بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

گاؤں میں جمعہ کا حکم


سوال

جمعہ کی نماز اگر کسی گاؤں میں شروع کرنا ہے تو اس کی کیا شرائط  ہیں ؟

جواب

جمعہ  کی جماعت صحیح ہونےکی شرائط میں سےشہر یا ایسے بڑے قصبے کا ہونا ضروری ہے، جہاں بنیادی ضروریاتِ  زندگی بآسانی دست یاب ہوں، ہسپتال، ڈاک خانہ، تھانہ وغیرہ کا انتظام ہو، چنانچہ جس گاؤں میں مذکورہ شرائط نہ پائیں جاتی ہوں وہاں  نمازِ جمعہ  کی جماعت قائم کرنا جائز نہیں ہے، ایسے گاؤں میں جمعہ کےدن ظہر کی نماز پڑھی جائے گی، آبادی کی کثرت یا قلت پربراہِ راست اس کا مدارنہیں ہے، تاہم اکابر نے فتاویٰ میں کم و بیش جس آبادی کا ذکر کیا ہے اس کے مطابق ڈھائی ہزار یا اس سے زیادہ افراد پر مشتمل آبادی کو بستی کہا جاسکتاہے، لہٰذا بصورتِ مسئولہ اگر  ذکرکردہ تفصیل کےمطابق مذکورہ گاؤں میں سہولیات اور آبادی نہیں ہےتواس گاؤں میں جمعہ کےدن ظہرکی نماز پڑھی جائے گی۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک دیکھیے:

گاؤں میں جمعہ کا حکم

جس گاؤں میں جمعہ کی شرائط پوری نہ ہوں وہاں جمعہ و عیدین کی جماعت کروانے کا حکم

جس گاؤں میں پہلے سے جمعہ ہورہا ہو وہاں جمعہ پڑھیں یا ظہر؟

بدائع الصنائع میں ہے:

"عن أبي حنيفة رحمه الله: أنه بلدة كبيره فيها سكك وأسواق ولها رساتيق، وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم مجشمته وعلمه أو علم غيره، والناس يرجعون إليه فيما يقع من الحوادث، وهذا هو الأصح".  (ج: 2، ص: 260، ط: سعيد)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"و تقع فرضاً في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنها لاتجوز في الصغيرة."

(ج: 1، ص: 537، ط: سعيد)

وفيه أيضًا:

"لاتجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض و منبر و خطيب، كذا في المضمرات."

(ج: 2، ص: 138، ط: سعيد)

اعلاء السنن میں ہے:

"عن علي أنه قال: لا جمعة ولا تشريق إلا في مصر". (ج: 8، ص1، إدارة القرآن)

کفایت المفتی میں ہے:

’’جاری شدہ جمعہ کو بند نہ کیا جائے،  جاری رکھا جائے، اور سب لوگوں کو لازم ہے کہ اتفاق سے رہیں،  آپس میں اختلاف کرنا بہت  برا ہے۔

قلت: وهذا وإن كان غير موافقة لما عليه الحنفية، ولكنه أشد مرافقة لمصالح الإسلامية الاجتماعية خصوصًا في هذا القطر، وفي هذا الزمان فإن أعداء الإسلام يظفرون بمقاصدهم المشومة في القرى لاتقام فيها الجمعة ويخيبون في مواضع إقامة الجمعة، والتوفيق من الله عز وجل وحفاظة الإسلام خير من الأصرار على تركها والمسألة مجتهد فيها‘‘.  (ج:3، ص: 205 ط: حقانيه)

وفيه أيضًا:

’’جو بستی بڑی ہو اور وہاں کم از کم دو بڑی مسجدیں ہوں یا وہاں ضروری سامان مل جاتا ہو، اس میں جمعہ پڑھانا چاہیے، ظہر احتیاطی کوئی چیز نہیں ہے، جمعہ پڑھیں یا ظہر پڑھیں دونوں پڑھنا صحیح نہیں ہے‘‘۔

  (ج:3، ص:194، ط: حقانیہ)

فیض الباری میں ہے:

’’و اعلم أن القرية والمصر من الأشياء العرفية التي لاتكاد تنضبط بحال و إن نص، و لهذا ترك الفقهاء المصر على العرف".

(باب الجمعة ج:2، ص:229، ديوبند)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144209202325

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں