنی ومفہوم بالکل واضح ہے،  جس میں کسی قسم کی تاویل کی نہ ضرورت ہے ، نہ اس کی گنجائش ہے۔

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث یوم جمعہ کوکثرت درود کی فضیلت کے بارے میں ہے، جس میں جمعہ کی فضیلت،  نبی علیہ السلام کے مقام ِمحبوبیت  اور بعدِ  وفات آپ کی حیات کا ذکر موجود ہے، اور یہ کہ دنیوی حیات اور برزخی حیات برابر نہیں، بلکہ برزخی حیات دنیا کی حیات سے قوی تر ہے۔ 

5:  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

"إنّ لله ملائکة في الأرض سیّاحین یبلغونني من أمّتي السلام".

(سنن النسائي،کتاب السھو،باب التسلیم علی النبيّ،(۱/۱۸۹)ط:قدیمی کراچی۔المسند للإمام أحمد بن حنبل،مع التعلیق لأحمد محمدشاکر،مسند عبداﷲ بن مسعود، [رقم الحدیث:۳۶۶۶](۳/۵۳۶) ط: دارالحدیث القاھرۃ،۱۴۱۶ھ-۱۹۹۵م)

ترجمہ: ’’نبی علیہ السلام نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ ایسے فرشتے مقرر ہیں،  جو زمین میں گھومتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔‘‘

علامہ محدث ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"رواہ البزّار ورجاله رجال الصحیح". (مجمع الزوائد: ۲/ ۲۴)

امام سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"رواہ أحمد والنسائي والدارمي وأبونعیم والبیہقي والخلعي وابن حبّان والحاکم في صحیحیھما، وقالا:صحیح الإسناد".   (القول البدیع: ۱۱۵)

فتاوی میں حضرت عبدالعزیزدہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’وبتواتررسیدہ این معنی۔‘‘ (ص: ۶۹، ج: ۲)

ترجمہ : ’’معنی کے لحاظ سے یہ حدیث ، حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہے۔‘‘

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  قدماءِ صحابہ میں سے ہیں،  فقیہ ومحدث ہیں  اور ان صحابہ میں سے ہیں جو نبی کریم ﷺ کی زندگی میں فتویٰ دینے کے مجاز تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فتویٰ اور مسائل پوچھنے کو فرمایا تھا، آپ معتمد ترین صحابہ میں سے ہیں ،  آپ کی روایت میں ہے کہ روئے زمین میں کچھ فرشتے گشت لگاتے ہیں،  جو کہ نبی کریم ﷺ پر درودپڑھنے والوں کے درودوسلام کو آپ تک پہنچاتے ہیں۔

حدیث میں صاف لفظوں میں کہاگیا ہے کہ فرشتے آپ ﷺ تک درودوسلام پہنچاتے ہیں، یہ نہیں ہے کہ روح کو پہنچاتے ہیں ،  جس سے ظاہر ہوا کہ آپ ﷺ مع جسدِ عنصری قبرشریف میں حیات اور زندہ ہیں،  بالفرض آپ  (نعوذ باﷲ)  مردہ اور آپ کا جسم مبارک ریزہ ریزہ ہوجاتا تو درودوسلام کیسے پہنچایاجاتا؟ اس قسم کی بات کرنے والوں کو ذرا عقل سے بھی کام لینا چاہیے،  جب کہ نقل اور حدیث میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ آپ تک سلام پہنچایاجاتا ہے اور آپ اس کا جواب دیتے ہیں۔

دیکھیے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ درود کی روایت کو بیان فرماتے ہیں:

6:  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ دوسری حدیث میں فرماتے ہیں:

"قَالَ عَلَیْه الصَّلاۃُ وَالسَّلاَمُ: مَنْ صلّٰی عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِيْ سَمِعْتُه، وَمَنْ صَلّٰی عَلَيَّ مِنْ بَعِیْدٍ أُعْلِمْتُه".

(جلاء الأفھام في الصلاۃ والسلام علی خیرالأنام للحافظ ابن قیّم الجوزیّة، باب ماجاء في الصلاۃ علی رسول ﷲ،(ص:۱۹) ط: دارالطباعة المحمدیة بالأزھر بالقاھرۃ)

ترجمہ:  ’’رسول الله ﷺ نے فرمایا: جس نے بھی میری قبر پر درود پڑھا تو میں اسے خود سنتا ہوں اور جس نے مجھ پر دور سے درودوسلام پڑھا توبواسطہ فرشتہ مجھے بتلادیاجاتاہے۔‘‘

حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:

"بسند جیّد".  (فتح الباری: ۶/ ۳۵۲)

امام سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"وسندہ جیّد".  (القول البدیع، ص: ۱۱۶)

شارح مشکوٰۃ ملاعلی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"بسند جیّد". (مرقات: ۲/ ۱۰)

علامہ شبیر احمدعثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"وسندہ جیّد".  (فتح الملھم: ۱/ ۲۳۰)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مکثرین في الحدیث میں سے ہیں،  سب سے زیادہ حدیث آپ ﷺ کی ، آپ ہی کے ذریعہ مروی ہیں،  شب وروز ،سفر وحضر میں نبی پاک ﷺ کے ساتھ رہنے والے اور آپ کے اَنفاسِ قدسیہ،  کلماتِ طیبہ کو یاد کرنے والے  اور لکھنے والے تھے،   روایت مذکور بھی انہیں کی مرویات میں سے ہے اور روایت صحیح ہے،  آپ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ:  قریب سے درودوسلام پڑھنے والے کے درود و سلام کو آپ بنفسِ نفیس سنتے اور جواب دیتے ہیں اور دور سے درودوسلام پڑھنے والوں کے درودوسلام کو آپ تک بذریعہ فرشتے پہنچایا جاتا ہے تو اس کا مطلب صاف ظاہر ہے کہ قبر شریف میں آپ زندہ ہیں ؛کیوں  کہ زندگی کے بغیر سننا اور جواب دینا محال ہے، توثابت ہوا کہ آپ قبر شریف کے اندر زندہ ہیں، روح مبارک کا تعلق جسدِ اطہر سے بدستور قائم ہے۔ 

اس سے قبل مذکورہ دوسری حدیث سے معلوم ہوا کہ اجسادِ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام مٹی پر حرام ہیں،تو آپ اور تمام انبیاء علیہم السلام اپنے اجسادِ عنصریہ کے ساتھ زندہ ہیں، درودوسلام کا جواب دیتے ہیں، ان کو مردہ سمجھنا نصوص و روایات کے خلاف عقیدہ ہے۔

7:  واقعۂ معراج کو نقل کرنے والے بہت سے صحابۂ کرام فرماتے ہیں کہ:  نبی کریم ﷺ کی وہاں پر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام خاص کر حضرت آدم علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسٰی علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت عیسٰی علیہ السلام،حضرت یحییٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، ظاہر ہے کہ یہ ملاقات آپ کی جسمانی تھی،  یہ حضرات سب عالمِ برزخ میں تھے، نبی کریم ﷺ عالم ِدنیا میں۔

8: نیز ایک حدیث میں ہے کہ:  حضرت موسٰی علیہ الصلوٰۃ  والسلام کے روضۂ  شریف سے آپ کا گزر ہوا تو آپ ﷺ نے ان کو قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے،  جس بنا  پر علامہ محمدانورشاہ کشمیری رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’یہ حدیثیں دلیل ہیں کہ:  انبیاء علیہم السلام قبر شریف میں زندہ ہیں۔‘‘

" و هذا علی إثبات حیاۃ الأنبیاء في القبور علی شاکلة حدیث … و قدجآء عند مسلم أیضاً في صلاۃ موسٰی : مررت بموسٰی لیلة أسري بي عند الکثیب الأحمر، و هو قائم یصلّي في قبرہ."

(عقیدۃ الإسلام للعلامة الکشمیري، إنّ الأنبیاء أحیاء في قبورھم یصلّون، (ص:۳۵) ط: حاشر پبلشنگ کمپنی کراچی)

9: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک تیسری حدیث روایت کرتے ہیں:

"قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰه یَقُوْلُ : لَا تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قُبُوْرا وَّلَّا تَجْعَلُوْا قَبَرِيْ عِیْداً، وَصَلُّوْا عَلَيَّ، فَإِنَّ صَلَاتَکُمْ تُبَلَّغُنِيْ حَیْثُ کُنْتُمْ". 

( مشکاۃ المصابیح،کتاب الصلاۃ،باب الصلاۃ علی النبيّاوفضلھا،الفصل الثاني،(ص:۸۶) ط:قدیمی کتب خانہ کراچی)

ترجمہ: ’’ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:  نبی علیہ الصلوٰۃ  والسلام سے فرماتے ہوئے میں نے سنا کہ: ” تم لوگ اپنے گھروں کو قبر کی طرح خاموش گھر نہ بناؤ، بلکہ اس میں نماز، تلاوت وغیرہ کیا کرو ، اور یہ کہ میری قبر کو میلہ مت بناؤ ، اور یہ کہ تم لوگ مغرب یا مشرق میں جہاں بھی ہو، مجھ پر درود بھیجا کرو؛ کیوں  کہ ہر شخص کا درود مجھ تک پہنچایاجاتا ہے۔‘‘

10: حدیث شریف میں ہے کہ : حضرت عیسٰی علیہ السلام جب دنیا میں نزول فرمائیں گے ،  حج وعمرہ کے بعد روضۂ اطہر ﷺ کے پاس زیارت کے لیے جائیں گے اور آپ ”درودوسلام “پڑھیں گے اور نبی علیہ السلام ” درودوسلام “کا جواب بھی دیں گے۔

 وإنّي أولی الناس بعیسٰی بن مریم… وإنّه نازل… ثمّ تقع الأمنة علی الأرض… وأخرج الحاکم وصحّحه عن أبي هریرۃ قال: قال رسول اﷲ: لیهبطنّ ابن مریم حکمًا، عدلًا، وإمامًا مقسطاً، ولیسلکنّ فجًّا حاجًّا أومعتمرًا ولیأتینّ قبري، حتّٰی یسلّم عليّ ولأردنّ علیه…الخ

(عقیدۃ الإسلام للعلامة الشیخ الکشمیري، إنّ الأنبیاء أحیاء في قبورھم یصلّون…،(ص:۳۶) ط: حاشرپبلشنگ کمپنی کراچی)

نزول عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں احادیث کو نقل کرتے ہوئے حضرت علامہ محمدانورشاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:  حضرت عیسٰی بن مریم علیہ السلام ضرور آسمان سے اتریں گے،  وہ زمین کو عدل وانصاف سے بھردیں گے، وہ اس وقت سب کے پیشوا ہو ں گے اور دوردراز سفر کرکے جب حج وعمرہ سے فارغ ہوں گے تو روضۂ اطہر ﷺ کے پاس حاضری دیں گے اور آپ ﷺ ان کے صلوٰۃ وسلام کا جواب دیں گے۔ 

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ قبر شریف میں زندہ ہیں۔ تب ہی تو حضرت عیسٰی بن مریم علیہ السلام کے درودوسلام کا جواب دیں گے۔

                                                                                             خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا  عقیدۂ حیاۃ النبی ﷺ :

    11: حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: آپ ﷺ میرے حجرہ میں مدفون ہیں، آپ کی وفات میرے حجرہ میں ہوئی،  ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آخری وقت میں وصیت فرمائی کہ:  میرا جنازہ حضور ﷺ کی قبر کے سامنے حجرہ کے پاس رکھ دینا، اگر حجرہ شریف کا دروازہ کھل جائے اور روضۂ شریف کے اندر سے آواز آئے کہ ابوبکر کو اندر لے آؤ، تب تو حجرہ شریف میں دفن کردینا،  ورنہ عام مؤمنین کے قبرستان میں دفن کردینا۔چناں  چہ  حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد وصیت کے مطابق عمل کیاگیا،جب ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کاجنازہ حجرہ شریف کے سامنے رکھ دیا گیا تو قبر شریف کے اندر سے آواز آئی: ’’أدخلوا الحبیب إلی الحبیب!‘‘ (محبوب کو اپنے محبوب کے پاس لاکر دفنادو) ۔ 

 (تفسیر ابن کثیر: ۵/ ۲۸۵۔ شواھد النبوۃ للشیخ عبدالرحمن الجامي، رکن سادس دربیان شواہد ودلائل…، ذکر امیر المؤمنین ابوبکر صدیق رضی الله عنہ، (ص:۱۵۰) ط:نول کشور لکھنو)

جس سے واضح ہواکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عقیدہ بھی یہی تھا کہ نبی کریم ﷺ اپنی قبرشریف میں زندہ ہیں، اگر وہ حجرہ شریف کے اندر سے آواز دیں تو ان کو اس میں دفنادیا جائے،  ورنہ نہیں،  اگر وہ یہ سمجھتے  کہ  - نعوذ باﷲ - آپ مردہ لاش  ہوگئے، ریزہ ریزہ ہوگئے ہیں تو کیوں  کر اس طرح وصیت فرماتے؟

نیز صحابہ کرام نے اس وصیت پر عمل فرمایا، معلوم ہوا کہ اس وقت موجودتمام صحابہ کرام کا عقیدہ بھی یہی تھا،ورنہ یہ کہہ دیا جاتا ابوبکر رضی اللہ عنہ  کی وصیت خلافِ شرع ہے، نعوذباللہ آپ ﷺ  مردہ لاش  ہوگئے ہیں،  لہٰذا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ  کے لیے دوسری تدبیر کی جاتی، لیکن صحابہ کرام میں سے کسی نے اس وصیت پر اعتراض نہیں کیا۔

                                                                                          خلیفۂ ثانی حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا عقیدۂ حیاۃ النبی ﷺ :

آپ جب بھی مدینہ کے باہرسفر سے واپس ہوتے،روضۂ اطہر کے پاس حاضر ہوکر درودوسلام پڑھتے اور دوسرے صحابہ کرام کو بھی اس کی تلقین فرماتے۔

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:

میں مسجد نبوی ﷺ میں کھڑا تھا،  کسی شخص نے کنکری ماری،کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ میرے پیچھے کھڑے ہیں، آپ نے مجھے فرمایا کہ ان دونوں شخصوں کو میرے پاس لے آؤ، میں جاکر ان کو آپ کے پاس لے آیا ، آپ نے ان سے فرمایا: تم لوگ کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا : ہم طائف سے آئے ہیں، اس پرحضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم لوگ اہلِ مدینہ میں سے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا؛ اس لیے کہ تم مسجد نبوی ﷺ میں آئے ہو اورحضور ﷺ کے پاس آواز بلند کررہے ہو۔ 

"عن السائب بن یزید قال: کنت قائمًا في المسجد فحصبني رجل، فنظرت إلیه، فإذاعمر بن الخطاب، فقال: اذھب فاتني بھٰذین، فجئته بهما، فقال: ممّن أنتما أومن أین أنتما؟ قالا: من أهل الطائف، قال: لو کنتما من أهل البلد لأوجعتکما، ترفعان أصواتکما في مسجد رسول ﷲ صلّی اﷲ علیه وسلّم."

(صحیح البخاري،کتاب الصلاۃ، باب رفع الصوت في المسجد،(1/67) ط:قدیمی کراچی)

اس روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم لوگ باہر کے مسافر ہو ، ورنہ تمہیں سزادی جاتی؛ کیوں  کہ تم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کی مسجد میں آواز بلند کرتے ہو ، جو کہ آپ ﷺ کی اذیت کا سبب ہے،  اس جرم کے بدلہ میں تم سزا کے مستحق ہو، مگر  چوں کہ تم لوگ مسافر ہو،  باہر سے آئے ہوئے ہو اور  اَن جانے میں ایسا ہوگیا ہوگا،  اس لیے معاف کیاجاتا ہے، آئندہ ایسا مت کہنا۔

جس سے اندازہ ہوا کہ مسجد نبوی میں آواز بلند کرنے کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اذیت کا سبب سمجھتے تھے اور وہ اس وجہ سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ حیات اور زندہ سمجھتے تھے ، مردہ لاش نہیں سمجھتے تھے۔

                                                                                                   خلیفۂ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا  عقیدۂ  حیات النبی ﷺ

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا جب باغیوں نے محاصرہ کرلیا تھا تو بعض صحابۂ کرام نے آپ کو مشورہ دیا کہ بہتر ہے آپ شام تشریف لے جائیں، وہاں کی اَفواج زیادہ مضبوط ہیں، آپ کی پوری حفاظت کریں گی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں اس کوجائز نہیں سمجھتا کہ ’’دارالھجرة ‘‘ کو ترک کردوں  اور رسول  اللہ ﷺ کی ہم سائیگی کوچھوڑدوں۔

(وفاء الوفاء بأخبار دارالمصطفٰی للسمھودي، الباب الثامن في زیارۃ النبيّ…،الفصل الثاني في بقیة أدلّة الزیارۃ…،(4/1356) ط: مطبعة السعادۃ بمصر، ۱۳۷۴ھ-۱۹۵۵م)

جس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نبی علیہ السلام کو زندہ سمجھتے تھے اور آپ کی ہم سائیگی سے جدا ہونا نہیں چاہتے تھے،  آپ سے جدا ہونے کو ناجائز اور عار سمجھتے تھے، اگر نعوذبالله  آپ کے مردہ لاش ہونے کا عقیدہ ہوتا تو ہم سائیگی کا تصور کیسے ہوتا؟

                                                                                       خلیفۂ رابع حضرت علی رضی اللہ عنہ کا  عقیدۂ حیاۃ النبی ﷺ:

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

" مَنْ زَارَ قَبْرَ رَسُوْلِ ﷲ صلي الله عليه وسلم کَانَ فِيْ جَوَارِ رَسُوْلِ ﷲ  صلي الله عليه وسلم" .

(وفاء الوفاء بأخبار دارالمصطفٰی للسمھودي،الباب الثامن في زیارۃ النبيّ، الفصل الأوّل في الأحادیث الواردۃ في الزیارۃ نصًّا، تحت الحدیث السادس عشر، (4/1348) ط: مطبعة السعادۃ بمصر،۱۳۷۴ھ-۱۹۵۵م)۔

ترجمہ: ’’جو شخص رسول الله ﷺ کے روضۂ اطہر کی زیارت کرے گا،  وہ اس وقت نبی علیہ السلام کا ہم سایہ اور جوار میں ہوگا۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دوسری روایت ہے کہ: 

"ایک دیہاتی حضور ﷺ کے روضۂ اطہر کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول الله !  آپ نے جو پروردگار سے سنا، ہم نے آپ سے سنا اور جو کچھ آپ نے اللہ کی جانب سے یاد کیا،  ہم نے آپ سے یاد کیا، آپ پر جو آیات نازل ہوئیں ان میں یہ  آیت شریفہ بھی ہے:

وَلَوْ أَنَّهُمْ  إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا۔ (النساء:64)

ترجمہ:  ’’جب ان لوگوں نے اپنے آپ پر (نافرمانیوں کے ساتھ) ظلم کیا تو اگر یہ لوگ آپ کے پاس آتے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہتے اور آپ بھی ان کے لیے بخشش مانگتے تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔‘‘ 

اس پر روضۂ اطہر کے اندر سے آواز آئی،اللہ تعالیٰ نے تجھے بخش دیا ہے"۔

(جذب القلوب إلی دیار المحبوب للشیخ عبدالحق الدھلوي، باب چہاردھم فضائل سیدالمرسلین…، (ص:۲۱۱-۲۱۲) ط: مطبع نامی منشی نول کشور، لکھنؤ۔  الجامع لأحکام القرآن للقرطبي، [النساء:64](۵/ 256۔266) ط:الھیئة المصریة العامة للکتاب)

ان روایات سے معلوم ہوا کہ خلفائے راشدین اور دوسرے عام صحابۂ کرام بھی حیاۃ النبی ﷺ کے قائل تھے، چناں  چہ مذکورہ آخری روایت میں ایک دیہاتی صحابی رضی اللہ عنہ نے حیات  النبی ﷺ کے عقیدے سے آپ کو خطاب کیا اور آپ کے ذریعہ گناہ بخشوانے کی کوشش کی، اندر سے آواز آئی اللہ نے آپ کو بخش دیا ہے۔جیساکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے جنازہ کو حجرہ شریف میں دفن کرنے کے لیے اندر سے آواز آئی کہ آپ ﷺنے فرمایا کہ: ابوبکر رضی اللہ عنہ  میرا حبیب ہے اس کو اپنے حبیب، یعنی میرے پاس ہی دفن کرو۔

اس کے علاوہ یہ بھی ملحوظ رہے کہ نبی کریم ﷺ کے انتقال کے بعد آپ پر باقاعدہ نمازِ  جنازہ جیسے عام مسلمانوں کے لیے پڑھنے کا حکم ہے ، نہیں پڑھی گئی،  بلکہ صحابۂ کرام  کی ایک ایک جماعت اندر جاتی،  صلوٰۃ  و سلام  اور دعائے  رحمت کرکے واپس آجاتی؛ کیوں  کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سمجھتے تھے کہ بعد الدفن آپ زندہ ہیں، آپ  مردہ نہیں ہیں،  تو  زندہ کی نماز جنازہ کیسے پڑھی جائے اور کون پڑھتا؟

حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا  عقیدۂ حیاۃ النبی ﷺ :

"أخرج أحمد برقم [۲۵۵۳۶] والحاکم في المستدرک (۳/۶۱) وصحّحه علی شرطهما و وافقه الذھبي۔ وقال الهیثمي في المجمع، (۸/۵۷):’’رجال أحمد رجال الصحیح“ :

" عَنْ عَائِشَة رَضِيَ ﷲ عَنْھَا قَالَتْ: کُنْتُ أَدْخُلُ بَیْتِيَ الَّذِيْ دفن فِیْه رَسُوْلُ ﷲ وَ أَبِيْ فَأَضَعُ ثَوْبِيْ، وَأَقُوْلُ: إِنَّمَا هوَ زَوْجِيْ وَأَبِيْ، فَلَمَّا دُفَنِ عُمَرُ مَعَھُمْ فَوَ ﷲ مَا دَخَلْتُ إِلَّ أَنَا مَشْدُوْدۃٌ عَلَیَّ ثِیَابِيْ حَیَاءً مِنْ عُمَرَ".

 (المسندللإمام أحمد بن حنبل،تابع مسند عائشة رضي اﷲ عنھا،[رقم الحدیث:25536]  (18/24) ط: دار الحدیث القاھرۃ، ۱۴۱۶ھ-۱۹۹۵م)

ترجمہ:  ’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ:  میں اپنے حجرہ میں جہاں رسول الله  ﷺاور ميرے والد  مدفون ہیں، کھلی چادروں میں داخل ہوجایاکرتی تھی،  مجھے یہ خیال ہوتا تھا کہ اس حجرہ میں تو ایک میرے شوہر،  دوسرے میرے  والد  ہیں، پردہ کا اہتمام نہیں کرتی تھی،لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس میں دفن کیاگیا، قسم بخدا اس کے بعد سے میں کپڑے کو اچھی طرح کس کر باندھ کر،  پردہ کرکے اندرجاتی ہوں ؛کیوں  کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ سے حیا آتی ہے۔‘‘   

جس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے انتقال کے بعد،  پھر حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جب حجرہ میں جاتیں تو ان کو زندہ سمجھتے ہوئے ان سے حیا نہیں کرتی تھیں؛ کیوں  کہ ایک تو آپ کے زوج اور شوہر ہیں،  دوسرے آپ کے والد ہیں،  لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دفنانے کے بعد آپ پردہ کے اہتمام کیے بغیر حجرہ میں نہیں جاتیں،پردہ میں کپڑے باندھ کر اندر جاتی تھیں؛ کیوں  کہ وہ سمجھتی تھیں کہ  حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ بھی زندہ ہیں،  اگر  پردے کے بغیر  جائیں تو یہ بے حیائی کی بات ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا دنیوی زندگی میں تو حیااور پردہ کرتی تھیں اور انتقال کے بعد حیا کرنا اور پردہ کرنا چھوڑدیا ہے۔

دیکھیے!  اس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تو صرف حیاتِ نبی  ﷺ کو نہیں مان رہیں،  بلکہ حیاتِ ابوبکر اور حیاتِ عمررضی اللہ عنہما کو بھی مان رہی ہیں، جس وجہ سے ان سے پردہ کرتی تھیں۔

حضرت عبداللہ بن عمر ”مکثرین في الحدیث“  صحابہ میں سے ہیں اور فقہائے صحابہ  میں سے بھی، وہ سفر سے جب بھی واپس ہوتے مسجد نبویﷺ میں جاکر نماز پڑھتے پھر روضۂ اطہر کے پاس آکر درودوسلام پڑھتے اور ان کے الفاظ یہ ہوتے تھے: ’’السلام علیك یا رسول اللّٰه‘‘  پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سلام پڑھتے: ’’السلام علیك یا أبا بکر رضي اللّٰه عنه‘‘  پھر حضرت عمررضی الله  عنہ کی قبر پر آتے اور سلام کرتے: "السلام علیك یا أباہ".  (مصنف ابن ابی شیبہ:۱/ ۱۳۸،  موطا امام محمد: ۳۹۲)

حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:  میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو سو دفعہ سے زیادہ مرتبہ دیکھا ہے کہ جب سفر سے واپس ہوتے تو نماز پڑھ کر پھر روضۂ اطہر میں سلام کے لیے کھڑے ہوجاتے اور ’’السلام علیك یا رسول اللّٰه‘‘   کہہ کر سلام پڑھتے۔ (مقام حیات: ۱۹۳)

حضرت بلال رضی اللہ عنہ أجِلہ صحابہ میں سے ہیں، ان سے روایت ہے کہ جب حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں قحط پڑا تو  میں نے روضۂ اطہر کے سامنے حاضر ہوکر یوں عرض کی:

"یا رسول ﷲ!  استسق لأمّتك، فإنّھم قد هلکوا".

 ’’ یارسول الله !  اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے بارش کی درخواست فرمائیں،  آپ کی امت قحط سے ہلاک ہورہی ہے۔‘‘ 

یہ کہہ کر حضرت  بلال رضی اللہ عنہ چلے گئے ، مگر سید الانبیاء ﷺ نے حضرت بلال بن حارثؓ کو خواب کے ذریعہ بتادیا کہ: اے بلال! عمر سے میرا سلام کہہ دو اور یہ بھی کہہ دو کہ ان شاء اللہ بارش ہوجائے گی،  پھر جلد ہی بارش شروع ہوگئی۔

( فتح الباري للحافظ ابن حجرالعسقلاني،کتاب الاستسقاء،باب سؤال النّاس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا…،(۲/۴۹۵-۴۹۶) ط:رئاسۃ إدارت البحوث العلمیۃ والإفتاء والدعوۃ …بالسعودیۃ) 

اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی حیات   النبی ﷺ کا عقیدہ رکھتے تھے۔

ان سب روایات سے خلفائے راشدین اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ”عقیدۂ حیات النبی ﷺ “ کا علم ہوا،  اس سے قبل آیاتِ  قرآنیہ اور متعدد صحیح حدیثوں سے” حیات النبی“ پر استدلال کیاگیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے  کہ ”حیات النبی ﷺ “ کا مسئلہ قرآن و سنت اور آثارِ  صحابہ کی رو سے بھی متفقہ ہے،  اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے،  صحابۂ کرام اور تابعین عظام کا مسلک بھی یہی ہے،  اختلاف کرنے والے سنتِ رسول اور عقیدۂ متواترہ کے خلاف کرتے ہیں۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:  میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے صرف ایک جماعت جنت میں جائے گی، باقی سب جہنم میں، صحابۂ کرام نے عرض کیا:  یارسول اللہ !  جنت میں جانے والی کون سی جماعت ہوگی؟ آپ  ﷺ نے فرمایا:

’’ جس دین اور راہ پر میں ہوں اور میرے اصحابِ کرام ہوں گے (یعنی ان کی اتباع کرنے والی)،  وہ جماعت جنت میں جائے گی۔ باقی سب جہنم میں۔‘‘ 

(مشکاۃ المصابیح،کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسّنۃ،الفصل الثّاني،(ص:۳۰)ط: قدیمی کتب خانہ کراچی)

اب مسئلہ حیات  النبی ﷺ  کے بارے میں رسول اللہ  کی سنت وحدیث کو آپ نے پڑھ لیا ہے اور خلفائے راشدین اور دوسرے صحابۂ کرام کا نظریہ وعقیدہ بھی دیکھ لیا ہے کہ سب کے سب حیات  النبی ﷺ کے عقیدے والے تھے، کوئی ایک ان میں سے حیات  النبی ﷺ سے منحرف نہ تھا۔

فقہائے کرام کا  عقیدۂ حیاۃ النبی ﷺ :

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تابعی ہیں،آپ نے کم ازکم چارصحابہ کرام اور زیادہ سے زیادہ دس صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو دیکھا ہے، آپ فقہاءِ اربعہ میں سے ’’أفقه الناس في الأرض‘‘اور ”امامِ اعظم“  کے لقب کے ساتھ دنیا کے لوگوں میں مشہور ہیں، ان کے مسلک کے ترجمان علامہ حسن بن عمار  الشرنبلانی  ؒ فرماتے ہیں:

" یَنْبَغِيْ لِمَنْ قَصَدَ زِیَارَۃَ النَّبِيِّ أَنْ یُکْثِرَ الصَّلَاۃَ عَلَیْه، فَاِنَّه یَسْمَعُھَا وَتُبْلَغُ إِلَیْه".

(مراقي الفلاح شرح نورالإیضاح المطبوع مع حاشیة الطحطاوي،کتاب الحجّ، فصل في زیارۃ النبيّ صلی اللہ علیه وسلم، (1/428ط: المکتبة الغوثیة، کراچي)

ترجمہ:  ’’جو شخص حضور ﷺ کی زیارت کا قصد وارادہ کرے،  اسے چاہیے کہ کثرت سے درودشریف عرض کرے؛کیوں  کہ آپ ﷺ خود درود شریف کو سنتے ہیں جب زیارت کرنے والے درودوسلام پڑھتے ہیں اور دور سے پڑھتے ہیں توآپ تک درودشریف کو پہنچایا جاتا ہے۔‘‘ 

فقہ حنفی کی ابتدائی کتاب ’’نورالایضاح‘‘ کی شرح ’’مراقی الفلاح‘‘ میں ہے:

"مِمَّا ھُوَ مُقَرَّرٌ عِنْدَ الْمُحقِّقِیْنَ : أَنھا حَيٌّ یُرْزَقُ مُتَمَتِّعٌ بِجَمِیْعِ الْمَلاَذِّ وَالْعِبَادَاتِ غَیْرَ أَنَّه حُجِبَ عَنْ أَبْصَارِالْقَاصِرِیْنَ عَنْ شَریف المَقَاماَتِ"

  (مراقي الفلاح شرح نورالإیضاح المطبوع مع حاشیة الطحطاوي،کتاب الحجّ، فصل في زیارۃ النبيّ صلی اللہ علیه وسلم، (1/428ط: المکتبة الغوثیة، کراچي)

ترجمہ : ’’محققین حنفیہ کے نزدیک یہ بات طے شدہ ہے کہ آں حضرت ﷺ قبر میں زندہ ہیں، آپ کو رزق دیا جاتا ہے اور عبادات سے آپ لذت بھی اٹھاتے ہیں، ہاں اتنی بات ہے کہ وہ تمام ان لوگوں کی نگاہوں سے پردہ میں ہیں، جو ان کے مقامات تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔‘‘  

علامہ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

" أَنَّ الْأَنْبِیَاءَ أَحْیَاءٌ فِيْ قُبُوْرِھِمْ کَمَا وَرَدَ فِيْ الْحَدِیْثِ ".

مجموعة رسائل ابن عابدین، الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم، (۲/۲۰۲) ط: سہیل اکیڈمی لاهور)

مذکورہ بالا نقول سے واضح ہوا کہ فقہ حنفی کے محققین کے نزدیک ”حیات  النبی ﷺ“ اور ”حیات  الانبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام“ ثابت ہے۔

فقہاءِ شوافع کے نزدیک حیاۃ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا عقیدہ:

’’طبقات الشافعیۃ ‘‘میں ہے:

"عِنْدَنَا رَسُوْلُ ﷲ حَيٌّ یُحِسُّ وَیَعْلَمُ وَتُعْرَضُ عَلَیْه أَعْمَالُ الْاُمَّة وَیُبَلَّغُ الصَّلَاۃ وَالسَّلَام".

(الطبقات الشافعیة الکبریٰ للسبکي،(ترجمة) الإمام أبي الحسن الأشعري، ذکررسالة القشیري إلی البلاد المسمّاۃ شکایة أھل السنّة…، (۲/ ۲۸۲) ط: دار المعرفة بیروت)

’’ترجمہ:ہمارے فقہائے شافعیہ کے نزدیک آں  حضرت ﷺ زندہ ہیں، آپ میں حس اور علم سب چیزیں موجود ہیں،  آپ ﷺ کے پاس امت کے اعمال پیش ہوتے ہیں، اور دورسے پڑھا گیاصلوٰۃ وسلام آپ کو پہنچایا جاتا ہے‘‘۔

فقہائے حنابلہ کے نزدیک حیاۃ الانبیاء کا عقیدہ :

" قَالَ ابْنُ عَقِیْلِ مِنَ الْحَنَابِلَه: ھُو حَيٌّ فِيْ قَبْرِہِ یُصَلِّيْ… " الخ. 

(الروضة البھیة: ص: 14)

ترجمہ: ’’حضرت ابن عقیل حنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:  آں حضرت ﷺ قبر میں زندہ ہیں اور نماز بھی پڑھتے ہیں۔ ‘‘

ان مذکورہ بالا نقول وروایات سے واضح ہوا کہ ”ائمہ اربعہ“ کے نزدیک ”حیات النبیﷺ“  بلکہ ”حیات الانبیاء علیہم السلام“  ثابت ہے۔

حیات النبی ﷺ کے بارے میں محدثین کرام کے اقوال:

قارئین! اب محدثین کرام کے کچھ اور حوالے بھی ملاحظہ فرمائیں:

1:  حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

" إِنَّ حَیَاتها فِيْ الْقَبْرِ لَایَعْقِبُھَا مَوْتٌ بَلْ یَسْتَمِرُّ حَیًّا، وَأَنَّ الْأَنْبِیَاءَ أَحْیَاءٌ فِيْ قُبُوْرِھِمْ"

(فتح الباري : ۷/۲۹)

ترجمہ: ’’آں  حضرت ﷺ کی قبر میں زندگی ایسی ہے  جس پر کبھی موت طاری نہ ہوگی،  بلکہ آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے ؛کیوں کہ انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہوتے ہیں۔‘‘

2: حافظ علامہ بدرالدین عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

" الْأَنْبِیَاء عَلَیْھِمْ السَّلَامُ فَإِنَّھُمْ لَایَمُوْتُوْنَ فِيْ قُبُورِھِمْ بَلْ ھُمْ أَحْیَاءٌ ".

(عمدۃ القاري: ۱۳/ ۲۵۴)

ترجمہ: ’’انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں، ان پر موت نہیں آئے گی، وہ ہمیشہ ہمیشہ زندہ ہی رہیں گے۔‘‘

3: امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

" إِنَّ اﷲَ جَلَّ ثَنَائُه رَدَّ إِلَی الْأَنْبِیَاءِ عَلَیْہِمُ السَّلَامُ أَرْوَاحَھُمْ، فَھُمْ أَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ کَالشُّھَدَآءِ " .   

(حیاۃ الأنبیاء :  ۱۱۱)

ترجمہ:’’بے شک  بڑی ہو اللہ کی تعریف، اس نے انبیاء علیہم السلام کو ان کی روحیں قبر میں لوٹادیں، لہٰذا وہ اپنی قبروں میں زندہ ہیں، جیسے کہ شہداء اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔‘‘

4: ملاعلی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

"فمن المعتقد المعتمد: أنّها حَيٌّ في قبرہ کسائر الأنبیاء في قبورھم، وھم أحیاء عندربّھم، وأنّ لأرواحھم تعلّقاً بالعالم العلوي والسفلي، کما کانوا في حال الدنیويّ، فھم بحسب القلب عرشیّون وباعتبار القالب فرشیّون".

(شرح الشفاء لعلي القاري: 1/142)

ترجمہ:  ’’حیات الانبیاء کے بارے میں قابل اعتماد عقیدہ یہ ہے کہ:  آں  حضرت ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں،  جس طرح کہ دیگر انبیاء علیہم السلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں، اپنے رب سے بھی ان کا تعلق ہے، ان کی ارواح کو عالمِ علوی اور عالمِ سفلی دونوں سے تعلق اور ربط ہوتا ہے جیسے کہ وہ دنیا میں تھے، سو وہ قلب  (دل)کے اعتبار سے تو ”عرشی“ یعنی عرش کے رہنے والے ہیں  مگر قالب اور جسم کے لحاظ سے ”فرشی“ یعنی قبروں میں رہنے والے ہیں۔‘‘

5:  شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ اس مسئلہ ”حیات انبیاء“ کو اتفاقی اور اجماعی قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ بدانکہ حیات انبیاء صلوات اللہ  وسلامہ علیہم اجمعین متفق علیہ ست ، میانِ علمائے ملت وہیچ کس راخلاف نیست ، دران کہ آں کامل ترو قوی تراز وجود حیات شہداء ومقاتلین فی سبیل  اللہ کہ؛ آن معنوی آخروی ست عند  اللہ  و حیات انبیاء حسی دنیاوی ست  واحادیث  وآثار دراں واقع شدہ۔‘‘

  ( مدارج النبوّۃ: ۲/۵۷۵)

ترجمہ:  ’’ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی حیات اتفاقی مسئلہ ہے، اس میں علماء میں سے کسی شخص کو اختلاف نہیں ہے،  اس لیے کہ ان کی زندگی شہداء کرام اور اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں سے کامل تر اور قوی تر ہے؛ کیونکہ ان کی حیات روحانی واخروی ہے اور انبیاء کی حیات حسی وجسمانی ودنیوی کی سی ہے،  نہ کہ صرف روحانی۔ یہ بات آثار واحادیث سے ثابت شدہ ہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔‘‘

6: محدث مولانا احمدعلی سہارنپوری رحمہ اللہ حاشیہ بخاری میں لکھتے ہیں:

"وَالْأَحْسَنُ أَن یُّقَالَ: إِنَّ حَیَاتَها َلایَعْقِبْھَا مَوْتٌ بَلْ یَسْتَمِرُّ حَیًّا وَالْأَنْبِیَاءُ أَحْیَاءٌ فِيْ قُبُورِھِمْ".

(حاشیة صحیح البخاري: ۱/۵۱۷)

ترجمہ:  ’’ سب سے بہتر بات یہ ہے کہ بعد وفات،آں حضرت ﷺ کی حیات ایسی ہے کہ اس کے بعد موت طاری نہ ہوگی، بلکہ آپ کو قبر کی حیات دائمی ومستمرہ حاصل ہے،  ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہیں اورزندہ رہیں گے ، جیساکہ تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔‘‘

7: محدث احمدعلی سہارنپوری رحمہ اللہ کے اجلّ شاگرد حجۃ الاسلام مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدہ حیاۃ النبی ﷺ، فرماتے ہیں:

’’ انبیاءِ  کرام کو ، انہیں اجسام دنیاوی کے اعتبار سے زندہ سمجھتا ہوں۔‘‘  (لطائف قاسمیہ:۳)

ماہنامہ دارالعلوم دیوبند شائع شدہ ۱۹۵۷ء میں لکھا ہے کہ:

 ’’ حضرت مولانامحمدقاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ ﷺ کو ”خلوت گزیں“ سے تعبیر کیاہے اور آپﷺ کی حیاتِ  جسمانی کو عوام وخواص کا اجماعی عقیدہ قرار دیتے ہوئے ایک گراں قدر کتاب ’’آبِ  حیات‘‘ تصنیف فرمائی ہے،  مقامِ  حسرت ہے کہ آج بعض اہلِ  علم ”حیات النبی ﷺ“  کے منکر ہیں،  جب کہ آپﷺ اس وجودِ  پاک کے ساتھ زندہ تشریف فرما ہیں ،  جس طرح دنیا میں تشریف فرماتھے۔‘‘   (نومبر)

8: فقیہ و محدث مولانا رشیداحمدگنگوہی رحمۃ اللہ علیہ حیاۃ النبی ﷺ کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’قبر کے پاس انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سماع میں کسی کا اختلاف نہیں۔‘‘  (فتاویٰ رشیدیہ:۱۲۳)

 یعنی آپ ﷺ بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام زندہ ہیں، وہ سنتے بھی ہیں، اور فرماتے ہیں:

’’ جن الفاظ میں شبہ ہو، وہم ہو کہ ان سے حضور ﷺ کی شان میں بے ادبی ہے ، وہ باعثِ  ایذا جنابِ  رسالت مآب ﷺ ہیں۔‘‘۔۔۔۔الخ

اور آخر میں فرمایا:   ان کلماتِ  کفر کہنے والے کو سختی سے منع کرنا چاہیے اگر قدرت ہو، اگر باز نہ آوے قتل کرنا چاہیے کہ موذی وگستاخ شان جنابِ  کبریا تعالیٰ شانہ اور اس کے رسول النبی ﷺ کا ہے۔‘‘

 ( دیکھیے:فتاویٰ رشیدیہ، کتاب ایمان اورکفر کے مسائل، رسول  اللہ ﷺ کو صنم وغیرہ کہنا، (ص:۱۷۶ -۱۷۸) ط: محمدعلی کارخانہ اسلامی کتب ،کراچی)

ان سب باتوں سے واضح ہے کہ یہ حضرات اکابر محدثین وفقہاء ”حیات النبی ﷺ“  کا عقیدہ رکھتے تھے اور دوسروں کو اس کی تاکید فرماتے تھے۔ ا س کے خلاف عقیدہ رکھنے سے روکتے اور منع کرتے تھے۔

حضرت گنگوہی رحمہ اللہ ’’ہدایۃ الشیعہ‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں زندہ ہیں، ان کو وہاں پر رزق دیا جاتا ہے۔‘‘ 

(تالیفات رشیدیہ:۵۶۱)

9: حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

" إِنَّ نبيَّ ﷲ حَيٌّ فِيْ قَبْرِہٖ کَمَا أَنَّ الْأَنْبِیَآءَ أَحْیَاءٌ فِيْ قُبُوْرِھِمْ".

(بذل المجھود : ۲/۱۱۷)

ترجمہ:  ’’بے شک نبی پاک  ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں، جیساکہ دوسرے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام بلاکسی شک وشبہ کے اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔‘‘

10 : فقیہ ، محدث مولانا خلیل احمدسہارنپوری رحمہ اللہ نے ’’المہنّد علی المفنّد ‘‘میں اس مسئلہ ”حیات النبی ﷺ“  کو بھی صاف کردیا ہے،  تحریر فرماتے ہیں:

’’عندنا وعند مشائخنا : حضرۃ الرسالة صلي الله عليه وسلم حيٌّ في قبرہ الشریف وحیاتة صلي الله عليه وسلم دنیویّة من غیر تکلیفٍ، وھي مختصة بها وبجمیع الأنبیاء صلوات ﷲ علیھم والشھدآء لابرزخیَّة، کما ھي حاصلة لسائر المؤْمنین بل لجمیع الناس، نصّ علیہ العلّامة السیوطي في رسالته ’’إنباء الأذکیاء بحیاۃ الأنبیاء‘‘حیث قال: قال الشیخ تقي الدین السبکي: حیاۃ الأنبیآء والشھدآء في القبر کحیاتھم في الدنیا ویشھد له صلاۃ موسٰی علیه السلام في قبرہ، فإنّ الصلاۃ تستدعي جسدًا حیًّا إلٰی اٰخر ما قال: فثبت بھذا أنّ حیاته دنیویَّة برزخیّة لکونھا في عالم البرزخِ".

(المھند علی المفند للمحدث السھارنفوری،(الجواب)عن السوال الخامس: مسئلة حیاۃ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم،(ص:۲۱،۲۲) ط: دارالاشاعت کراچی)

ترجمہ:  ’’ہمارے اور ہمارے تمام مشائخ کے نزدیک آں  حضرت ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں اور آپ کی حیات، حیاتِ دنیوی کی سی ہے،بلامکّلف ہونے کے اور یہ حیات مخصوص ہے آں حضرت ﷺ اور تمام انبیاء علیہم السلام اور شہداء کے ساتھ ، یہ حیات خالص برزخی حیات نہیں ہے جو کہ تمام ایمان داروں کو حاصل ہے،  بلکہ سب انسانوں کو۔ چناں  چہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ ’’إنباء الأذكیاء بحیاة الأنبیاء‘‘ میں بتصریح لکھاہے کہ: تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور شہداء کی حیات قبر میں ایسی ہے جیسی دنیا کی تھی اور حضرت موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنی قبر میں نماز پڑھنا اور نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہم کو خبر دینا اس کی دلیل ہے؛ کیوں  کہ نماز  کی ہیئتِ   کذائیہ  زندہ جسم کو چاہتی ہے۔بس اس سے ثابت ہوا کہ آپ ﷺ کی حیات دنیا کی حیات  جیسی ہے اور دونوں میں فرق یہ ہے : دنیوی حیات  میں تکلیف ِابلاغ ِ رسالت ودین کے ساتھ مامور تھے اور برزخ میں تکلیفِ ابلاغِ  رسالت ودین کی ذمہ داری آپ پر نہیں،  بلکہ آپ کے بعد آنے والے علماء پر ہے اور اس کو حیاتِ  برزخی اس لیے کہاجاتا ہے کہ عالمِ برزخ میں ہے۔‘‘

حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’المہنّد علی المفنّد‘‘ (۲۶) سوالات کے جواب میں لکھی ہے اور اس میں اکابر علمائے دیوبند کی توثیق اور دستخط موجود ہیں اوراس میں یہ بھی لکھا ہے کہ حیاتِ انبیاء پرتمام ائمہ اہلِ  سنت والجماعت کا اجماع ہے۔

11 : شیخ الاسلام مولانا شبیراحمدعثمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

 " وَدَلَّتِ النُّصُوْصُ الصَّحِیْحَة عَلٰی حَیَاۃِ الْأَنْبِیَاءِ ".

(فتح الملہم : ۱/۳۲۵)

ترجمہ:  ’’ نصوصِ صریحہ صحیحہ اس بات پر دال ہیں کہ حضراتِ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔‘‘

12: حضرت علامہ محمدانورشاہ رحمۃ اللہ علیہ کا عقیدۂ حیاۃ النبی بھی ’’عقیدۃ الاسلام‘‘ کے حوالے سے گزرچکاہے۔

13: حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’ آپ ﷺ بنصِّ حدیث زندہ ہیں۔‘‘  (التکشف عن مھمات التصوف :۴۱۵)

14: صاحبِ انوارمحمود،  شرح ابوداؤد فرماتے ہیں:

"أَنَّھُمْ اِتَّفَقُوْا عَلٰی حَیَاتِه، بَلْ حَیَاۃُ الْأَنْبِیَاءِ عَلَیْھِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ مُتَّفَقٌ عَلَیْھَا لَاخِلَافَ لِأَحَدٍ فِیْه"

( أنوارالمحمود : 1/610)

غرض یہ کہ تمام محدثین وفقہاء اس پر متفق ہیں کہ آنحضرت ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں،  بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کی حیات پر سب کا اتفاق ہے، اس میں کسی ایک محدث وفقیہ کا اختلاف نہیں ہے،  جس سے واضح ہوا کہ مسئلہ ”حیات  النبی ﷺ“  ائمہ اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک متفق علیہ اور مجمع  علیہ  ہے، اس میں کسی اہلِ علم اور اہلِ تقویٰ کا اختلاف نہیں، مگر میں نے شروع میں عرض کیا تھاکہ کم زور لوگ اپنی کم زوری کی وجہ سے شکوک میں پڑجاتے ہیں، علماء ان کے شبہات کو دور فرمادیتے ہیں۔

اس طرح  کا ایک اختلاف  1377 ھ میں رونما ہوا تھا،  پھر اس وقت موجود اکابر علمائے دیوبندنے جمع ہوکر متفقہ اعلان فرمادیا:

مسئلہ حیات النبی ﷺ کے بارے میں اکابردیوبند کا ایک بار پھر متفقہ اعلان، مع دستخط علمائے کرام:

 ’’حضرت اقدس نبی کریم ﷺ اور سب انبیاءِ  کرام علیہم الصلوٰۃ  والسلام کے بارے میں ”اکابرِ دیوبند“  کا مسلک یہ ہے کہ وفات کے بعد اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور ان کے ابدانِ مقدسہ بعینہا محفوظ  ہیں اور  جسدِ عنصری کے ساتھ ”عالَم ِبرزخ “ میں ان کو حیات حاصل ہے اور حیاتِ دنیوی کے مماثل ہے، صرف یہ ہے کہ احکامِ شرعیہ کے وہ مکّلف نہیں ہیں ، لیکن وہ نماز بھی پڑھتے ہیں اور روضۂ اقدس میں جو درود پڑھا جاوے بلاواسطہ سنتے ہیں اور یہی جمہور محدثین ا ورمتکلمین اہلِ سنت والجماعت کا مسلک ہے۔اکابرِ  دیوبند کے مختلف رسائل میں یہ تصریحات موجود ہیں، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی تو مستقل تصنیف حیاتِ انبیاء (علیہم الصلوٰۃوالسلام) پر’’ آبِ  حیات‘‘ کے نام سے موجود ہے،  حضرت مولاناخلیل احمد صاحب  رحمہ اللہ جو حضرت مولانارشیداحمدگنگوہی رحمہ اللہ کے ارشدخلفاء میں سے ہیں ان کا رسالہ ’’المهنّدعلى المفنّد‘‘ بھی اہلِ انصاف اور اہلِ بصیرت کے لیے کافی ہے۔اب جو اس مسلک کے خلاف دعویٰ کرے، اتنی بات یقینی ہے کہ ان کا اکابر دیوبند کے مسلک سے کوئی واسطہ نہیں۔ وَاللّٰهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ."

  ۱: مولانا محمدیوسف بنوری ، مدرسہ عربیہ اسلامیہ کراچی

۲: مولانا عبدالحق ،مہتمم دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک

۳: مولانا محمدصادق، سابق ناظم محکمہ امور مذہبیہ ، بہاولپور

۴: مولانا ظفر احمد عثمانی ، شیخ الحدیث دارالعلوم اسلامیہ ٹنڈو الٰہ یار، سندھ 

۵: مولاناشمس الحق ، صدروفاق المدارس العربیہ

۶: مولانامحمد ادریس ، شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ ،لاہور

۷: مولانامفتی محمدحسن ،مہتمم جامعہ اشرفیہ،لاہور

۸: مولانا رسول خان ، جامعہ اشرفیہ ،نیلاگنبد ،لاہور

۹: مولانا مفتی محمدشفیع ،مہتمم دارالعلوم کراچی 

۱۰: مولانا احمد علی، امیر نظام العلماء، امیر خدام ا لدین، لاہور۔

ان نصوص وروایاتِ  مذکورہ ، اور آثارِ  صحابہ، وروایاتِ  فقہیہ ومحدثینِ  کرام کے اقوال ومفتیانِ  کرام کے فتوے کے بعد بھی اگر کسی بندہ کو ”حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم“  بلکہ ”حیاتِ  انبیاء“  پر کسی قسم کا شبہ رہتا ہے تو یہ نہایت ہی بدقسمتی کی بات ہے،  ایسے آدمی کو اپنے ایمان وعقیدہ کی اصلاح ضروری ہے، ایک طرف تو اہلِ سنت والجماعت، خاص کر علمائے دیوبند سے ہونے کا دعویٰ، دوسری طرف ان کے متفقہ اور مجمع علیہ عقیدہ ومسلک سے انحراف، یہ کیا ہے؟

ایسے حضرات سے ہماری گزارش ہے کہ خدارا اپنے اکابرعلمائے دیوبند کے مسلک کو اپنائیں، بدعقیدگی اور گم راہی اور بدعت سے توبہ اور رجوع فرمائیں، اللہ غفور رحیم ہے،ورنہ خطرۂ ایمان، بلکہ سوئے خاتمہ کا اندیشہ ہے۔   اللہ ہمیں اور سب دینی علماء وخطباء، خواص وعوام کو اس قسم کے فتنوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین! صلّى اللّٰه علیه و سلّم تسلیماً كثیرًا كثیرًا عدد خلقه وزنة عرشه ورضا نفسه و عد دكلماته!   

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200748

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں