بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

حیاتِ انبیاء سے متعلق علمائے دیوبند کا موقف


سوال

حیات انبیاء دنیوی ہے یا برزخی ہے؟ اس سلسلہ میں علمائے دیوبند کا متفقہ موقف کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جواب سے پہلے تمہید کے طور پر حیات برزخی اور حیات دنیوی کا مطلب بیان کیا جاتا ہے، تا کہ جواب سمجھنے میں آسانی ہو۔

حیاتِ برزخی  کا مطلب:

مرنے کے وقت سے لے کر قیامت کے دن تک کے وقت کو عالمِ برزخ کہا جاتا ہے،یہ عالمِ دنیا اور عالمِ آخرت دونوں کے درمیان ایک مستقل عالم ہے ،جس کے اپنے مستقل حالات اور احکام ہیں ، جس میں آڑ اور پہاڑ نہیں ہے،اور حیاتِ برزخی کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کرام  علیہم السلام اس دنیا سے  جانے کے بعد بھی دنیا والے انہی اجسام کے ساتھ عالمِ برزخ میں زندہ ہیں،یعنی انہیں برزخی حیات حاصل ہے،البتہ  قبورِ مطہرہ کی اس حیات کا مدار دنیا کے مادی رزق پر نہیں، بلکہ برزخ کے روحانی رزق پر ہے۔

حیاتِ دنیوی کا مطلب:

حیاتِ دنیوی (جسے حیاتِ جسمانی سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے) کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام پر موت ہی واقع نہیں ہوئی، یا دنیاوی سے علی الاطلاق دنیاوی زندگی مراد نہیں ہوتی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے   کہ  انہیں عالمِ برزخ میں جو حیات حاصل ہے وہ اُسی دنیا والے مبارک جسموں کے ساتھ ہےجو دنیا میں ان کے تھےاور جسےِ ان کی قبور  ِ مطہرہ میں دفن کیا گیا تھااورانہی اجسادِ مطہرہ کے ساتھ وہ عبادات  وغیرہ میں مشغول ہیں اور ان کے لیے وہ حیات بلا شبہ حسی ہے۔

    انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات  برزخی اور دنیاوی دونوں ہیں،عالمِ برزخ میں ہونے کی وجہ سے برزخی حیات اور دنیا والے جسموں میں ہونے کی وجہ سے دنیاوی حیات کی طرح ہے  اور کسی ایک حیات کے ذکر  سے دوسری حیات کی نفی لازم نہیں آتی،لہٰذا  حیاتِ انبیاء کے سلسلے میں جہاں  برزخی حیات کا تذکرہ ہےوہاں اس  کے ساتھ دنیوی حیات بھی مرادہے ،اسی طرح جہاں دنیوی حیات کاذکر موجود ہے وہاں برزخی حیات بھی مقصود ہے اور   جہاں کہیں دنیاوی حیات کی نفی کا تذکرہ ہے اس سے مراد  علی الاطلاق دنیاوی حیات ہے ،یعنی برزخ میں ان کی حیات  بعینہ سابقہ دنیاوی حیات  نہیں ہے۔

اور جہاں تک   انبیاء علیہم الصلوٰۃ  والسلام  کی حیات کےعقیدے کی بات ہےتووہ نصوصِ   قرآنیہ ،احادیثِ مبارکہ ، آثار کثیرہ سے ثابت ہے،باتفاقِ علماءِ اہلِ سنت والجماعت انبیاء علیہم السلام کی ارواح کا تعلق اورربط اپنے اجسادعنصریہ کے ساتھ  دنیوی  حیات کی طرح ہے، اور وہ اپنی قبروں میں دنیوی حیات  کی طرح زندہ ہیں، بلکہ ان کی حیات دنیوی حیات سے بھی قوی تر ہے، فرق صرف یہ ہے کہ دنیوی حیات کو ہم محسوس کرسکتے ہیں، اوربعدازوفات حیات کو ہم محسوس نہیں کرپاتے، لیکن نصوص وروایات سے جب معلوم ہوگیا ہے کہ وہ زندہ اور حیات ہیں، اگرچہ ہم محسوس نہیں کرپاتے، تو ا س پر ایمان وعقیدہ رکھنا ضروری اور واجب ہے۔

اور انبیاء کی حیات ہمارے شعور میں نہ آنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا شعور فانی ہے اور ہمارا یہ فانی شعور اللہ تعالیٰ نے ہمیں فانی  اور عارضی حیات ہی کے لیے عطا فرمایا ہے اور انبیاء علیہم السلام کو موت کے بعد جو حیات عطا فرمائی گئی ہے وہ حیاتِ دائمی ہے اور یہ فانی شعور اس دائمی اور باقی رہنے والی حیات کا ادراک اور احساس نہیں کرسکتا،اب اگر اس فانی اور عارضی حیات میں رہتے ہوۓ وہ کامل اور دائمی حیات ہمارے شعور میں نہیں آتی تو قصور ہمارے اِس فانی  شعور کا ہے نہ کہ اُس دائمی اور باقی رہنے والی حیات کا۔

اب ذیل میں  عقیدۂ حیات الانبیاء سے متعلق مسلکِ اہل سنت والجماعت علماءِ دیوبند کے اقوال و فتاویٰ نقل کیے جاتے ہیں، جس سے علماۓ دیوبند کی اس عقیدے سے وابستگی اور  اس  عقیدے سے متعلق مكمل،منقح اور واضح صورت سامنے آسکے گی۔
عقیدۂ حیات الانبیاء علماءِ دیوبند کی نظر میں:

المہند علی المفند جو  ہر اعتبار سےعلماۓ دیوبند کے  عقائد و نظریات کی مکمل اور متفقہ  ترجمان   ہے اور جس پر علماۓ دیوبند کا مکمل اعتماد ہے، اُس کتاب میں   اس سوال کا جواب  اس طرح مذکور ہے:

"السؤال الخامس: ما قولکم فی حیات النبی صلی اللّٰہ علیه وسلم فی قبرہ الشریف من ذلک أمر مخصوص أم مثل سائر المسلمین رحمة اﷲ علیهم حیوۃ برزخیة؟"

ترجمہ: کیا فرماتے ہو، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریفہ میں حیات کے متعلق کہ کوئی خاص حیات آپ کو حاصل ہے یا تمام مسلمانوں کی طرح برزخی حیات ہے؟

1: الجواب: عندنا وعند مشائخنا حضرة الرّسالة صلّی اللّٰہ علیه وسلّم حي في قبرہ الشریف، وحیاته صلی اللّٰہ علیه وسلّم دنیویة من غیر تکلیف وهي مختصة به صلّی اللّٰہ علیه وسلم، وبجمیع الأنبیاء صلوات اللّٰہ علیهم، والشهداء لا برزخیة کما هي حاصلة لسائر المسلمین، بل لجمیع الناس کما نص علیه العلامة السیوطي في رسالته"إنباء الأذکیاء بحیاة الأنبیاء"حیث قال: قال الشیخ تقي الدین السبکي: حیاة الأنبیاء والشهداء في القبر کحیاتهم في الدنیا ویشد له صلاة موسی علیه السلام في قبرہ؛ فإن الصلاة تستدعي جسدا حیا إلی آخر ما قال: فثبت بهذا أن حیاته دنیویة برزخیة لکونها في عالم الأرواح ولشيخنا شمس الإسلام و الدين محمد قاسم العلوم علي المستفيدين قدس الله سره العزيز في هذا المبحث رسالة مستقلة دقيقة المأخذ بديعة المسلك لم ير مثلها قد طبعت وشاعت في الناس وإسمها "آبِ حيات" أي ماء الحيوٰة."

1: ترجمہ:"ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر (مبارک) میں زندہ ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات دنیاکی سی ہے، بلامکلف ہونے کے اور حیات مخصوص ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء علیہم السلام اور شہداء کے ساتھ، اور ویسی (حیات) برزخی نہیں ہے جو تمام مسلمانوں بلکہ تمام آدمیوں کو حاصل ہے، چناں چہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ "انباء الأذکیا فی حیٰوۃ الأنبیاء" میں بہ تصریح لکھا ہے کہ علامہ تقی الدین سُبکی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ انبیاء و شہدا ء کی قبر میں حیات ایسی ہے جیسی دنیا میں تھی اور موسیٰ علیہ السلام کا اپنی قبر میں نماز پڑھنا اس کی دلیل ہے، کیونکہ نماز زندہ کو چاہتی ہے، بس اس سے ثابت ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات دنیوی ہے اور اس معنی میں برزخی بھی ہے کہ عالمِ برزخ میں حاصل ہے، اور ہمارے شیخ مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب قدس سرہؒ کا اس مبحث میں ایک مستقل رسالہ ہے، جس کا نام "آبِ حیات ہے، جو نہایت دقیق اور انوکھے طرز کا بے مثل ہے، جو طبع ہو کر شائع ہو چکا ہے۔"

(المہند علی المفند، ص:34،35، ،ناشر:نفیس منزل،لاہور)

2: شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن رحمۃ   اللہ علیہ المہند کے اِس  سابقہ سوال کے  جواب كےبارے میں فرماتے ہیں:

" یہی ہمارا  اور ہمارے  جملہ مشائخ کا عقیدہ ہے ، اس میں کچھ شک نہیں۔"

( المہند، ص: 84،85)

3: حضرت شاہ عبدالرحیم رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"جو کچھ اس رسالہ( المہند) میں لکھا ہے، حق ،صحیح (ہے) اور کتابوں میں بھی نصِ صریح کے ساتھ موجود ہے، اور یہی میرا اور میرے مشائخ کا عقیدہ ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس عقیدہ کے ساتھ زندہ رکھے اور اسی پر موت دے۔"

( المہند، ص: 88)

4: مفتی رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"مگر انبیاء علیم السلام کے سماع میں کسی  کو اختلاف نہیں ہے۔"( فتاوی رشیدیہ،ج:ا،ص:220،طباعت:المکتبۃ الحنفیۃ) اور چوں کہ سماع بغیر حیات کے نہیں ہوتا اس لیے معلوم ہوا کہ حیات میں بھی کسی کو اختلاف نہیں۔

5:حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ  علیہ فرماتے ہیں:

" یرید لقوله الأنبیاء أحیاء مجموع الأشخاص لا الأرواح فقط۔"
ترجمہ:" آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد (کے بموجب) انبیاء علیہم السلام کے زندہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ فقط ان کی ارواح زندہ ہیں، بلکہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام روح و بدن کے مجموعے کے ساتھ زندہ ہیں۔"

(  تسکین الاتقیاء فی حیٰوۃ الانبیاء،ص:86،طباعت:جامعہ امدادیہ )

6:حضرت مولانا شمس الحق افغانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"تمام حضراتِ انبیاء  اپنے جسم اور روح دونوں کے ساتھ زندہ ہیں اور ذکر اللہ میں بھی مشغول ہیں،حدیث:"ألأنبياء أحياء في قبورهم يصلون" پیغمبر اپنی قبور میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں،گو عالمِ برزخ کی نماز کی شکل دنیاوی نماز کی طرح نہیں،یہ ایک عام عبادت ہے،لیکن  اس کا ہر مقام پر علیحدہ تعلق ہے۔"

( نکاتِ افغانی،ص300، طباعت:مکتبہ عمر فاروق ،پشاور)

7:مفتی مہدی حسن شاہ جہان پوری رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

"آنحضرتﷺاپنے مزار مبارک میں بجسدہ موجود ہیں  اور حیات ہیں،آپ کے مزارِ مبارک کے پاس کھڑے ہوکر جو سلام کرتا اور درود پڑھتا ہے آپ خود سنتے اور سلام کا جواب دیتے ہیں ،(اِس عالَم میں )ہمارے کان(میں قدرت ) نہیں کہ ہم (اُس عالَم کی بات )سنیں(الا ماشاء اللہ)،آپ اپنے مزار میں حیات ہیں،مزار مبارک کے ساتھ آپ کا خصوصی تعلق بجسدہ وروحہ ہے،جو اس کے خلاف کہتا ہے ،غلط کہتا ہے،وہ بدعتی ہے،خراب عقیدے والا ہے، اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے ،یہ عقیدہ صحیح نہیں ہے۔۔۔اس باب میں بکثرت احادیث وارد ہیں جن کا انکار نہیں کیاجاسکتا،جو انکار کرتا ہے،بدعتی اور خارج اہلِ سنت والجماعت ہے،غرض پڑھنے والے کو ثواب بھی پہنچتا ہے اور مزار مبارک کے قریب پڑھنے سے آپ سنتے بھی ہیں اور اپنے مزار مبارک میں بجسدہ موجود ہیں اور حیات ہیں۔"

مزید فرماتے ہیں:

"اہلِ سنت والجماعت متفق ہیں کہ انبیاء اپنی قبور میں حیات ہیں،ان کی ارواح کو ان کے اجسامِ مطہرہ سے خصوصی تعلق ہے، اس خصوصیت میں مخلوق میں سے کوئی ان کا شریک  وسہیم نہیں ہے،ان کی قبور پر سلام پڑھا جاۓ تو وہ خود سنتے ہیں اور جواب دیتے ہیں۔"

(  مقام حیات،ص:693،94،95،طباعت:دار المعارف)

8:حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

"حضرت ابو الدارداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ  تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کرام علیہم السلام کے جسد اطہر کو کھا سکے،پس خدا کے پیغمبر زندہ ہوتے ہیں ،ان کو رزق دیا جاتا ہے،روایت کیا اس کو ابن ماجہ نے۔ف: بس آپ کا زندہ رہنا بھی قبر شریف میں ثابت ہوا اور یہ رزق اس عالم کے مناسب ہوتا ہے۔"

( نشر الطیب،ص: 238،طباعت:مطبعہ انتظامی)

9: حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

" مدینہ منورہ کی حاضری جناب سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور آپ کے توسل کی غرض سے ہونی چاہیے، آپ کی حیات نہ صرف روحانی ہے جو کہ عام مؤمنین کو حاصل ہے بلکہ جسمانی بھی ہے اور از قبیل حیات دنیوی بلکہ بہت سے وجوہ سے اس سے قوی تر ہے۔"

(تسکین الاتقیاء فی حیٰوۃ الانبیاء، ص: 88،طباعت:جامعہ امدادیہ)

10: شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

" انبیاء علیہم السلام کی حیات فی القبر کے بارے میں میرا عقیدہ وہی ہے، جو اکابر علماءِ دیوبند کا ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں اسی جسدِ عنصری سے زندہ ہیں جو اس دنیا میں تھا۔ وہ حیات بہ اعتبار ابدان دنیوی بھی ہے اور بہ اعتبار برزخ برزخی بھی ہے۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا ابدان دنیوی کے ساتھ اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہونا اہل سنت والجماعت کا متفقہ اور اجماعی عقیدہ ہے اور ہمارے اکابر علماء دیوبند نے اس پر مدلل اور مفصل ارشادات ثبت فرمائے ہیں۔"

( مقام ِحیات،ص:697،طباعت:دار المعارف)


11:مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس سوال کا جواب یوں دیتے ہیں :

"انبیاء کرام صلوات اللہ علیہم اجمعین اپنی قبور میں زندہ ہیں،مگر ان کی زندگی دنیاوی زندگی نہیں ہے،بلکہ برزخی اور تمام دوسرے لوگوں کی زندگی سے ممتاز ہے۔"

( کفایت المفتی،ص:80،ج:1،طباعت:دارالاشاعت)

12:شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

" تمام اہل السنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام وفات کے بعد اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز و عبادات میں مشغول ہیں اور حضرات انبیاء علیہم السلام کی یہ برزخی حیات اگرچہ ہم کو محسوس نہیں ہوتی ،لیکن بلاشبہ یہ حیات حسّی اور جسمانی ہے، اس لیے کہ روحانی اور معنوی حیات تو عام مؤمنین بلکہ ارواحِ کفار کو بھی حاصل ہے۔"

(  سیرۃ المصطفیٰ، ص: 243، ج: 3،طباعت:کتب خانہ مظہری)

13: فتاوی محمودیہ میں مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اس سوال کا جواب اس طرح دیتے ہیں:

"سوال:حیاتِ انبیاء  علیہم السلام کے بارے میں  احادیث ِ صحیحہ  نے کیا فرمایا ہے؟کیا اسی قبر میں جہاں انبیاءعلیہم السلام  کے اجسام ِ مبارک دفن کیے گیے ہیں اسی دنیوی جسدِمبارکہ کے ساتھ اسی قبر میں زندہ ہیں؟ روح مبارک رفیقِ اعلی کے مقام میں ہے؟یا اسی جسدِ مبارک میں؟ احادیث میں انبیاء  علیہم السلام کا قبور میں نماز پڑھنے کا ذکر آیا ،کیا وہ نماز اسی جسدِ اطہر مبارک کے ساتھ پڑھتے ہیں ؟ یا کسی اور صورت میں تمثیلی ارواح سے؟۔۔۔

جواب: انبیاء علیہم السلام کے اجسامِ طیبہ کو مٹی نہیں کھاسکتی ، وہ محفوظ ہیں اور بیہقی میں ہے:

"عن أنس، رضي الله عنه ،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن‌‌ الأنبياء لا يتركون في قبورهم بعد أربعين ليلة ،ولكنهم يصلون بين يدي الله عز وجل حتى ينفخ في الصور». إن قوله قال البيهقي:فعلى هذا يصيرون كسائر الأحياء، يكونون حيث ينزلهم الله عز وجل."

اس سے معلوم ہوا کہ ان کا جسم بھی ان کی قبر میں چالیس روز سے زیادہ نہیں رکھا جاتا،بلکہ ان کو اٹھالیا جاتا ہے،خداۓ پاک جہاں چاہتے  ان کورکھتے ہیں،جب ان کا اصلی جسم موجود ہے تو جسمِ مثالی کی ضرورت نہیں،بلکہ یہی جسم ان کے ساتھ موجود ہے"۔۔۔

( فتاوی محمودیہ،ج:1،ص:533،34،35،طباعت:جامعہ فاروقیہ کراچی)

14:حضرت مولانا قاری طیب صاحب قاسمی ؒ  علماۓ دیوبند کی جانب سے  اس عقیدے کی جامع وضاحت کرتے ہوۓ رقم طراز ہیں:

"برزخ میں انبیاء علیہم السلام کی حیات کا مسئلہ مشہور و معروف اور جمہور علماء کا اجماعی مسئلہ ہے،علماء دیوبند حسبِ عقیدہ اہلِ سنت والجماعت برزخ میں انبیاء علیہم السلام کی حیات کے اس تفصیل سے قائل ہیں کہ نبی کریمﷺ اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام وفات کے بعد اپنی اپنی پاک قبروں میں  حیاتِ جسمانی کے ساتھ زندہ ہیں  اور ان کے اجسام کے ساتھ ان کی ارواحِ مبارکہ کا ویسا ہی تعلق ہے ،جیسا کہ دنیوی زندگی میں قائم تھا۔وہ عبادت میں مشغول ہیں ،نمازیں پڑھتے ہیں،انہیں رزق دیا جاتا ہے،اور وہ قبورِمبارکہ پر حاضر ہونے والوں کا  صلوٰۃ وسلام بھی سنتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ علماء دیوبند کا یہ عقیدہ(حیاتِ انبیاء) انہیں ان کے اسلاف سے بطور توارث کے ملا ہے،کوئی انفرادی راۓ یا وقتی اور ہنگامی فتوی نہیں ہےجو حوادث کے پیش آنے سے اتفاقاً سامنے آگیا ہو۔"

( خطباتِ حکیم الاسلام،ج:8،ص:224،طباعت:مکتبۃ العلم) 

15: مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ   اس عقیدے کی یوں وضاحت فرماتے ہیں:

"جمہور علماء امت کا عقیدہ اس مسئلہ میں یہی ہے کہ آنحضرتﷺ اور تمام انبیاء علیہم السلام برزخ میں جسدِ عنصری کے ساتھ زندہ ہیں،ان کی حیاتِ برزخی صرف روحانی نہیں،بلکہ جسمانی حیات ہے جو حیاتِ دنیوی کے بالکل مماثل ہے،بجز اس کے کہ وہ احکام کے مکلف نہیں ہیں،بلکہ کچھ آثار بعض دنیاوی احکام میں بھی باقی ہیں،مثلاً :میراث کا تقسیم نہ ہونا،ازواجِ مطہرات سے بعد وفات کسی کا نکاح جائز نہ ہونا۔۔۔خلاصہ یہ ہےکہ انبیاء علیہم السلام کی حیات بعد الموت حقیقی جسمانی مثل حیاتِ دنیوی کے ہے،جمہور علماء امت کا  یہی عقیدہ ہے  اور یہی عقیدہ میرا اور بزرگانِ دیوبند کا ہے۔"

( مقام حیات،ص:691،92،92،طباعت:دار المعارف)

 مذکورہ بالا سطور میں علماۓ دیوبند کے  نزدیک عقیدۂ حیات الانبیاء  کی اہمیت ،اس کی حیثیت اور اس عقیدے سے متعلق ان کے  متفقہ موقف وضاحت کے ساتھ نقل کیا گیا ہے، تا کہ کسی قسم کی تشنگی باقی نہ رہے، تاہم مزید تفصیل چاہیے تو مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ کیا جائے۔

(1)معارف القرآن،مفتی شفیع صاحبؒ، سورۃ البقرۃ،ج:1،ص:395 تا 399،طباعت:مکتبہ معارف القرآن کراچی۔

(2)تسکین الصدور،مولانا سرفراز صفدر صاحبؒ۔

(3) مقامِ حیات،ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب ؒ۔

(4)  فتاوی بینات،کتاب العقائد،مسئلہ حیات النبی،ج:1،ص:585 تا 735،طباعت:مکتبہ بینات۔

نیز    اس موضوع سے متعلق جامعہ بنوری ٹاؤن کا تفصیلی فتوی اس لنک پر بھی ملاحظہ فرمائیں:

حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حیات انبیاء علیہم السلام سے متعلق اہل سنت والجماعت کا عقیدہ

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411100992

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں