بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

(FTMO)کمپنی میں کاروبار کرنے کا حکم


سوال

ایک ادارہ ہے(FTMO) یہاں آپ ایک بامعاوضہ چیلنج لے سکتے ہیں ،اور فاریکس، کرپٹو، انڈیکس اور اسٹاکس کی تجارت کی جا سکتی ہے، یہ ادارہ اپنی فيس کے مطابق آپ کو(10ہزار سے ایک لاکھ تک)رقم مہیا کرتی ہے، جو کے حقیقی سرمایہ نہیں ہوتا، آپ کو پہلےدو مرحلوں میں دی گئی رقم، نیچے بیان کیے گئے ذرائع اور چند شرائط کی پابندی کے ساتھ، استعمال کر کے منافع کمانا ہوتا ہے، شرائط یہ ہیں: 1۔کم سے کم 2دن ٹریڈ لینی ہیں۔

2۔ روزانہ کا نقصان 5000 سے زیادہ نہ ہو۔

3۔کل نقصان 10000 سے زیادہ نہیں ہو۔

4۔منافع کم سے کم 5000 ہو۔

شرائط نہ پوری ہونے کی صورت میں آپ کی ادا کردہ فیس واپس نہیں ہوگی، اور مزید ٹریڈنگ  نہیں کر سکیں گے، پہلے مرحلے میں 10٪ اور دوسرے مرحلے میں اگر 5٪ کا منافع کمایا تو تیسرا مرحلے کا منافع کمپنی اور میرے درمیان ۱۰ : ۹۰ تقسیمِ ہوجائے گا ،تیسرے مرحلے میں جو ٹریڈنگ ہوگی ،وہ وہی فرضی رقم استعمال کر کے کی جائے گی ،مگر اگر اس میں بھی کامیابی ہوئی، تو منافع اصلی رقم ہوگی جو میرےبینک میں منتقل کر دی جائےگی ،مزید یہ کہ اس کے ساتھ اکاؤنٹ حاصل کرنے کے لیے ادا کی فیس بھی واپس کر دی جائےگی۔

مذکور بالا کمپنی کئی مُختلف ذرائع سے آمدنی حاصل کرتی ہے جن میں سے ایک ذریعہ وہ رقوم ہیں جو لوگوں نے اِس اکاؤنٹ کے حصول کی مد میں ادا کی  گئی فیس سے حاصل ہوتی ہے،کمپنی میرے اور باقی افراد کے ٹریڈنگ طریقہ کار اور تمام حرکات سے واقف بھی ہوں گی جس کو اگر وہ چاہیں تو استعمال کر کے مزید منافع بھی کما سکتی ہیں، مگر معاہدے کے تحت ایسی کوئی معلومات ہمیں نہیں دی جائیں گی۔

مزید یہ مسلمانوں کے لیے ایسے اکاؤنٹ مہیا کیے جاتے ہیں جن میں حرام ذرائع جیسے کہ سود،سٹہ ،leverage، swap وغیرہ شامل نہیں ہوتے۔مزید یہ تمام کی تمام ٹریڈنگ حقیقی انداز میں ہوگی مگر رقم فرضی ہی ہوگی۔

کیا مذکور بالا طریقے سے منافع کمانا ٹھیک ہے ؟ اگر حلال نہیں ہے تو تفصیلی جواب ضرور دیجئے کہ جن بنیادوں پے حرام ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کمپنی میں ( فاریکس، کریپٹو، انڈیکس )کے طور پر کاروبار کرنا اور اس سے منافع کمانا جائز نہیں ہے۔

تفصیلات کے لیے جامعہ کے درجِ ذیل جاری شدہ فتاویٰ دیکھ لیے جائیں :

فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

کرپٹو کرنسی اور اس کے کاروبار کا حکم

اسٹاک  ایکسچینج  میں سرمایہ کاری کا حکم :

اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنا  نہ تو مطلقًا حرام ہے، اور  نہ  ہی مطلقًا جائز ہے، اگر حصص کی خرید و فرخت کے وقت درج ذیل  شرائط کی پاس داری کرتے ہوئے  سرمایہ کاری کی جائے تو یہ سرمایہ کاری جائز ہوگی:

1-  حقیقی کمپنی کے شیئرز کی خریداری کی جائے، ورچوئل  کمپنی کے شیئرز کی خریداری نہ کی جائے۔

2-   حلال  سرمایہ  والی کمپنی کے شیئرز خریدے جائیں، بینک یا حرام کاروبار کرنے والے اداروں کے شیئرز کی خریداری نہ ہو۔

3-   کمپنی نے بینک سے سودی قرضہ نہ لیا ہو۔

4-  کمپنی  کا کاروبار حلال ہو۔

5-    اس کمپنی کے کل اثاثے نقد کی شکل میں نہ ہوں، بلکہ اس کمپنی کی ملکیت میں جامد اثاثے بھی موجود ہوں۔

6-  کمپنی کا کل یا کم از کم اکثر سرمایہ حلال ہو۔

7-  شیئرز کی خرید و فروخت میں، خرید و فروخت کی تمام شرائط کی پابندی ہو۔

8-   کمپنی حاصل شدہ منافع کل کا کل شیئرز ہولڈرز میں تقسیم کرتی ہو۔

9-  شیئرز  اور اس کی قیمت کی ادائیگی  دونوں ادھار نہ ہو۔

10-  شیئرز کی خرید و فروخت میں جوے کی صورت نہ ہو۔

مزید تفصیلات کے لیے ذیل میں دئیے گئے لنک  کوملاحظہ کریں :

اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنا / شیئرز کی خرید و فروخت / ذخیرہ اندوزی کرنا

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144503102834

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں