بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

گاؤں میں اسی (80 ) گھر ہوں تو جمعہ کا حکم


سوال

نماز جمعہ کے بارے میں بتائیں  ایک علاقے میں تقريبًا 80 سے زائد گھر ہیں تو اس میں نماز جمعہ ہوتا ہے؟

جواب

جمعہ  کی جماعت صحیح ہونےکی شرائط میں سےشہر یا ایسے بڑے قصبے کا ہونا ضروری ہے، جہاں تمام ضروریاتِ  زندگی بآسانی دست یاب ہوں، ہسپتال، ڈاک خانہ، تھانہ وغیرہ کا انتظام ہو، چنانچہ جس گاؤں میں مذکورہ شرائط نہ پائیں جاتی ہوں وہاں  نمازِ جمعہ  کی جماعت قائم کرنا جائز نہیں ہے، ایسے گاؤں میں جمعہ کےدن ظہرکی نماز پڑھی جائے گی، آبادی کی کثرت یا قلت پربراہِ راست اس کا مدارنہیں ہے، تاہم اکابر نے فتاویٰ میں کم و بیش جس آبادی کا ذکر کیا ہے اس کے مطابق ڈھائی ہزار یا اس سے زیادہ افراد پر مشتمل آبادی کو بستی کہا جاسکتاہے، لہٰذا بصورتِ مسئولہ اگر  ذکرکردہ تفصیل کےمطابق مذکورہ گاؤں میں سہولیات اور آبادی نہیں ہےتواس گاؤں میں جمعہ کےدن ظہرکی نماز پڑھی جائے گی۔

البتہ اگر کسی جگہ اقامتِ  جمعہ  کی شرائط موجود نہ ہونے کے باوجود پہلے سے جمعہ  کی جماعت ہوتی چلی آرہی ہو اور اب اسے بند کروانے سے شدید فتنے کا اندیشہ ہو تو پھر اس کو باقی رہنے دینا چاہیے، لیکن ایسی کسی جگہ پر جمعہ  کی نئی جماعت قائم نہیں کرنی چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک دیکھیے:

گاؤں میں جمعہ کا حکم

جس گاؤں میں جمعہ کی شرائط پوری نہ ہوں وہاں جمعہ و عیدین کی جماعت کروانے کا حکم

جس گاؤں میں پہلے سے جمعہ ہورہا ہو وہاں جمعہ پڑھیں یا ظہر؟


فتوی نمبر : 144201201133

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں